میں کوچہ رقیب میں بھی سر کے بل گیا

سابق سوویت یونین کے دور میں جب نکیتا خروشیف نے سٹالن کے مرنے کے بعد اقتدار سنبھالا تو پولٹ بیوروکے پہلے ہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کے لہجے کی گھن گرج دیکھنے والی تھی،وہ سٹالن کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے پولٹ بیورو کے ارکان پر بھی برس رہے تھے کہ انہوں نے بھی سٹالن کی پالیسیوں پر کبھی بات کرنے کی جرأت نہیں کی،ابھی خروشیف کی تقریر جاری تھی کہ ان کے پاس ایک چٹ مختلف ہاتھوں سے ہوتی ہوئی پہنچی،اس پر تحریر تھا کہ تب آپ بھی تو پولٹ بیوروکے سینئیر ترین رکن تھے آپ نے اس وقت خاموشی کیوں اختیار کئے رکھی،چٹ پڑھ کر خروشیف نے گرجتے ہوئے کہا یہ چٹ کس نے لکھی ہے؟مگر پولٹ بیوروکے اجلاس پر ایک پراسرار خاموشی چھائی رہی،ایک دوبار سخت غصے میں چٹ بھیجنے والے کے بارے میں استفسار کرنے اور جواب نہ ملنے پر خروشیف نے مسکراتے ہوئے کہا،تب میری بھی یہی حالت ہوتی تھی اور اجلاس برخواست کرنے کا حکم جاری کردیا۔سٹالن کے بعد خروشیف کو بھی سابق سوویت یونین کا مرد آہن قرار دیا جاتا ہے یہ وہی شخص تھا جس نے ایک بار اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اپنا جوتا اتار کر ڈائس پر ضربیں لگا کر اقوام متحدہ کی توہین کی تھی مگر تب سوویت یونین اس قدر طاقتور تھا کہ اس کی اس حرکت پر کسی بھی ملک کو احتجاج کرنے کی جرأت نہ ہوسکی تھی البتہ سٹالن کے اپنے ملک کے اندر کردار کی سختی کا اندازہ بھی اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک بار پولٹ بیورو کے اجلاس میں وہ اپنے ساتھ ایک مرغ لیکر آیا اور اس کے پر نوچتے ہوئے جس اذیت سے اسے دوچار کیا اس پر پولٹ بیورو کے ارکان دل ہی دل میں افسوس کا اظہار تو کر رہے تھے مگر کسی کو بولنے کی جرأت نہیں ہورہی تھی جس کے بعد سٹالن نے اسی زخم خوردہ اور اذیت زدہ مرغ کے آگے دانہ ڈالا تو وہ گھسٹتا ہوا دانے کی جانب لپکا،سٹالن نے اس کے بعد یہ تاریخی جملہ کہا کہ ضرورت مند کو اسی طرح زیر عتاب رکھنے کے بعد بھی دانہ ڈالیں گے تو وہ آپ کے پیچھے پیچھے چلا آئے گا۔مومن نے کہا تھا
اس نقش پا کے سجدے نے کیا کیا،کیا ذلیل
میں کوچہ رقیب میں بھی سر کے بل گیا
خروشیف اور سٹالن کے واقعات کے تناظر میں ان دنوں ہمارے ہاں کی سیاست کا جائزہ لیا جائے تو معاملات میں کچھ کچھ مماثلت نظر آتی ہے اگرچہ سابق سوویت یونین کے پولٹ بیوروکے مقابلے میں ہماری کابینہ کا معاملہ ذرا مختلف ہے اور اگر''پالیسیوں''سے اختلاف کے حوالے سے کسی کو زبان کھولنے کی مکمل آزادی نہیں تو کم از کم اتنا ضرور ہے کہ جو خبریں بعد میں باہر آجاتی ہیں اور خاص طور پر سوشل میڈیا پر چلنے والے وی لاگز میں ان کے بارے میں''حقائق؟''سامنے آجاتے ہیں تو ان سے بعض وزراء کے درمیان تکرار کا اندازہ ضرور ہو جاتا ہے مگر جب سب کو یہ تڑی پڑتی ہے کہ جس کو پالیسیوں سے اختلاف ہو وہ چھوڑ کر جا سکتا ہے۔اب گزشتہ روز ایسی ہی صورتحال کے نتیجے میں ایک اہم عہدیدارنے اپنے منصب سے استعفیٰ دیکر یہ ثابت کیا کہ یہ سوویت یونین نہیں ہے۔جس کے بعد ان کے حوالے سے ایک نئی بحث کا آغاز ہوگیا کہ موصوف یعنی ندیم افضل چن کیا واپس اپنی پرانی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی میں جائیں گے جبکہ سوشل میڈیا پر ایک ٹرینڈ بھی شروع ہوا جس میں پی پی پی کے حلقوں میں بحث چل پڑی اور پارٹی قیادت سے اپیلیں سامنے آنا شروع ہوئیں کہ چن صاحب کو واپس پارٹی میں لیا جائے۔تاہم ندیم افضل چن نے بھی کچی گولیاں نہیں کھیلیں انہوں نے صورتحال کو دیکھ کر اپنا وزن بڑھانے کی حکمت عملی پر آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا اور بیان داغ دیا کہ میں کہیں نہیں جارہا پارٹی ہی میں رہوں گا یعنی تحریک انصاف نہیں چھوڑوں گا البتہ پارٹی پالیسیوں پر اظہار رائے کے اختلاف سے مجھے کوئی نہیں روک سکتا اس پر ایک جانب یہ خبر آئی ہے کہ پارٹی کے دو اہم رہنمائوں نے انہیں اپنے عہدے سے استعفیٰ واپس لینے کے لئے''منت ترلے''شروع کر دیئے ہیں۔تو دوسری جانب واقفان حال یہ بات کہہ رہے ہیں کہ اس طرح دراصل ندیم افضل چن آنے والے سینیٹ انتخابات میں اپنے لئے پارٹی ٹکٹ کنفرم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ پارٹی کے بعض''مشیروں''کے حوالے سے بھی یہ خبریں آرہی ہے کہ وہ بھی چونکہ سینیٹ کے امیدوار ہیں اس لئے انہوں نے ندیم افضل چن کے بارے میں ایسا رویہ اختیار کیا کہ انہیںاپنے عہدے سے مستعفیٰ ہونے پر مجبور ہونا پڑا،گویا دراصل سارا قصہ سٹالن کے اس زخم خوردہ مرغ کی مانند ہے جسے جتنی بھی اذیت دی جائے وہ دانہ(سینیٹ کی نشست) دیکھ کر ادھر اُدھر دیکھنے کی بجائے ''دانے''پر ہی نگاہیں جمائے رکھتا ہے۔ بہرحال ابھی تو صحیح صورتحال کا درست اندازہ نہیں کیا جاسکتااور وقت آنے پر ہی حتمی رائے دی جاسکے گی۔
کچھ اب کے دھوپ کا ایسا مزاج بگڑا ہے
درخت بھی تو یہاں سائبان مانگتے ہیں