عمران خان کو تو جانا ہی جانا ہے،آج لوگ کہہ رہےہیں کہ پرانے چوروں کوواپس لاؤ، تاکہ روٹی تو ملے-مولانا فضل الرحمان

ویب ڈیسک: لورا لائی بلوچستان: سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان کا خطاب،

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ‏یہ اجتماع دھاندلی کی حکومت کو مسترد کرتی ہے، ‏ہماری جنگ پارلیمنٹ کی خودمختاری اور قانون کی عملداری کیلئے ہے، ‏ہماری جنگ پاکستان میں جمہوری فضاؤں کی بحالی کیلئے ہے،‏ملک کی تمام سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر ہیں، قوم ایک پلیٹ فارم پر ہے، یاد رکھیں عمران خان کو تو جانا ہی جانا ہے،
‏یہ موجیں مارتا سمندر کوئی مقاصد، کوئی نظریہ رکھتا ہے،‏عوام کا سمندر ہمارے جلسوں میں امڈ آتا ہے.

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‏کہتا ہے مودی کامیاب ہوجائے تو کشمیر کا مسئلہ حل ہوجائے گا،اسکاکوئی نظریہ نہیں،کبھی کہتاہے ریاست مدینہ ہوناچاہیے،کبھی کہتا ہے چینی نظام ہونا چاہیے،‏کبھی کہتا ہے ایرانی نظام کی ضرورت ہے،کبھی کہتا ہے امریکی نظام ہونا چاہیے،مودی کامیاب ہوگیا، مسئلہ حل ہوگیا، اس نے کشمیر پر قبضہ کرلیا.

مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ ‏یہ جعلی حکومت، جعلی وزیراعظم ہے اسے تو عقل ہی نہیں ہے، ہم نے گلگت بلتستان کو کشمیر سے الگ کردیا،85 ہزار مربع کلومیٹر کشمیر سے 5 ہزار مربع کلومیٹر کشمیر پر آ گئے، ‏ہم نے گلگت بلتستان کو کشمیر سے الگ کردیا،‏گلگت بلتستان کو صوبہ بنایا جارہا ہے، قبائلی علاقوں کو صوبہ نہیں بنایا جارہا،
‏آج ہم آزادی کی جنگ لڑرہے ہیں.

ان کا کہنا تھا کہ ‏ہم نے پاکستان کو امریکی کالونی نہیں بننے دینا، ‏ہمارے حکمرانوں میں خود اعتمادی نام کی چیز نہیں،
آج ہماری مدد کرنے والا کوئی نہیں، پڑوسی ملک ہمارا ساتھ نہیں دے رہا،‏افغانستان ہمارا ساتھ دینے کیلئے تیار نہیں، چائنا پاکستان سے ناراض ہے،افغانستان کی معیشت ترقی کررہی ہے، ایرانی کی معیشت ہم سے طاقتور ہے، ‏پورے خطے میں ایک پاکستان ہے جس کی معیشت ڈوب رہی ہے، ‏ملک کی معیشت کا کباڑا کردیا ہے، خدا جانے کیسے ٹھیک ہوگی.

مولانافضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ ‏ایسی حکومت آئی کہ لوگ کہتے ہیں ان چوروں کو لاؤ تاکہ ہمیں روٹی تو ملے،
‏یہ دوسروں پر الزام لگارہےہیں کہ یہ چور ہیں اور وہ چور ہیں ان کی اپنی پوری پارٹی چور ہے،آج لوگ کہہ رہےہیں کہ پرانے چوروں کوواپس لاؤ، تاکہ روٹی تو ملے،‏انشاء اللہ 19 تاریخ کو ہم الیکشن کمیشن کے سامنےاحتجاج کریں گے،
18 ویں ترمیم میں صوبوں کو حقوق دیے گئے ہیں،ہم دوبارہ صوبوں کا حق مرکز کو دینے کو تیار نہیں ہیں،
آئین کہتا ہے صوبے کے حصے میں اضافہ ہوسکتا ہے، کمی نہیں ہوسکتی، ‏اسلام آباد کے گلی کوچوں میں آپ کے سوا کچھ نہیں ہونا چاہیے،ملک میں صرف بالادستی عوام کی ہوگی.