دل نااُمید تو نہیں ناکام ہی تو ہے

دل نااُمید تو نہیں ناکام ہی تو ہےانسانی زندگی میں رویوں کی بڑی اہمیت ہوتی ہے، اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں اسی سے آپ کی شخصیت کی قدر وقیمت یا کمزوری کا تعین ہوتا ہے۔ رویّے آپ کی دماغی صحت میں بھی بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں، ماہرین نفسیات ایک مضبوط اور تندرست ذہن کیلئے چند عادات اور رویوں کو بڑا ضروری سمجھتے ہیں۔ سب سے پہلی بات تو آپ کا مثبت رویہ ہے، ہمیشہ تصویر کے روشن پہلو کو دیکھنا چاہیے، نفرت کا جواب نفرت نہیں بلکہ محبت سے دینا چاہیے۔ محبت کرنے والے، بغض، نفرت اور حسد سے بچنے والے ہمیشہ پرسکون رہتے ہیں۔ دماغی صحت کیلئے یہ بہت ضروری ہے کہ آپ غیر ضروری باتوں پر اپنے لیے مشکلات پیدا نہ کریں، اپنی زندگی کو پیچیدگیوں سے بچا کر رکھیں۔ اینٹ کا جواب پتھر سے دینے والے ہمیشہ پریشانیوں اور دشمنیوں میں گھرے رہتے ہیں۔ کسی دانشور کا کہنا ہے کہ اگر کوئی آپ پر کیچڑ اُچھالے تو آپ کپڑے جھاڑ کے اپنی راہ لیں، اگر آپ بھی جوابی حملے کے طور پر کیچڑ اُچھالنے کی کوشش کریں گے تو اس میں تین نقصانات ہیں، آپ کا وقت ضائع ہوگا اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کا نشانہ خطا ہوجائے لیکن آپ کے ہاتھ ضرور گندے ہوجائیں گے۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ زندگی اتنی مختصر ہے کہ محبت کیلئے بھی وقت نکالنا مشکل ہے نجانے لوگ نفرتوں کیلئے کیسے وقت نکال لیتے ہیں؟ زندگی اس وقت بھی خوبصورت ہوجاتی ہے جب آپ اپنے اردگرد موجود لوگوں کا نکتۂ نظر سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ان کے مسائل میں دلچسپی لیتے ہیں، نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کیساتھ تعاون کرتے ہیں، ہمارے یہاں بہت سے بحث مباحثے ایسے ہوتے ہیں جن میں مخاطب کی بات کو سننے کی کوشش ہی نہیں کی جاتی بلکہ عموماً یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی اپنا مؤقف پیش کر رہا ہو تو اس کا مخاطب اس کی بات سننے کی بجائے اس کے رکنے کا انتظار کر رہا ہوتا ہے، کہ جیسے ہی یہ خاموش ہو تو اسے ایک زبردست قسم کا کرارا جواب دے۔ اب آپ خود سوچیے اس طرح مسئلہ حل ہونے کی بجائے مزید اُلجھتا چلا جاتا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ انسان غلطی کا پتلا ہے اس لئے اپنی غلطیوں سے سیکھتے رہنا چاہئے جو لوگ اپنی غلطیاں دہراتے رہتے ہیں وہ ہمیشہ نقصان ہی اُٹھاتے ہیں، اپنی غلطیوں سے سیکھنے والے اپنے رویّے اور عادات میں بہتری لانے کی وجہ سے اپنی شخصیت کو دیدہ زیب بنانے میں کامیاب رہتے ہیں۔ اوپر بیان کی گئی سب باتوں کا تعلق ذہن کیساتھ ہے جو لوگ اپنے ذہن کی تربیت کرتے رہتے ہیں وہ اسے ایک مفید آلے کے طور پر استعمال کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ دماغی صحت کیلیے لوگوں کیساتھ رابطے میں رہنا بہت ضروری ہے۔ کہتے ہیں آدھی عقل لوگوں کیساتھ میل ملاپ رکھنے میں ہے، اس طرح انسان اپنے ملنے جلنے والوں کی خوشی غمی میں شامل ہوتا رہتا ہے، ایک دوسرے کے حالات سے باخبر رہنے سے بھی انسان کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ دوسروں کی پریشانیاں اور مسائل سن کر بندے کو اپنا غم بھول جاتا ہے، اسے اس بات کی سمجھ آتی ہے کہ دنیا میں نشیب وفراز چلتے رہتے ہیں جب حالات اچھے ہوں تو رب کریم کا شکریہ ادا کرتے رہنا چاہیے اور جب برے دن آئیں تو زبان کو نہ صرف گلے شکوے سے محفوظ رکھا جائے بلکہ صبر سے کام لیا جائے۔ کچھ لوگ صرف اور صرف اپنے مزاج کی وجہ سے سدا کے اُداس ہوتے ہیں، وہ ہمیشہ تصویر کا تاریک رخ ہی دیکھتے ہیں، وہ اپنی پریشانیوں کو بار بار دہراتے رہتے ہیں اور اپنی رونی صورت سے پوری محفل کو اُداس کر دیتے ہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں کو شمار کرتے رہتے ہیں، اللہ کریم کی ذات سے اُمید لگائے رکھتے ہیں اگر کبھی کسی پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑے تو ان کی توجہ اپنے خالق سے نہیں ہٹتی، وہ اکثر یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ جس نے غم بھیجا ہے وہی اس کا مداوا بھی کرے گا اور پھر ہر تکلیف کے بعد راحت ہے۔
دل نااُمید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
اپنی ذات میں دلچسپی لینے والے لوگ بھی دماغی طور پر ہمیشہ صحت مند رہتے ہیں وہ اپنے من میں ڈوب کر غوطہ لگانے کا فن جانتے ہیں، نفسیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے لوگ اپنی ذات سے باخبر ی کی وجہ سے اپنی صلاحیتوں سے نہ صرف باخبر رہتے ہیں بلکہ انہیں مزید نکھارتے بھی رہتے ہیں۔ اپنی صلاحیتوں کی دریافت کا عمل یقینا ایک مثبت اور مفید عمل ہے، ایسے لوگ مصروف رہتے ہیں اور یہ بڑی مفید مصروفیت ہے۔ عمر کا وہی حصہ مفید ہوتا ہے جو دوسروں کے کام آنے میں صرف ہو، جس میں دوسروں کے دکھ درد مٹائے جائیں، لوگوں کیلئے آسانیاں پیدا کی جائیں، آپ کی ذات اپنے بہن بھائیوں، دوستوں، رشتہ داروں اور پڑوسیوں کیلئے مفید ہو، درحقیقت یہی وہ زندگی ہے جس پر فخر کیا جاسکتا ہے۔ ایسی زندگی کی مثال ایسی ہے جیسے آپ دورانِ سفر خوبصورت پھول پودے اُگاتے چلے جائیں اور پھر جب کبھی پیچھے مڑ کر دیکھنے کا موقع ملتا ہے تو دل اطمینان و سکون کی دولت سے بھر جاتا ہے اور اپنے ہاتھوں سے لگایا ہوا باغ باعث طمانیت ہوتا ہے۔