ترکی اور آذربائیجان کا مسئلہ کشمیر پر کھل کر پاکستان کی حمایت کا اعلان

ویب ڈیسک: پاکستان،ترکی اور آذربائیجان کے وزرائے خارجہ کا مشترکہ اعلامیے پر دستخط

وزارتِ خارجہ میں پاکستان، ترکی اور آذربائیجان کے درمیان دوسرے سہ ملکی مذاکرات-

وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کا اس موقع پر کہنا تھا کہ پاکستان کے ترکی اور آذربائیجان کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں،سیکیورٹی،عوامی روابط،تذویراتی اور سیاسی تعلقات کے فروغ پر بات ہوئی،تجارت،سرمایہ کاری، مواصلات کے فروغ پر بھی بات ہوئی،پاکستان اور کشمیری عوام مسئلہ کشمیر پر ترکی اور آذربائیجان کی حمایت کے شکرگزار ہیں،تینوں ملکوں نے اپنے اپنے علاقوں میں امن واستحکام کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا،دنیا بھر میں اسلامو فوبیا کا مقابلہ کرنے کیلئے تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال ہوا،ترکی اور آذربائیجان کے ہم منصبوں کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا.

ترک وزیرخارجہ میولوت چاوش کا پریس بریفنگ میں کہنا تھا کہ پاکستان کے دورے پر بہت مسرت ہے،ترک قیادت اور عوام کے دلوں میں پاکستان اور پاکستانیوں کا خاص مقام ہے،مذاکرات کے کامیاب انعقاداور شاندار استقبال پر پاکستان کے مشکور ہیں،ہمارے ملکوں میں مجموعی تجارتی حجم صرف 80کروڑ ڈالر ہے،پاکستان کے ساتھ دفاعی میدان میں بھی تعاون بڑھا رہے ہیں،تینوں ملکوں میں تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے وسیع مواقع ہیں،پاکستان میں 83پاک ترک معارف اسکول معیاری تعلیم فراہم کررہے ہیں،سہ ملکی مذاکرات کا تیسرا دور ترکی میں ہوگا،مذاکرات میں نگورنوکاراباخ،قبرص اور مسئلہ کشمیر پر بات ہوئی،عالمی طور پر متنازع خطے کی یکطرفہ جغرافیائی حیثیت نہیں بدلی جاسکتی،ترکی کشمیر کے مسئلے پر کسی بھی یکطرفہ اقدامات کے خلاف ہے.

وزیرخارجہ آذربائیجان جیہون بیراموف اس موقع پر کہنا تھا کہ کاراباخ کے معاملے پر پاکستان اور ترکی کے اصولی موقف کو سراہتے ہیں،عالمی سطح پر برابری کی بنیاد پر تعلقات کے حق میں ہیں،پاکستان اور ترکی نے آرمینیا کی جارحیت کی کھل کر مخالفت کی،اسلاموفوبیا،بیرونی جارحیت،غیرقانونی قبضے اور دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں.