پروفیسر تنویر احمد کا آخری کالم

صبح 8.30بجے آفس کیلئے نکلنے ہی والا تھا کہ پروفیسر تنویر احمد کی کال موصول ہوئی۔ کال اُٹھانے سے قبل یہی سوچا کہ تنویر تو جب بھی کال کرتا ہے شام کو ہی کرتا ہے، جب کال اُٹھائی تو تنویر کے بجائے ان کے داماد کی آواز آئی۔ دل کھٹکا کہ ضرور کوئی بات تو ہے اور پھر اس نے کہہ دیا کہ تنویر فوت ہوگئے ہیں۔ وہیں بیڈ پر بیٹھ گیا کہ کوئی وجہ تلاش سکوں کہ جو اس خبر میں بے یقینی پیدا کر دے۔ واپس کال ملائی تو برخوردار حسام نے کال اُٹھائی، دونوں جانب سے بس آہوں اور سسکیوں کی ترسیل ہوتی رہی۔ کچھ نہ سوجھا تو ڈاکٹر تاج الدین کو فون کیا اور پہلا پرسا انہیں دیا۔ احباب کو مطلع کرنے کیلئے فیس بک پر ان کی موت کی خبر لگا دی، یوں کالز کا ایک لامتناہی سلسلہ چل نکلا۔ کیا ہوا؟ کیسا ہوا؟ کب ہوا؟ ہرکوئی یہی سوال کرنے لگا۔ سوال تھا بھی بڑا جینوین، تنویر نہ سگریٹ پیتا ہے، نہ ہی چینی لیتا ہے، پانچ چھ کلومیٹر روز واک کرتا ہے، بسیار خور بھی نہیں، ٹینشن اور پریشانی کو بھی قریب پھٹکنے نہیں دیتا۔ زندگی کو بڑے منظم طور پر اپنے ٹائم ٹیبل کیساتھ گزارتا ہے، پھر ہارٹ اٹیک کیسے ہوگیا؟ ہاں یہی غلط فہمی شاید تنویر احمد کو بھی اس جہان سے لے گئی۔ وہ دو دن تک سینے کے درد کو گیس پرابلم ہی سمجھتا رہا لیکن جب لیڈی ریڈنگ کے کارڈیالوجی وارڈ میں لے گئے تو پتہ چلا کہ ایک ہارٹ اٹیک گزار چکے ہیں اور اگلی صبح شاید دوسرا اٹیک جان لیوا ثابت ہوا اور یوں شرافت، محنت، دوستی، رواداری، علم وعرفان کا ایک مکمل باب تمام ہوا۔ تنویر احمد آخری دن تک جیا، آج بھی اس کا کالم اخبار میں چھپا تھا، آج بھی تنویر نے سماجی ریوں پر اپنا اظہار کیا، اخبار کی زندگی بھلے سے ایک دن کی ہو لیکن آج مر جانے کے باوجود بھی تنویر جیا۔ تنویر احمد ایک مکمل سیلف میڈ انسان ہیں کہ جس نے نہ صرف اپنا کیریئر خود مرتب کیا بلکہ ایک عام انسان سے بڑے انسان تک کے سفر میں لمحہ بہ لمحہ آگے بڑھتے رہے۔ تنویر احمد کے والد پشاور کی متمول کاروباری شخصیت تھے۔ تنویر احمد کی اُٹھان کے دنوں میں والد کا کاروبار کمزور ہوتا رہا۔ اوائل جوانی ہی میں انہیں کلرک کی نوکری کرنی پڑی، ساتھ ہی وہ فٹ بال کھیلتے رہے اور خوب دوستیاں کرتے رہے اور نبھاتے رہے۔ تنویر احمد خود کہتے تھے کہ وہ اس زندگی سے مطمئن نہ تھے، سو مطالعے کی طرف آئے۔ پرائیویٹ امتحانات دیتے دیتے ایم اے انگلش اور ایم اے اُردو کرگئے، یوں انہیں فضل حق کالج مردان میں بحیثیت لیکچرر جاب مل گئی، جہاں مشہور ماہرتعلیم علی خان پرنسپل تھے۔ وہ چند سال میرے نزدیک اس نوجوان، کھلنڈرے اور لااُبالی تنویر احمد کیلئے شاید قدرت کی دین تھے۔ فضل حق کالج کے ڈسپلنڈ ماحول میں ان کی شخصیت کی زبردست کانٹ چھانٹ ہوئی۔ فضل حق کالج کے ان چند برسوں کو تنویر بھی کبھی بھلا نہ سکے، ان کی گفتگو میں اس کا ذکر ہمیشہ شامل ہوتا۔ یہیں ان کا باکسنگ اور شطرنج کا شوق مذید گہرا ہوا۔ شطرنج تو آخری دن تک کھیلتے رہے، اتوار کا دن اپنے اس شوق میں گزارتے۔ پبلک سروس کمیشن کا ا متحان پاس کر کے ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں لیکچرار ہوگئے۔ یوں صوبے کے مختلف کالجوں میں خدمات سرانجام دیتے رہے۔ ہمارے یہاں یہ دستور عام ہے کہ ہم نوکری تنخواہ کیلئے کرتے ہیں اور سروس سے وابستہ امور ہماری ترجیحات میں کہیں بہت نیچے رہتے ہیں۔ تنویر احمد کی ترجیحات کچھ اور تھیں، وہ پوری دلچسپی اور پورے زور کیساتھ اپنی کلاس لیتا۔ وہ بہت تیاری کرکے کلاس میں جاتا، وہ تعلیم کیساتھ تربیت کا بھی قائل تھا۔ بہتر ین موٹی ویشنل سپیکر تھا۔ ذہنوں کی تشکیل اور تربیت کیلئے وہ ہر کلاس میں پانچ سے دس منٹ اخلاقیات کا درس دیتا۔ زندگی کیسے گزارنی ہے، مقابلہ کیسے کرنا ہے، جیتنا کیسے ہے اور ہارو تو کیا شان قائم رکھنی ہے، تبھی تو اس کے شاگرد اس کے عاشق تھے۔ تنویر احمد نے ایک بھرپور زندگی گزاری ہے۔ تھڑے بازی سے لے کر دانشوروں کی محفلوں تک اس کی رسائی رہی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ چیزوں کو بہت جلد اور گہرائی تک سمجھ لیتے تھے۔ تنویر ایک دردمند انسان تھا، کسی کیساتھ زیادتی ان سے برداشت نہ ہوتی۔ اپنی منصف مزاجی کا بھرم رکھنے میں وہ کسی چیز کی پروا نہ کرتے۔ اپنے ایک بہت قریبی دوست کا نام بتائے بغیر ایک بار انہوں نے بتایا تھا کہ جرگے میں حق سچ کا ساتھ دینے کیلئے انہوں نے دوست کی بجائے دوسرے مدعی کے مؤقف کو درست قرار دیا اور بہت پیاری دوستی کی قربانی دے ڈالی۔ زندگی کے نشیب وفراز سے ان کی سیمابی مزاج میں ایک ٹھہراؤ سا آگیا تھا۔ باتوں اور صورتحال کو بڑی گہرائی سے ماپ لیتے تھے، وہ ہمیشہ کہتا کہ داہنا ہاتھ بہت سی بلائیں ٹال دیتا ہے۔ وہ چپ چاپ امداد کرنے کے قائل تھے، تنویر کے چھوٹے بھائی ظفراقبال بتا رہے تھے کہ روح قبض ہونے سے قبل بھی پروفیسر تنویر احمد نے اپنی جیب سے سارے پیسے نکال کاڑدیالوجی وارڈ میں مستحقین میں تقسیم کر دیئے تھے، یہ تنویر کی ان کے ہاتھ سے کی گئی آخری نیکی تھی۔ ان کے جنازے میں سچ مچ میں ہر آنکھ پُرنم تھی۔ وہ واقعی بہت سوں کے ہر دلعزیز تھے، تنویر پر بہت سی بلا تکان گھنٹوں بول اور لکھ سکتا ہوں لیکن کالم اس کی اجازت کہاں دیتا ہے، بس محبی پروفیسر عمر انور وردگ کا یہ جملہ دل کو بھا گیا کہ ''سر تنویر اگلے جہاں کے سفر پر جانے سے پہلے اپنا بندوبست کر گئے ہیں''۔