چائے پیجئے،کون سی جناب؟

ستر کی دہائی میں بچپن کا ایک مشہور اشتہار ''چائے پیجئے کونسی جناب؟'' یوں بے سبب یاد نہیں آیا بلکہ اس کی وجہ افواج پاکستان کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار کی وہ بات ہے جو اس سوال کے جواب میں کی گئی تھی کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے راولپنڈی کی جانب مارچ کا اعلان کر رکھا ہے جس پر جنرل بابر کا کہنا تھا کہ راولپنڈی آنے کی کوئی وجہ نہیں اگر وہ آئے تو چائے پانی پلائیں گے۔ چائے کی اس پیشکش کیساتھ ساتھ ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ فوج کا کسی سیاستدان سے بیک ڈور رابطہ نہیں فوج حکومت کا ذیلی ادارہ ہے جو باتیں کی جا رہی ہیں اچھی نہیں۔ راولپنڈی آنے والوں کو چائے کی پیشکش ایک بھرپور مگر معنی خیز موضوع ہے۔ اسی کی دہائی میں پی ٹی وی کے مقبول ڈرامے ''اندھیرا اُجالا'' میں ایک پولیس اہلکار کا ملزم کیلئے مخصوص جملہ ہوتا تھا کہ اسے ''ڈرائنگ روم'' کی سیر کراؤ۔ ڈرائنگ روم کا مطلب ڈرائنگ کے سوا اور کچھ بھی تھا، ڈرائنگ روم کی سیر کی طرح فوجی میس کی چائے بھی ذومعنی ہوتی ہے۔ فوجی میس کی چائے چند برس قبل اس وقت موضوع بحث بنی تھی جب بالاکوٹ کی ناکام کارروائی کے بعد گرائے جانے والے ایک جہاز کے پائلٹ ابھی نندن گرفتار ہو کر فوج کے مہمان بنے تھے۔ اسی عالم میں ایک انٹرویو کے دوران ابھی نندن چائے کا کپ تھامے ''ہواز دی ٹی'' کے جواب میں ''دی ٹی از فنٹاسٹک'' کہہ رہے تھے۔ ابھی نندن کو فوجی میس میں پیش کی جانے والی یہ چائے اور اس سے متعلق ویڈیو کلپ دنیا بھر میں مشہور ہوئے تھے۔ اب مولانا فضل الرحمان نے ایک جلسے میں لانگ مارچ کو تجسس میں لپیٹتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ہم دیکھیں گے کہ مارچ کا رخ اسلام آباد کی طرف ہوتا ہے یا پنڈی کی طرف۔ پاکستان کی سیاست میں مروج استعاروں اور اشاروں کی لغت میں اسلام آباد سے مراد حکومت اور پنڈی کا مطلب جی ایچ کیو ہوتا ہے۔ اسلام آباد کی طرف رخ کا مطلب یہ ہے کہ عمران خان سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ استعفیٰ دے دیں۔ اس طرح کے ایک الٹی میٹم کی مدت پہلے ہی پوری ہوتی جارہی ہے مگر عمران خان ٹس سے مس نہیں ہو رہے۔ پنڈی کا رخ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ فوج سے عمران خان کی حکومت کو ختم کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جائے۔ اس انداز کے احتجاج وفریاد اور ماضی میں پنڈی کی مری روڈ اور مال روڈ کے کناروں پر آویزاں ''مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے'' کے مطالبات اور خواہشات پر مبنی بینروں میں کوئی خاص فرق نہیں۔ یہ حکومت اگر جمہوری نہیں تو ماضی کی کونسی حکومت جمہوریت کے سو فیصد میعار پر پوری اُترتی تھی اور میثاق جمہوریت کی ڈور میں بندھنے سے پہلے ہارنے والی کس جماعت نے جیتنے والی جماعت کی حکومت کو جمہوری تسلیم کیا تھا؟ اب نظریۂ ضرورت اور احتسابی سرگرمیوں نے فریقین کو ایک کنٹینر پر سوار کر دیا تو یہ معاملہ اور ہے۔ جیسی تیسی جمہوریت پاکستان میں رائج ہے انیس بیس کے فرق کیساتھ یہ ویسی ہی جمہوریت اور جمہوری حکومت ہے۔ موجودہ جمہوریت سے اپوزیشن کا غم وغصہ کا اظہار قطعی ناقابل فہم نہیں کیونکہ حکومت نے احتساب کا جو کوڑا دراز کیا ہے اس کی زد انہی جماعتوں پر پڑ رہی ہے۔ دو ڈھائی جماعتیں براہ راست اس کی زد میں ہے باقی اس کھیل کے معاون اداکار اور ہم نوا ہیں۔ ایک طرف پنڈی کے ترجمان کی طرف سے چائے پلانے کے عزم کا اظہار تو دوسری طرف اسلام آباد کے ترجمان شیخ رشید کا یہ انداز بیاں کہ پی ڈی ایم میں ہمت ہے تو راولپنڈی آکر دکھائیں۔ چائے پلانے سے زیادہ اہم بات شیخ رشید کی ہے۔ چائے بنانے کی ترکیب پر سوچ وبچار کیلئے حکومت نے وفاقی کابینہ کے پانچ ارکان پر مشتمل کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔ یہ کمیٹی اسلام آباد میں مظاہروں کے حوالے سے حکومت کیلئے حکمت عملی تجویز کرے گی، گویا کہ حکومت چائے پلانے اور بنانے کے معاملے سے غافل نہیں۔ چائے والے موضوع کیساتھ ساتھ جنرل بابر کا یہ کہنا بھی اہم تھا کہ فوج کا کسی سیاستدان سے بیک ڈور رابطہ نہیں، فوج حکومت کا ذیلی ادارہ ہے جو باتیں کی جارہی ہیں اچھی نہیں۔ محمد علی درانی کے پیرپگارہ کی ایما پر مصالحتی مشن پر چل پڑنے سے یہ نتیجہ اخذ کیا جانے لگا تھا کہ اس مہم کو فوجی حلقوں کی اشیرباد حاصل ہے۔ محمد علی درانی نے کئی بار اس تاثر کی تردید کی مگر پاکستان میں ماضی کا جو ریکارڈ یہ بتاتا ہے کہ اس طرح کی مہمات کو کسی نہ کسی حلقے کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔ فوجی ترجمان کی دوٹوک تردید نے اس تاثر کی نفی کر دی ہے کہ فوج موجودہ حکومت کو مائنس کرکے کسی نئے بندوبست پر اپوزیشن کیساتھ بات چیت کر رہی ہے۔ طرفہ تماشا یہ کہ فوج کسرنفسی سے کام لیکر خود کو حکومت کا ذیلی ادارہ کہہ رہی ہے اور اپوزیشن فوج کو ''سوپر حکومت'' قرار دیکر اس کیساتھ معاہدہ کرنے پر اصرار کر رہی ہے۔ اپوزیشن کے اس مطالبے اور ستر کی دہائی میں قومی اتحاد کے سب سے مقبول قائد ایئر مارشل اصغر خان کے جنرل ضیاء الحق کو لکھے گئے خط میں کیا فرق باقی رہ گیا ہے۔ اس سادگی کا کیا کہنے کہ ہم ذہن وعمل کے اعتبار سے دائروں کے سفر میں مگن مگر اُمید منزل لئے بیٹھے ہیں۔