کورونا کی دوسری لہر

عالمی ادارہ صحت اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار دیکھیں تو 18دسمبر کے بعد پاکستان میں کورونا کے روزانہ سامنے آنے والے کیسز میں کمی آئی ہے۔ان حالیہ اعداد و شمار سے اُمید پیدا ہوئی ہے کہ شاید ملک میں کورونا کی دوسری لہر بھی زوال کی طرف گامزن ہے۔
وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے بتایا کہ پاکستان میں کورونا کی دوسری لہر اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے اور اب کیسز کمی کی طرف جا رہے ہیں۔
تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں سے کورونا کیسز اتنی تیزی سے کم نہیں ہو رہے جتنی تیزی سے عام طور پر پیک کے بعد کمی واقع ہوتی ہے۔ گویا کیسز کی تعداد ایک جگہ آکر رکی ہوئی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر فیصل نے عوام سے اپیل کی ہے کہ فی الحال ریلیکس ہونے کی گنجائش نہیں ہے اور لوگوں کو چاہیے کہ ابھی بھی ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد جاری رکھیں۔ایک اور سوال پر ان کا کہنا تھا کہ زندگی کو مکمل معمول پر آنے میں آئندہ کئی ماہ لگ سکتے ہیں اس لیے عوام کو خطرے سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔
اچھی خبر یہ ہے عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او) کے اعداد و شمار کے مطابق بھی دسمبر کے پہلے ہفتے کے بعد ملک میں کورونا کیسز مثبت آنے کی شرح میں کمی آئی ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے پاکستان سے متعلق ڈیٹا کے مطابق دسمبر کے پہلے ہفتے میں ملک بھر میں پازیٹو کیسز کی شرح9کے قریب تھی تاہم20 دسمبر کے بعد اس میں کمی واقعہ ہوئی ہے اور ملک بھر میں یہ شرح چار سے پانچ فیصد کے درمیان تک پہنچ گئی ہے۔
ڈیٹا کے مطابق چند شہروں میں شرح اب بھی زیادہ ہے، مثلاً کراچی میں ابھی بھی ایک سو کورونا ٹیسٹس میں سے14اعشاریہ6فیصد کا رزلٹ مثبت آتا ہے جبکہ پشاور میں یہ شرح9اعشاریہ9فیصد ہے اور لاہور میں یہ 6فیصد کے قریب ہے۔
اسلام آباد، راولپنڈی، ملتان، گوجرانولہ میں یہ شرح صرف2سے3فیصد تک ہے۔
این سی او سی کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اس وقت بھی33ہزار کورونا کے ایکٹو کیسز ہیں جبکہ کل کیسز کی تعداد پانچ لاکھ12ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔ اب تک ملک میں کورونا سے10ہزار سے زائد اموات ہوچکی ہیں۔
این سی او سی کے اعداد و شمار بھی مستقبل کیلئے کسی حد تک مثبت تصویر پیش کرتے ہیں کیونکہ 18دسمبر کو ملک میں3ہزار 179 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، اس کے بعد سے اب تک نئے کیسز کی تعداد ایک ہی مرتبہ تین ہزار سے زیادہ ہوئی ہے اور روزانہ کی اوسط اڑھائی ہزار تک آ چکی ہے۔
اسلام آباد کے ڈسٹرک ہیلتھ آفیسر نے بتایا کہ اسلام آباد میں کورونا کی لہر کے اثرات کو محدود کیا گیا ہے، ایک سو ٹیسٹس میں سے دو فیصد سے کم کا نتیجہ مثبت آتا ہے۔
ان کے بقول ملک بھر کے اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو ابھی کورونا کی دوسری لہر کے خاتمے میں وقت لگے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد کی انتظامیہ نگرانی کے بہتر نظام کی وجہ سے کورونا کی لہر کو قابو رکھنے میں کامیاب ہوئی ہے، عوام کو چاہئے کہ وہ ماسک پہنیں اور دیگر احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد جاری رکھیں۔
کورونا لہروں میں نہیں آتا احتیاط ضروری ہے، مثبت اعداد و شمار کے باوجود ماہرین احتیاط کا مشورہ دے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کو لہروں میں ماپنا مناسب نہیں ہے، یہ ایک مستقل رجحان ہے جو کبھی کم ہو جاتا ہے اور کبھی زیادہ تاہم اس کا انحصار ایس او پیز کی پابندی پر ہے۔
کورونا کے مکمل خاتمے کیلئے کم ازکم تین سال تک انتظار کرنا پڑے گا جب دنیا کی آبادی کے75فیصد کو ویکسین لگ جائے گی جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں ساڑھے پندرہ کروڑ لوگوں کو ویکسین لگ جائے۔
ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا کہ کاروبار زندگی احتیاطی تدابیر کیساتھ جاری رہنا چاہئے اور سکول ضرور کھلنے چاہئیں تاکہ بچوں کی پڑھائی کا نقصان نہ ہو۔
البتہ انہوں نے ریسٹورنٹس کے حوالے سے کہا کہ صرف تیس فیصد نشستوں کی اجازت ہونی چاہئے تاکہ سماجی فاصلے کی پابندی کی جا سکے۔