کیا یہ کمپنی چلے گی؟

بی آر ٹی بس ایک مرتبہ پھر رک گئی، اس ایک سطری خبر یا اعلان کا پورے شہر پر جو اثرات مرتب ہوتے ہیں اس کا کم ہی لوگوں کو اندازہ ہوگا۔ کم ازکم ٹرانس پشاور کے حکام کو تو اس کا اندازہ نہیں ہوسکتا ورنہ جن جن کمپنیوں سے کمپنی کا کنٹریکٹ ہوا ہے، ان سے متعلقہ شرائط کی پابندی کیساتھ ساتھ ان کے معاملات بار ے کم ازکم اتنی آگاہی ضرور رکھتے کہ ملازمین کی ہڑتال کے باعث بس سروس معطل نہ ہوتی۔ہمارے نمائندے کے مطابق بی آر ٹی ملازمین کی جانب سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کیخلاف بی آر ٹی روٹس پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین کی جانب سے بسوں کو چلنے سے روک دیا گیا، جس کے باعث سروس معطل رہی ۔ ٹرمینلز پر بسوں کی آمد کے منتظر مسافروں کو واپس بھیج دیا گیا جن سے بغیر سفر کئے پچاس روپے کی کٹوتی بھی کردی گئی۔بی آر ٹی کا منصوبہ ابھی کمرشل عمارتوں کی عدم تکمیل بلکہ ان پر کام سرے سے بند ہونے، پورے روٹس کے فعال نہ ہونے اور چار سو سے زائد بسوں کی بجائے ڈیڑھ سو سے بھی کم بسوں کو بڑے ٹریک اور تین فیڈر وٹس پر لا کر چوتھائی استطاعت سے چلانا لمحہ فکریہ ہے۔ عوام کو ٹرانس پشاور، کنٹریکٹ کمپنیز کا کوئی علم ہے اور نہ ہی ان سے کوئی سروکار، کوتاہی وبدانتظامی جہاں بھی ہو عوام حکومت کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، ایسا سمجھنا کچھ غلط بھی نہیں۔ کتنی بھاری رقم کے خرچ ہونے کے باوجود منصوبہ اُدھورا ہے اور مزید بسیں کب آئیں گی، منصوبے کی حقیقی معنوں میں تکمیل کب ہوگی، ان سوالات سے قطع نظر یہ منصوبہ پہلے بھی حکومت کیلئے تنقید کا باعث ثابت ہوا ہے اور مخالفین اب بھی بی آر ٹی کو تباہی کا حامل منصوبہ قرار دیتے ہیں۔ بی آر ٹی کے عوام کیلئے پر سہولت سفر دینے سے مخالفین کو بھی انکار نہیںلیکن منصوبے کے اُدھورے رہ جانے کی حکومت کے پاس بھی کوئی معقول دلیل نظر نہیں آتی۔ ایسے میں اگر چلنے کے بعد سروس کی معطلی اور پھرمزید اس قسم کے مظاہر ہونے لگیں تو ان خدشات کا اظہار بے جانہ ہوگا کہ ٹرانس پشاور کی غیر فعال انتظامیہ اور ٹھیکے پر دی گئی خدمات کی مسلسل نگرانی اور رابطہ کے بغیر یہ کمپنی چلے گی تو یہ ان کی غلط فہمی ہوگی۔ اگر ابھی سے یہ کمپنی چلنے والی نہیں کا نعرہ بلند ہونے لگا تو اس کا حشر خدا نخواستہ جی ٹی ایس سے بھی بدتر ہونے کا خدشہ ہے۔ سٹیشنز پر سیکورٹی کمپنی کے اہلکاروں کی تلخی ہو یا ڈرائیوروں کا معاوضہ نہ ملنے کے باعث احتجاج، اس کی تمام تر ذمہ داری ٹرانس پشاور ہی پر عائد ہوگی۔ گزشتہ روز کے واقعے کو معمولی سمجھنے کی بجائے آئندہ اس کا تدارک اور یہ نوبت نہ آنے دینے کو یقینی بنایا جائے ۔ فیڈر روٹس اور مین کاریڈور میں بسوں کی کمی یا پھر مسافروں کی بڑھتی تعداد کے باعث ایک مرتبہ پھر بسوں پر بے تحاشا لوڈ نظر آرہا ہے، اس کا جائزہ لینے اور بسوں کی تعداد میں معقول اضافہ کیاجانا چاہئے۔ گلبہار سے مال آف حیات آباد تک کے روٹ کو ایکسپریس بس کے طور پر چلانے کا جائزہ لیا جاناچاہئے۔ مختصر روٹ کیلئے چمکنی تا کارخانو روٹ کے علاوہ ایک اور ذیلی روٹ کا اجراء کیا جائے تو ملک سعد شہید سٹیشن سے لیکر بورڈ بازار تک بسوں میں شدید رش میںکمی کی توقع ہے۔ وزیر ٹرانسپورٹ کو گزشتہ روز کے واقعات اور مسافروں سے سلوک اور ان کی رقم کے ضیاع کے معاملات کا نوٹس لینے اور آئندہ اس قسم کے واقعات اور حالات کے سدباب کیلئے اقدامات پر توجہ دینا چاہئے۔ حکومت کو اس بات کا خیال رہے کہ جب بھی بی آر ٹی کی بس رُکے گی تنقید اور ناکامی کا ذمہ دار حکومت ہی ٹھہرے گی۔
یوٹیلیٹی سٹورز، قیمتوں میں پھر اضافہ
یوٹیلیٹی سٹورز پر مزید اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد رہی سہی کسر پوری ہوگئی ہے۔ اس کے بعد یوٹیلیٹی سٹور کی غیر معیاری اشیاء اور بازار کی قیمتوں میں فرق باقی نہیں رہا یا پھر فرق اتنا کم رہ گیا ہے کہ صارفین اپنی مرضی ومعیار کے مطابق معیاری اشیاء مارکیٹ ہی سے خریدنے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ حکومت یوٹیلیٹی سٹورز کے ذریعے عوام کو مناسب قیمتوں پر اشیاء کی فراہمی کیلئے اربوں روپے سبسڈی دیتی ہے جسے ان حالات میں قومی خزانے سے بھاری رقم کا ضیاع ہی قرار دیا جائے گا۔ حکومت یا تو سبسڈی کی رقم نہ دے اور یوٹیلیٹی سٹورز کو نہ منافع نہ خسارہ کے اصول پر چلائے، سبسڈی بھی دی جائے یوٹیلیٹی سٹورز خسارے کا بھی شکار ہوں اور عوام کو بھی کوئی سہولت نہ ملے تو پھر اس کا فائدہ؟