ٹیکس دہندگان پاکستان کے محسن اورخراجِ تحسین کے حقدارہیں،وزیراعظم

ویب ڈیسک(اسلام آباد): وزیراعظم عمران خان نے ٹیکس اصلاحات پر جائزہ اجلاس کی صدارت کی، اجلاس میں وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، شبلی فراز، حماداظہر،ڈاکٹروقار مسعود سمیت ڈاکٹر عشرت حسین،چیئرمین ایف بی آر جاوید غنی ومتعلقہ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں وزیر اعظم کو بریفنگ دی گئی کہ ٹیکس نظام میں متعدد اہم اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافے کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے، جس کی وجہ سے رواں مالی سال کے چھ ماہ میں 2205 ارب روپے سے زائدٹیکس جمع ہوا۔

وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ٹیکس وصولی کے نظام کو مزید خود کار بنایا جارہا ہے، نئے ڈیجیٹل نظام سےشفافیت نمایاں، کرپشن، ٹیکس چوری کم ہوگی، چھوٹے،درمیانے کاروبار کیلئےٹیکس فارم کو صرف ایک صفحہ پر مشتمل کردیاگیا ہے اور ٹیکس دہندگان کو ٹیکس دینےپر مراعات اور سہولتیں دی جارہی ہیں۔

اس موقع پر وزیراعظم نے مجموعی طور پر ٹیکس نظام میں اصلاحات لانے والے حکام کو سراہا، اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے ٹیکس دہندگان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس دہندگان پاکستان کے محسن ہیں، اجلاس میں وزیراعظم نے حکام کو ہدایت دی کہ ایسے اقدامات کئےجائیں جس سےٹیکس دہندگان کی پذیرائی ہو۔

اس موقع پر نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک کے 22 کروڑ عوام میں سے صرف 3 ہزار لوگ 70 فیصد ٹیکس دیتے ہیں، ہم جو مرمر کے ٹیکس اکٹھا کرتے ہیں اس میں سے آدھا گزشتہ حکومتوں کے لئے ہوئے قرضوں کی قسطوں پر چلا جاتا ہے، میری زندگی تو بہت آسان ہو جائے اگر میں ان کو این آراو دے دوں، لیکن یہ پاکستان کی تباہی ہے۔

انقلاب کا مطلب ہوتا ہےاسٹیٹس کی تبدیلی، اس کیلئےمسلسل جدودجہد کی ضرورت ہے، تبدیلی ایک مسلسل عمل کا نام ہے، یہ کوئی سوئچ نہیں جسے آن کریں تو تبدیلی آگئی، ہم ایک فیصلہ کن مرحلے پر ہیں، ہماری برآمدات بڑھ رہی ہیں، کنسٹرکشن انڈسٹری ٹیک آف کرگئی ہے، سروس انڈسٹری اس وقت پوری دنیا میں بحران کا شکارہے، جب آپ خرچے کم کرتے ہیں تو ڈیمانڈ کو نیچے لاتےہیں

بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کی حکومت کا ایک ہی مقصد ہے، اور وہ پاکستان میں انتشار پھیلانا ہے، اصل ریٹائرمنٹ توصرف قبرمیں ہی ہوتی ہے۔