صوبائی حقوق کا معاملہ

خیبر پختونخوا اسمبلی کے اپوزیشن ارکان نے صوبہ کے آئینی حقوق کے حصول کیلئے پارلیمانی جرگہ تشکیل دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم وسائل کی تقسیم کا ریاستی طریقہ کار نہیں مانتے، صوبہ میں بجلی اور گیس لوڈشیڈنگ کے نام پر عوام کے ساتھ ظلم جاری ہے۔ وہ صوبہ جو ریاست کو سستی ترین بجلی اور گیس فراہم کر رہا ہے، اپنے آئینی حقوق سے محروم ہے۔ تربیلا ڈیم نے اس سال 17ارب یونٹ بجلی تیار کی ہے حالانکہ ریاست کی تقسیم کا طریقہ کار غلط ہے۔ ہمارا صوبہ 20 ارب یونٹ بجلی پیدا کرتا ہے اور اس کی اپنی ضرورت 10 ارب یونٹ ہے، ہمارے عوام اور کارخانے بجلی اور گیس سے محروم ہیں، جب تک صوبہ کو اپنے وسائل پر اختیار نہیںملتا ہماری معیشت ٹھیک نہیں ہوسکتی، خیبر پختونخوا اسمبلی میں حزب اختلاف کے ارکان نے صوبہ کے آئینی حقوق اور وسائل کی تقسیم کے طریقہ کار کیساتھ ساتھ صوبے سے روا رکھے جانے والے سلوک کے جو معاملات اُٹھائے ہیں وہ حزب اختلاف کی روایتی اختلاف ہے اور نہ ہی اسے سیاسی رنگ دینے کی گنجائش ہے۔ خود وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان بھی اپنے عہدے کا لحاظ رکھتے ہوئے احسن انداز میں مالیاتی معاملات میں صوبے کی محرومیوں کے حوالے سے اپنا مؤقف پیش کرتے آئے ہیں اور یقینا اس سے زیادہ واضح اور کھلے انداز میں متعلقہ فورمز اور وزیراعظم کے سامنے بھی اس حوالے سے صوبے کی احسن نمائندگی کی ہوگی۔ ایک بات طے ہے کہ صوبے کے وسائل اور صوبے کے حقوق کے حوالے سے خیبر پختونخوا میں پوری طرح ہم آہنگی ہے، ماضی میں بھی ہر حکومت کو وفاق سے شکایت اور صوبے کی نمائندہ سیاسی قیادت کا اس حوالے سے اعتماد حاصل رہا ہے۔ اب بھی اگرچہ سیاسی فضا مکدر ہے مگر جب صوبے کے وسائل پر اختیار ان کی تقسیم اور قابل تقسیم محاصل میں صوبے کے حصے بجلی و گیس کی رائیلٹی وخالص منافع گیس و بجلی کی پہلے پیداواری صوبے کی ضروریات کے مطابق فراہمی کے آئینی وقانونی ضمانت اور طریقۂ کار ان سارے معاملات کا تعلق حکومت وعوام اور صوبے سے ہے، ان اجتماعی معاملات میں حکومت اگر کسی وجہ سے وفاق کے سامنے لچک اپنائے تو اس مصلحت کی سمجھ آتی ہے۔ حزب اختلاف کے اراکین اور ارکان پارلیمان کی ایسی کوئی مجبوری نہیں کہ وہ کھلم کھلا صوبے کے حقوق طلب نہ کریں، دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ سارے معاملات طے شدہ ہیں، وفاق کے پاس نہ تو روگردانی کی گنجائش ہے اور نہ ہی ایسا ہو سکتا ہے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ مرکز میں برسراقتدار ہر حکومت کا خیبرپختونخوا سے سلوک معاندانہ ہے بلکہ تینوں چھوٹے صوبے اپنے وسائل کے حوالے سے مرکزی حکومت کے رویے سے شاکی ہیں۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اٹھارہویں ترمیم کے باعث مرکز کو درپیش مشکلات اور معاملات پر تو بحث ہوتی ہے وفاقی کابینہ کو مرکزی حکومت کی مشکلات کا تو احساس ہے لیکن صوبوں کو درپیش مشکلات اور خاص طور پر ان کے وسائل وحقوق کے حوالے سے پہلو تہی کرنا وفاق اور صوبوں کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں ماضی میں بھی بار بار صوبائی وسائل اور حقوق کے حصول کے لئے کوششیں کی گئیں اور یہاں تک کہ وزراء اور ارکان اسمبلی نے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج بھی کیا اور یقین دہانیاں بھی حاصل کیں مگر سب زبانی جمع خرچ ثابت ہوا۔ ماضی کے برعکس اس وقت خوش قسمتی سے صوبے اور وفاق میں اس جماعت کی حکومتیں ہیں جن کو اقتدار میں لانے کی بنیاد اور اقتدار میں لانے کا سہرا خیبر پختونخوا کے عوام کے سر ہے۔ اس بناء پر صوبے کے عوام اس اُمید میں حق بجانب ہیں کہ خیبرپختونخوا کی محرومیوں کا ازالہ ہوگا اور صوبے کے عوام کی حقوق کا سودا نہ ہوگا۔ اسے بدقسمتی ہی قرار دیا جاسکتا ہے کہ موجودہ دورحکومت بھی صوبے کے عوام کیلئے مختلف ثابت نہ ہوا، کم از کم صوبائی حقوق کے حوالے سے ہی عوام کی اُمیدیں برآتیں تو حزب اختلاف کو اسمبلی میں اس قدر سخت لب ولہجہ اختیار کرنے کی ضرورت نہ پڑتی۔ حزب اختلاف کا حکومت پر تنقید غلط نہیں اور یہ تنگ آمد بجنگ آمد کے زمرے میں آتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اصولی طور پر حکومتی عہدیداروں کو حزب اختلاف کے مطالبات سے کوئی اختلاف نہ ہوگا اور ان کی بھی خواہش ہوگی کہ صوبے سے سوتیلی ماں کا سلوک اب بند ہو لیکن اقتدار کی کچھ مصلحتیں اور مجبوریاں آڑے آنا فطری امر ہے۔ ایسے میں حزب اختلاف ہی کو صوبائی حکومت کیساتھ ساتھ بلکہ بطور خاص مرکزی حکومت پر دباؤ بڑھانے کیلئے اجتماعی اقدامات کی ضرورت ہے۔ وفاقی حکومت کو مجبور کیا جائے کہ وہ صوبے کے جائز حقوق مزید روکے نہ رکھے، حزب اختلاف کی جو جماعتیں حکومت سے شدید اختلاف رکھتی ہیں وہ اگر مہنگائی اور صوبے کے حقوق کے حوالے سے صرف دو نکاتی ایجنڈا بنا کر اسمبلی، صوبے اور اسلام آباد جاکر احتجاج کریں اور دھرنا دیں تو ان کو پورے ملک سے اخلاقی حمایت حاصل ہوگی اور اس حوالے سے مرکزی حکومت کے پاس بھی کوئی ٹھوس دلیل نہ ہوگی کہ وہ ان کے مطالبات کو رد کرے۔ وفاق جتنا جلد صوبے کے وسائل اور حقوق کے حوالے سے آئینی ضمانت اور طریقۂ کار پر عملدرآمد کروائے اتنا بہتر ہوگا۔