مکالمہ

جی ایچ کیو راولپنڈی میں نیوز کانفرنس کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل بابر افتخار نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ لانگ مارچ کے راولپنڈی آنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی، اگر مولانا فضل الرحمان راولپنڈی آتے ہیں تو انہیں چائے پانی پلائیں گے، ان کی اچھے طریقے سے دیکھ بھال کریں گے اور کیا کر سکتے ہیں، پاک فوج کو سیاسی معاملات میں نہیں گھسیٹناچاہیے، فوج سیاست سے دور رہنا چاہتی ہے، اگر کسی کوالیکشن پرشک ہے تو تمام ادارے آزاد ہیں ان سے رجوع کریں، فوج پر الزامات اچھی بات نہیں، ہمارا جوکام ہے وہیں کریں گے ۔جب فوجی ترجمان سے پوچھاگیاکہ وزیراعظم کہتے ہیںاپوزیشن فوج کوکہہ رہی ہے کہ حکومت گرا دو، تواس پرڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ فوج کے کسی کے ساتھ کوئی بیک ڈور رابطے نہیں ہیں، سیاسی معاملے پر ہمیشہ تبصرے سے گریز کرتا ہوں۔ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اور جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے ترجمان پاک فوج کی جانب سے پی ڈی ایم کو چائے پلانے کے بیان پر ردعمل ظاہر کیا گیا ہے۔ مالا کنڈ میں پی ڈی ایم کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پاک فوج کے ترجمان کی مہمانداری کے معیار کے کم ہونے کی شکایت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج ایک ادارہ ہے اور غیرجانبدار ادارہ ہے، فوج ریاست کے لیے ناگزیر ہے، عسکری قیادت کو وضاحت کرنا ہوگی کیا وہ فریق ہے اور اگر فریق ہے تو پھر احتجاج ہمارا حق بنتا ہے۔ پاک فوج کے ترجمان کی چائے پانی پلائیں گے، کے جملے کا پیغام واضح نہیں جبکہ محاورتاً بھی ان کے بیان میں سقم ہے۔ چائے پانی کاپوچھا جاتا ہے اور یہ محض تکلفاً اور رسماً کا عمل گردانا جاتا ہے، اگر تواضع کا لفظ استعمال ہوا ہوتا تو یہ دعوت کے مترادف ہوتا۔ اس کے مقابلے میں مولانا فضل الرحمان کا جواب جامع اور بھرپور تھا، الفاظ کے اس تبادلے میں مفہوم تلاش کرنے سے ابہام کا خدشہ ہے۔ پاک فوج کے ترجمان کی لفظی پیشکش سے پوری طرح سرد مہری ظاہر نہیں ہوتی اور پی ڈی ایم کے سربراہ اس سے زیادہ کے خواہش مند ہیں۔ الفاظ کے ہیرپھیر سے قطع نظر ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ پاک فوج کا ترجمان کسی سیاسی سوال کا جواب دیں لیکن یہاں ضروری تھا، قبل ازیں وزیرداخلہ پی ڈی ایم کے اس قسم کے بیان پر سخت ردعمل دے چکے ہیں۔ پی ڈی ایم کی قیادت نے سیاسی حکومت کی مخالفت میں جو بیانیہ اپنایا ہے، اسے حکومت سے اختلافات اور سیاسی احتجاج کو سیاست کی حد تک رکھنا چاہئے، سیاست سے غیرمتعلق اداروں اور جگہوں کو ہدف بناناآبیل مجھے مار کے مترادف ہوگا۔ مولانا فضل الرحمن کو اس سوال کا جواب مل گیا ہوگا کہ پاک فوج سیاسی معاملات میںکوئی فریق نہیں، سوال کا جواب ملنے اور معاملہ واضح ہونے کے بعد پی ڈی ایم کی قیادت کو اب اس طرح کے بیانات کی بجائے سیاسی احتجاج، سیاسی طریقوں سے حکومت گرانے اور جمہوری اندازملا کر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاک فوج کے ترجمان کا یہ استدلال بالکل درست ہے کہ لانگ مارچ کے پنڈی آنے کی کوئی وجہ نہیں، کسی کو الیکشن پر شک ہے تو متعلقہ اداروں سے رجوع کیا جائے۔ سیاست دانوں کی یہ منطق بھی نرالی ہے کہ ایک جانب وہ جس ادارے کو غیرجانبدار رہنے کا مشورہ دیتے ہیں وہاں دوسری جانب اسی کے ذریعے اپنے معاملات کا حل نکالنے کی سعی بھی ہوتی ہے۔ سیاستدان جب تک یہ وتیرہ اپناتے رہیں گے اور باہمی معاملات کا حل باہم مل بیٹھ کر یا پھر سیاسی قوت وطاقت کے مظاہروں کے ذریعے نہ نکالیں گے، ملک میں سیاست وجمہوریت کبھی بھی مضبوط نہیں ہوگی۔ سیاست جمہوریت کی مضبوطی کا تقاضا ہے کہ باہمی مسائل پارلیمان میں حل کئے جائیں اور پارلیمان ہی کے ذریعے حکومت کی تبدیلی کا طریقہ کار اختیار کیا جائے۔ پارلیمان میں کسی بھی جانب سے مداخلت اور اثرانداز ہونے کا وتیرہ اختیار کیا جائے اور سیاست دان سڑکوں کی بجائے پارلیمان کو وقعت دے کر بات چیت وعدم اعتماد جو بھی موزوں سمجھا جائے وہ اختیار کیا جائے، تو ملک سیاسی بحران اور انتشار کا شکار نہ ہوگا اور نہ ہی کسی کے کندھے پر بندوق رکھ کر گولہ داغنے کی ضرورت پیش آئے گی۔