اب ہم ایک صفحہ پرہیں

پاک افواج کے تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابرافتخار نے اپنی گزشتہ روز کی پریس کانفرنس میںکہا ہے، فوج سیاست میں ملوث نہیں ہے اس کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے، ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاک فوج نہ سیاسی معاملات میں ملوث ہے اور نہ دخل دینا چاہتی ہے، لہٰذا ان کو اس میں نہ گھسیٹنا جائے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ مؤقف وسیع معنی سے مرصع ہے تاہم دیر آید درست آید کے مصداق ٹھیک ہے اس وقت پی ڈی ایم کی جو تحریک چل رہی ہے اس کے تنا ظر میں جائزہ لیا جا ئے تو اندازہ یہ ہی ہوتا ہے کہ پی ڈی ایم کی جماعتوں خاص طور پر مسلم لیگ ن، جمعیت العلمائے اسلام اور دیگر جماعتوں کی طرف سے ایسا ہی کچھ کہا جا رہا ہے البتہ صرف پی پی ایک ایسی جماعت ہے جو اس معاملہ میں محتاط نظر آرہی ہے، سیاست کا وہ اچھال دیکھنے کو مل رہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کے املا کی نوک پلک بھی درست نہ ہو پائی تھی کہ مسلم لیگ ن کی جانب سے جواب آں غزل کے طور پر بیان جھاڑ دیا گیا، مسلم لیگ کے رہنماء شاہد خاقان عباسی نے محتاط انداز میں جواب دیا اور اپنے بیان میں چیف آف آرمی اسٹاف کو یہ بھی مشورہ دیا کہ دفاعی اداروں کو سیاست سے دور رکھا جائے، احسن اقبال کے اس بیان سے صورتحال میں مزید بل پڑگئے ہیں، پریس کا نفرنس کے موقع پر ایک اہم بات یہ بھی ہوئی کہ ایک صحافی نے سوال کیا کہ وزیراعظم یہ کہتے ہیں پی ڈی ایم چاہتی ہے کہ فوج تحریک انصاف کی حکومت کو گرا دے، کیا اس سلسلہ میں اپوزیشن کی طرف سے کوئی رابطہ کیا گیا، جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ اس کا کوئی جواب نہیں دیتا، بنیادی طور پر ہمارے کوئی رابطے نہیں ہیں۔ اس نکتہ پر شاہد خاقان عباسی کا یہ موقف ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر جو کہہ رہے ہیں وہ ہی ہمارا مؤقف ہے۔ ہمارا تو مطالبہ یہ ہی ہے کہ پاک فوج سیاست میں ملوث نہ ہو، اسی طرح مریم نواز نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ مسلم لیگ کی قیادت سے تو رابطے نہیں ہیں تاہم پارٹی کے دیگر افراد سے رابطے کیے جاتے ہیں لیکن مسلم لیگ عمران خان سے کوئی مذاکرات نہیں کرے گی، اس طرح بلاول بھٹو نے ایک جلسے میں کہا تھا کہ ان کے ساتھیوں کو فون کرنا بند کردو، اس کے علاوہ قارئین کو یاد ہوگا کہ کوئی زیادہ دور کی بات نہیں ہے کچھ عرصہ پہلے مسلم لیگ فنکشنل کے محمد علی درانی نے وسیع تر قومی مفاد کے مذاکرات کیلئے مولانا فضل الرّحمان اور شہباز سمیت اپوزیشن کے لیڈروں سے رابطہ کیا تھا، محمد علی درانی کے بارے میں اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اتنے بڑے مشن کیلئے کیوں کمر کس لی، درانی صاحب طالب علمی کے زمانے میں پشاور انجینئرنگ یونیورسٹی کے طالب علم تھے۔ اسلامی جمعیت طلباء سے تعلق تھا، بعد ازاں وہ مسلم لیگ ق میں شامل ہوئے اور پھر پرویز مشرف کے دور میں وزارت سے بھی لطف اندوز ہوئے، اب ان کا نام مسلم لیگ فنکشنل کی فہرست میں دیکھنے میں آیا، مسلم لیگ فنکشنل وہ جماعت ہے جب جنرل ضیاء الحق کے دور میں سابق وزیراعظم محمد خان جونیجو نے مسلم لیگ جونیجو تشکیل دی۔ اس وقت مسلم لیگ کے سربراہ مردان علی شاہ پیر صاحب پگاڑہ تھے جنہوں نے اسی وقت اعلان کر دیا تھا کہ وہ فنکشنل ہیں اور ہمارا رابطہ جی ایچ کیو سے ہے اور اسی سے رہے گا۔ یہ لیگ ان دنوں عمران خان کی اتحادی جماعت ہے چنانچہ محمد علی درانی کو اپوزیشن کی طرف سے پذیرائی نہ مل سکی، ان کے بارے میں یہ سمجھا گیا کہ وہ کسی کے بھیجے ہوئے ہیں، اگر حقائق کا جائزہ لیا جائے تو فوج کو براہ راست سیاست میں ملوث کرنے میں تحریک انصاف کو کریڈٹ جاتا ہے، کیوں کہ اقتدار کے پہلے ہی دن سے تحریک کے رہنماؤں نے راگ درباری الاپنا شروع کر دیا تھا کہ تحریک انصاف اور فوج ایک پیچ پر ہیں، جب ایسا کچھ نہ تھا تو اسی وقت فوج کے ترجمان کی طرف سے میجر جنرل بابر افتخار کی طرح دو ٹوک جواب آجانا چاہئے تھا لیکن گزشتہ تقر یباً اڑھائی سال تحریک انصاف کے سب ہی یہ راگ اس کا آموختہ یا ریاض کہہ لیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حکومت کے اس بیانیہ پر کوئی ردعمل دیکھنے کو نہیں ملا، امریکا کی سابق وزیرخارجہ ہنری کلنٹن نے جوبائیڈن کی انتخابی مہم کے دوران ایک صحافی کے اس استفسار پر کہ ڈیپ اسٹیٹ سے ان کی کیا مراد ہے، جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ ریاست جہاں کے فیصلے عوام نہ کر پائیں جیسا کہ پاکستان ڈیپ اسٹیٹ ہے۔ ملک کے مسائل کیلئے کوئی مفاہمتی راہ نکالنا ضروری ہے کیوں کہ پاکستان کے جو بھی حالات ہیں اس میں دشمن گھات لگائے بیٹھا ہے اور وہ ماضی کی طرح موقعہ محل سے فائدہ اُٹھانے کی تیاری کئے بیٹھا ہے، ایک اہم خبر یہ بھی سنی جارہی ہے کہ پی ڈی ایم کو ان ہاؤس تبدیلی لانے کی تجویز دی گئی ہے جس کو مولانا فضل الرّحمان اور نواز شریف نے یکسر مسترد کر دیا ہے، شاہد خاقان عباسی نے تو کچھ اس بارے میں اندیشو ں کا بھی اظہار کیا ہے جبکہ پی ڈی ایم کی صفوں میں استعفوں سے لیکر تحریک عدم اعتماد جیسی تجویزوں پر یکسوئی نہیں پائی جاتی۔ اس وقت آصف زرداری لانگ ماچ جیسی تجویزوں کے حامی تو نہیں البتہ تبدیلی کے مؤقف پر کھڑے نظر آرہے ہیں۔