فنڈنگ کی ذمہ داری کس پر ہے

جنوری کی ٹھٹرتی سردی میں پاکستان میں ایسی ایسی گرما گرم خبریں اچھل کو د کررہی ہیں جس نے اہل پاکستان کے ساتھ ساتھ دنیا کو بھی ٹھٹھراکررکھ دیا ہے یا یو ں کہہ لیجئے کہ ورطہ حیر ت ہے عقل کہ پاکستان کے حالا ت کیا سے کیا ہو رہے ہیں کہیں براڈ شیٹ کا پھڈا پڑا ہوا ہے تو کہیں جمہوریت اور آئین کی روح کے مطا بق ملک چلا نے کی تحریک گرما گرم نظرآرہی تو کبھی استعفوں کا چرچا ہو ا پڑا ہے سمجھ نہیں آرہا ہے کہ وطن عزیز کے سجن اس ملک سے کیا کھلواڑ کرنے جا رہے ہیں ۔ شہبا ز گل کہتے ہیں کہ فنڈنگ کے لیے مسلم لیگ ن کو طلب کیا جا رہا ہے مگر وہ پیش نہیں ہو رہے ہیں جب ان سے ایک اینکر پرسن نے پو چھا کہ چھ سال سے آپ کی پارٹی بھی تو پیش نہیں ہو رہی ہے جس پر وہ لا جو اب ہو گئے ، فارن فنڈنگ کیس کا مسئلہ کیا ہے وہ صرف اتنا ہے کہ کہا ں کہاں فنڈ وصول ہوا ، فنڈ دینے والے کو ن تھے اس کا جواب چھ سال سے الیکشن کمیشن طلب کررہا تھا خدا خدا کر کے یہ پیچیدگی تحریک انصاف نے دور کر دی۔ ماہرین قانو ن کا کہنا ہے کہ یہ تحریک انصاف کا اعتراف جر م ہے اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ فنڈنگ غیر قانونی ہوئی ہے ممنوعہ ذرائع سے پیسہ حاصل کیا گیا ہے اور ایجنٹ پر اس کی ذمہ داری نہیں ہو تی کیو ں کہ ایجنٹ غیر قانونی فنڈ وصول نہیں کیا کر تے یہ انکشاف تحریک انصاف کے ایک لیڈر ایس اکبر احمد نے کیا ہے جنہو ں نے چھ سال پہلے الیکشن کمیشن میں فارن فنڈنگ کے خلاف درخواست دائر کی تھی ، ان کا کہنا ہے کہ فارن فنڈنگ ایجنٹوں کے ذریعے نہیں ہوئی تھی بلکہ عمر ان خان نے خود بحیثیت چیئر مین ایک کمپنی برطانیہ میں اور دوسری امریکا میں قائم کی تھی اور اس کے ڈائر یکڑ بھی خود ہی مقر ر کیے تھے اور اسی کمپنی نے فنڈنگ جمع کی تھی اس کمپنی کا ہیڈ آفس بھی امریکا میں تحریک انصاف کے ہیڈ کوارٹر میں قائم ہے چلیں دیکھتے ہیں کہ فارن فندنگ کیس کیا رخ اختیا ر کرے گا اتنا تو ہو ا کہ تحریک انصاف کی طرف سے جو رکا وٹ ہو رہی تھی جو اب دائر ہو نے کے بعد دور ہوگئی ہے ، علا وہ ازیں سیا ست میں حصہ لینے کے لیے تا حیا ت نا اہل بھی ہو جا ئیں گے جبکہ ان کو غیر قانو نی فنڈ نگ لینے کے جر م مقدما ت اور سزا کو بھی سامنا کر نا پڑ جائے ۔ بہر حال یہ سب قانونی مو شگافیا ں ہیں پاکستان کے بارے میں تو اب کہا جا تا ہے کہ یہ ڈیپ اسٹیٹ ہے اور ایسی اسٹیٹ میں سب کچھ ممکن ہے ، دیکھتے رہیے کیا ہو تا ہے اور کیا ہو رہا ہے ۔چلتے ہیں براڈشیٹ کی طرف یہ قضیہ بھی پیچید ہ ہو تا نظر آرہا ہے براڈ شیٹ کے مالک کاوئے مسوی کبھی کچھ کہہ بیٹھتے ہیں کبھی کچھ کہہ جا تے ہیں یہ حال حکومتی حلقوں کا بھی ہے ابھی وزیر اعظم کے مشیر شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ براڈ شیٹ نے نو از شریف اور ان کے خاندان کی کرپشن پکڑی ہے اور اس کرپشن کا بھونپوایسا بجایا جارہا تھا کہ کوہ ہمالیہ کی چوٹی پر بسنے والے بھی دھم دھڑکے سن پا رہے تھے مگر ہو ا کچھ نہیں کا وے مسوی کا کہنا ہے کہ پاکستان کو بتایا گیا کہ سعودی عرب سے برطانیہ کو ایک ارب ڈالر بھیجے گئے ہیں ان کو ڈالر بھیجنے والے کا نا م بھی بتایا گیا کہ وہ پاکستانی شخصیت ہے مگر پاکستان کے احتساب بیو ر و نے کوئی دلچسپی نہ لی اسی طرح یہ اطلا ع دی گئی کہ سنگاپور کے ایک بینک میں بھی ایک ارب ڈالر پڑے ہوئے ہیں تب بھی خامو شی رہی کا وے مو سوی کا کہنا ہے کہ بعض پاکستانیو ں کی منی لا نڈرنگ پکڑی مگر جو دوسو افراد کی فہر ست دی گئی تھی اس میں سے کئی نا م خارج کر دئیے گئے یہ ذکر جنرل پرویز مشرف کے دور کا ہے ان کا کہنا یہ ہے جس کی چوری پکڑتے اس کا نا م کا ٹ دینے کا کہا جا تا تھا اورپھر یہ دیکھنے میں کہ وہی بندہ اس کے بعد حکومت میں شامل ہو جا تا تھا ، اب یہ اطلاع ہے کہ برطانیہ میں رجسٹرڈ امریکی تحقیقاتی فرم براڈ شیٹ نے ثالثی قوانین کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن کے اکا ؤنٹ سے دوکر وڑ ستاسی لا کھ ڈالر یعنی چار ارب انسٹھ کروڑ روپے نکلوالیے ۔ احتساب بیو رو مالی طور پر بھی ایک خود مختار ادارہ ہے جس کے فنڈ پر انتظامیہ کا کوئی اختیار نہیں یہ رقم پاکستان کی حکومت نے ادا نہیں کی بلکہ احتساب بیو رو کے کھا تے سے گئی ہے اس طرح احتساب بیو ر و نے پاکستانی قوم کا چار ارب انسٹھ کر وڑ روپیہ ڈبو دیا ، پرویزمشرف کے دور میں براڈشیٹ سے کیا گیا معاہد ہ اسی دور میں احتساب بیو ر و نے خود ہی ختم کر دیا تھا ۔اس کے بعد موجو دہ حکومت نے براڈ شیٹ سے معاہدہ کرنا چاہا تو معاہدہ کر نے سے پہلے کاوے مسوی نے اپنی کمپنی کی طرف سے ایک ماہر قانو ن بیرسڑ ظفرعلی کو پاکستان شرائط وضوابط دے بھیجے۔ انہو ں نے بتایا کہ جب وہ پاکستانی حکام سے بات چیت کر تے تھے اس میں آئی ایس آئی کے افسر شریک ہو تے تھے ایک عجیب بات بیرسڑظفر علی نے یہ بتائی کہ آئی ایس آئی کے حکا م جب بھی ان کو مخاطب کرتے تو سر کہہ کر مخاطب ہو تے مگر وہا ں موجو د وفاقی وزراء کے نا م لے کر ان سے بولتے تھے ، جو انھیں بڑا عجیب لگا ، بات ہورہی تھی سعودی عرب سے برطانیہ ایک ارب ڈالر کی منتقلی کی اس سلسلے میں وزیر اعظم نے بھی اپنی ایک تقریر میں اس بارے میں ذکر کیا اور کہا کہ وہ نا م نہیں بتائیں گے جب ایک نجی ٹی وی کے اینکر پر سن نے شہزاد اکبر سے اس نا م کے بارے میں استفسار کیا تو انہو ں نے کہا کہ یہ نا م راز ہے اور اس مباحثہ میں نہیں بتا سکتا ، شہزاد اکبر مینار پاکستان کا وہ جلسہ بھول گئے جب ان کے لیڈر نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ قوم سے کچھ نہیں چھپا ئیں جو بند کمر ے میں ہو گا وہ بھی اور جو کمرہ سے باہر ہو گا وہ بھی قوم کو بتائیں گے قوم سے کبھی جھوٹ نہیں بولیں گے ۔