مہنگائی ہی مہنگائی،عوام جائیں تو جائیں کہاں

رواں ماہ دوسری بار پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کا باعث امر ہے ۔خیال رہے کہ سال نو کے موقع پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا۔ بجلی ،گھی اورکوکنگ آئل کی قیمتوں میں ایک ساتھ اضافہ کے باعث عوام جس پریشانی کا شکار تھے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تازہ اضافہ سے رہی سہی کسر پوری ہوگئی ہے۔ مہنگائی کا نیا باب کھولنے کے مترادف ہے۔ستم بالا ئے ستم یوٹیلیٹی اسٹورز پربھی مختلف اشیاء کی قیمتوں میں مختصر مدت میں دو بار اضافہ کیا گیا ہے ۔اب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مہینے میں اضافے کا اثر اب ہر چیز کی قیمت پر پڑے گا اور مہنگائی کا ایک اور ریلا آئے گا ۔یہ پہلی مرتبہ نہیں ہر بار ایسا ہوتا ہے کہ مہینے میں اگر دوبار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مہنگی ہوں تو اشیاء کی قیمتوں میں بھی دوبار اضافہ ہوتا ہے یہ ایک دوسرے سے پیوست عمل ہے مشکل صورتحال یہ ہوگئی ہے کہ اب تو کوئی دن ایسا نہیںگزرتا کہ کسی چیز کے بحران، قلت اور قیمتوں میں اضافہ کی اطلاع نہیں آتی، مہنگائی میں اضافہ ہی مسئلہ نہیں بیروزگاری اور کاروبار کی خرابی کے تباہ کن اعدادوشمار سامنے آئے ہیں۔ وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے کورونا کے سماجی و اقتصادی اثرات کے بارے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے دوران لاک ڈائون سے 2 کروڑ 73 لاکھ افراد کے روزگار متاثر ہوئے اور 2 کروڑ 6 لاکھ افراد بیروزگار ہوئے، 66 لاکھ افراد کی آمدن میں کمی ہوئی، اس کے علاوہ مینوفیکچرنگ، زراعت، ہول سیل، ٹرانسپورٹ، تعمیرات ودیگر شعبے کورونا سے بری طرح متاثر ہوئے جبکہ تعمیرات سے منسلک 80 فیصد افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے۔ادارہ شماریات کے مطابق مینوفیکچرنگ سے 70 فیصد، ٹرانسپورٹیشن سے منسلک 67 فیصد افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے جبکہ دیہی علاقوں کی 49 فیصد آبادی کی آمدنی میں کمی ہوئی ہے، اس کے علاوہ ملک بھر سے 57 فیصد شہری آبادی کی آمدنی میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔سارے عوامل کے یکجا اور آئے روز عوام کو ریلیف دینے کی بجائے عوام پر مزید بوجھ ڈالنے سے عوام کا جینا دوبھر ہوگیا ہے۔ عوام کی اکثریت اب دو وقت کی روٹی کی محتاج ہوگئی ہے، اچھا خاصا کمانے والے اور کاروباری طبقہ کے پاس اب پیٹ پوجا کا سامان نہیں رہا۔مالیاتی مشیر کے پاس سوائے آئی ایم ایف سے خوشخبری ملنے کا مژدہ دینے کے اور کوئی بات عوام کے مفاد کی نہیں۔ حالات روز بروز سنگین ہوتے جارہے ہیں، حکومت نے اس کا احساس نہ کیا اور عوام پر مزید بوجھ ڈالنے سے گریز نہ کیا تو بڑے پیمانے پر لوگ متاثر ہوں گے جو حکومت اور معاشرے دونوں کیلئے سخت مشکلات کا باعث بن سکتے ہیں۔
اندھے کے ریوڑیاں بانٹنے کا ایک اورعمل
ایک جانب مہنگائی ہے اور دوسری جانب لوگوں کا روزگار اور کاروبار متاثر ہونے سے عوام کی ایک بڑی تعداد سخت معاشی حالات سے دوچا رہے لیکن بجائے اس کے کہ عوام کی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے ان کیلئے کسی ریلیف پیکج کا اعلان کیا جاتا۔خیبر پختونخوا اسمبلی میںایم پی ایز نے تنخواہوں اور مراعات کو آٹے میں نمک کے برابر قرار دیکر گزارا نہ ہونے کا شکوہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے، سپیکر نے حکومتی اور اپوزیشن ایم پی ایز کے اتفاق رائے کے بعد تنخواہوں میں اضافہ کا فیصلہ کیا ہے ، وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات کامران بنگش کے وزراء کی تنخواہوں اور مراعات سے متعلق ترمیمی قانونی مسودہ پیش کرنے اور حزب اختلاف کے ہر معاملے پر تنقید کرنے کے عادی ممبران کی جانب سے اس کی مکمل تائید اور ساتھ میں مزید دکھڑے سنانا کھانے کے وقت چھوٹی بڑی انگلیوں کے ایک برابر ہو کر لقمہ اٹھانے کے عین مصداق ہے۔مفادات اور مراعات کا معاملہ ہو تو پورا ایوان ہم خیال بھی ہوتا ہے اور بلا کسی مخالفت وتنقید کے مراعات اور تنخواہوں میں اضافہ کا بل منظور بھی ہوتا ہے ایک صوبائی وزیر کی جانب کچھ عوام کا خیال بھی کرنے کا مشورہ الٹا ان پر تنقید کا باعث بنا۔اگر ممبران صوبائی اسمبلی کا ان کی تنخواہوں اور بھاری الائونسز کی وصولی کے باوجودگزارا نہیں ہوتا تو کوئی اس سوال کا جواب دے کہ دیہاڑی دار اور بیروزگار افراد کی حالت زار کیا ہوگی۔کیا عوام کو اس طرح کے نمائندوں سے خیر کی توقع رکھنی چاہیئے اور کیا موجودہ نظام اور طرز حکومت میں عوام کے مفادات اور حقوق کا تحفظ موجود ہے نیز اس طرح کے عوامی نمائندوں کی موجودگی میں جب عوام کی بات ہی نہ ہو تو پھر عوام کی آواز کون بنے گا یا پھر عوام اٹھ کر اس ایوان ہی کو آگ لگادیں۔خواہ کتنی بھی تنقید اور احتجاج ہو ہر بار ارکان اسمبلی ایک دوسرے کی ہاں میں ہاں ملا کر تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کے اپنے مفاد کی خود ہی منظوری دے دیتے ہیں عوام جس تبدیلی کے منتظر تھے کم از کم یہ وہ تبدیلی نہیں کہ عوام محروم اور نظر انداز ہوں اور بالادست طبقہ مزید مراعات سمیٹ لے۔