ٹرمپ اور امریکی ”جمہوریت”

چند دن بعد رخصت ہونے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے حالیہ دنوں میں صدارتی انتخابات کے نتائج پر جس طرح اپنی بھڑاس نکالی، اس سے تیسری دنیا کے پسماندہ ممالک میں حکومتوں کیخلاف ہونے والے احتجاج کی یادیں تازہ کر دیں۔ فقیر راحموں ہمیں 2014ء میں پی ٹی وی اور دیگر عمارتوں پر تبدیلی اور انقلاب کے خواہش مندوں کی چڑھائی کی یاد کروا رہے تھے، جواباً ہم نے انہیں سپریم کورٹ پر حملہ یاد کروایا، جب سے دور بیٹھے سگریٹ پھونک رہے ہیں۔ گھر اور لائبریری سے دور ملتان میں مقیم ہیں، ورنہ جواب آں غزل کے طور پر کوئی کتاب دے مارتے۔ ٹرمپ کے حامیوں نے جس طرح امریکی نائب صدر کو بھاگنے پر مجبور کیا اس سے ہمیں سول سپرمیسی کے تازہ شیروں کے سپریم کورٹ پر حملے میں اُس وقت کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے بھاگنے کے مناظر یاد آگئے۔ شاہ جی جان بچا کر بھاگے مگر یہاں ٹرمپ اپنے کارکنوں اور حامیوں کے لشکر کا کیپٹل ہل پر حملہ توڑ پھوڑ اور بعد ازاں ہلکی پھلکی لوٹ مار لائیو دیکھتے رہے۔ کل شب ایک ویڈیو دیکھی تھی جناب ٹرمپ کی اہلیہ دیسی سٹال میں دھمال ڈالتی دکھائی دیں، وہ اپنے شوہر کے لشکر کے کرتوتوں پر خوش تھیں، وہ بھی ایسی ویسی۔ جوبائیڈن کہتے ہیں ''یہ امریکی جمہوریت کیلئے سیاہ ترین دن تھا''۔ درست کہتے ہیں لیکن ایک بات ہے وہ یہ کہ ٹرمپ نے امریکی سماج میں ''تبدیلی'' کے نام پر جس تقسیم کی بنیاد رکھی ہے وہ ہر گزرنے والے دن کیساتھ گہری ہوگی۔ اس ساری صورتحال میں اصل سوال یا سوالات کچھ اور ہیں، مثلاً پہلا سوال یہ ہے کہ کیا امریکی سماج میں پڑی دراڑ بدل سکے گی؟ ثانیاً یہ کہ ٹرمپ کی بعض داخلی اور خارجی پالیسیوں کا کیا ہوگا، خصوصاً ویزہ پالیسی جس سے سب سے زیادہ ایشیائی خاندان متاثر ہوئے، خصوصاً وہ جنہوں نے اپنے 21سال سے کم عمر کے بچوں کو امیگریشن کیلئے سپانسر کیا تھا لیکن ٹرمپ کی پالیسی نے ان کے خواب چکناچور کر ڈالے۔ جوبائیڈن نے انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ وہ اس پر نظرثانی کریں گے۔ ثانیاً یہ کہ جنوبی ایشیاء کیلئے ٹرمپ پالیسی جس سے شہ پا کر بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اس کو باقاعدہ بھارت کا حصہ بنا لیا۔ ٹرمپ اور امریکہ کی وجہ سے عالمی اداروں نے بھارت کے اس اقدام پر ڈھلمل (رسمی) احتجاج کیا مگر ذمہ داریوں سے منہ موڑے رکھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈیموکریٹ صدر اس میں کیا تبدیلی لاتے ہیں اور کیا تبدیلی جمہوریت اور انسانی حقوق کیلئے جوبائیڈن کے عزم کے مطابق ہوگی یا پھر امریکی سرمایہ کار کمپنیوں کی محبت آڑے آئے گی، جن کی بھارت میں بھاری بھر کم سرمایہ کاری ہے۔ سرمایہ کاری کی وجہ سے ہی آسٹریلیا، برطانیہ اور یورپی یونین کے ممالک بھی اگست 2019ء سے چپ سادھے ہوئے ہیں، کبھی کبھی ایک رسمی بیان اور اللہ اللہ خیر صلہ۔ خیر چھوڑیں ہمیں کیا، امریکہ میں جو ہو سو ہو، البتہ یہ تو ثابت ہوا بندے ہر جگہ کے ایک جیسے ہی ہوتے ہیں، بس موقع ملنے کی دیر ہے، بھڑاس نکالنے میں تاخیر نہیں کرتے۔ ٹرمپ کے حامیوں نے دو دن جو ہلا گلا کیا، اس میں ہلکی پھلکی لوٹ مار بھی شامل تھی، ہنگاموں میں 4افراد جان سے گئے، ان کے 50سے زائد جانباز پولیس کی تحویل میں ہیں۔ قانون ظاہر ہے اپنا راستہ بنائے گا، بنانا بھی چاہئے تاکہ لوگوں کو علم ہو کہ امریکہ بہادر اور تیسری دنیا کے پسماندہ طبقاتی نظام کے مارے ممالک میں کچھ تو فرق ہے۔ فقیر راحموں کہتے ہیں، ٹرمپ کے حامیوں نے جمہوریت کی کٹیا ڈبونے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی حالانکہ ایسا نہیں ہے، مجھے معلوم ہے کہ فقیر راحموں ڈیموکریٹ کا حامی ہے، قدامت پسندوں کا ازلی مخالف ورنہ سچی بات یہ ہے کہ امریکی اپنی ملکی ترجیحات ومفادات دیکھتے ہیں، ان کا مفاد ہو تو جمہوریت اور ان کے نام پر عراق برباد کر دیتے ہیں۔ مفاد کے تحفظ میں وہ کھانے پینے کی اشیاء اور عراقی بچوں کی خوراک کے عوض اربوں ڈالر ہتھیا لیتے ہیں، ظاہر ہے سارے ہماری طرح پرائی شادی میں عبداللہ دیوانے کی طرح نہیں ہوتے۔ ارے کیا ہم نے کچھ غلط کہہ دیا؟۔ معاف کیجئے گا، 41سال کی افغان پالیسی اور امریکی مریدی کے نتائج پر ٹھنڈے دل سے غور کیجئے جواب مل جائے گا۔ حرف آخر یہ ہے کہ معروف صحافی رؤف طاہر رخصت ہوگئے، دائیں بازو کے حامی رؤف طاہر کا خیمر جماعت اسلامی سے اُٹھا پھر وہ میاں نوازشریف کی محبت کے اسیر ہو لیے، پیپلزپارٹی اور بھٹوز سے نفرت بھری دشمنی میں وہ کبھی توازن برقرار نہ رکھ سکے۔ اپنی قدامت پسند فہم کے باوجود ایک اچھے دوست تھے۔ جب بھی ملتے خوب بحثیں اُٹھاتے۔ اپنے مؤقف کے حق میں دلیل دیتے، غصہ انہیں کم کم آتا تھا، زندگی بھر محنت مشقت کی اور اسی حال میں دنیا سے رخصت ہوئے۔ہمارے اُستاد محترم سید عالی رضوی کہا کرتے تھے، صحافی جمہوریت کیساتھ کھڑا ہو یا آمریت کیساتھ، کھڑا پوری دیانتداری سے ہو، دور بدلنے کیساتھ تاویلیں نہ گھڑے۔ رؤف طاہر ایسے ہی تھے، انہوں نے کبھی جنرل ضیاء کی حمایت پر وضاحت نہیں کی بلکہ اس حمایت کو نظریاتی اتحاد قرار دیا۔