پی آئی اے کو بچانے کیلئے سنجیدہ اقداما ت کی ضرورت

پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کے ایک مسافر طیارے کو ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں روک جانے کا واقعہ نہایت سنجیدہ اور قومی طور پر تشویش کا باعث امر ہے۔رپورٹس کے مطابق بی ایم ایچ رجسٹریشن کا حامل بوئنگ طیارہ لیز کمپنی کو ادائیگی نہ ہونے کے باعث روکا گیا۔ مذکورہ طیارے کی قابل ادا رقم کی مالیت مبینہ طور پر14ملین ڈالرہے اور اس ضمن میں لندن کی عدالت میں معاملہ ثالثی کے مراحل میں ہے۔ ثالثی کے باوجود لیز کمپنی نے ملائیشیا کی مقامی عدالت سے طیارہ روکے جانے کا حکم نامہ جاری کرایا اور عدالتی حکم پر طیارے کو ٹیک آف سے قبل روک دیا گیا۔قانونی تنازع کے حوالے سے ایئرلائن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پیریگیرن پارٹی اور ہمارے درمیان ادائیگی کا تنازع ہے جو 6 ماہ قبل برطانیہ کی عدالت میں دائر کیا گیا تھا تاہم ملائیشیا کی عدالت نے یکطرفہ فیصلہ سنایا جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار مسافروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔پی آئی اے کے ترجمان کی جانب سے بیان کردہ وجوہات میں کس حد تک صداقت ہے اس حوالے سے تو کوئی رائے نہیں دی جاسکتی البتہ کسی ملک کی جانب سے دوسرے ملک کا مسافر طیارہ روکا جانا ٹھوس وجوہات کے بغیر ممکن نہیں اور نہ ہی کوئی عدالت اس طرح یکطرفہ کارروائی کرسکتی ہے یہ امر بھی قابل تصدیق ہے کہ لندن کی عدالت میں معاملہ ثالثی کے مرحلے میں ہونے کے باوجود دوسرے ملک کی عدالت نے حکمنامہ کیسے جاری کیا یہ تمام معاملات واضح نہیں اور جب تک حتمی طور پر اور ہر دوفریقوں کا موقف سامنے نہیں آتا کسی ایک کے حوالے سے کوئی رائے نہیں دی جاسکتی البتہ یہ ضرور ہے کہ معاملہ عدالت میںچلا گیا تھا لیز کی رقم کی ادائیگی معاہدے کے مطابق ہوتی تو کمپنی کوعدالت سے رجوع کی ضرورت نہیں پڑتی بین الاقوامی کمپنیاں عدالت جانے سے ہچکچاتی ہیں اور ناگزیر ہونے پر ہی عدالت سے رجوع کیا جاتا ہے اب تمام معاملات سے قطع نظر مشکل امر یہ ہے کہ پاکستان کی قومی فضائی کمپنی اور اس کے اثاثہ جات خطرات سے دوچار ہیںکمپنی ملازمین کو فارغ کیا جارہا ہے۔پی آئی اے کا خسارہ اور غیر پیشہ ور ہاتھوں میں ہونا ایک طرف شہری ہوابازی کے وزیر کے بیان کے بعد سے گزشتہ ایک سال سے پی آئی اے خاص طور پر مشکلات کا شکار ہے یورپی یونین کی جانب سے حفاظتی بنیادوں پر اس کی یورپ کی پروازوں پر پابندی اور حفاظتی اقدامات کی چھان بین اور پروازوں کی اجازت کے معاملات کوشش کے باوجود حل نہیں ہوپارہے تھے کہ پائلٹ کے لائسنس پر شکوک وشبہات کے بعد یورپ میں پی آئی اے پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔روزویلٹ کی صورت میں امریکہ میں پی آئی اے کا قومی اثاثہ بھی بند اورفروخت کے مراحل میں ہے یہ سارے قومی فضائی کمپنی کو تباہی کی طرف لیجانے والے عوامل ہیں لیکن اس کو ان مسائل سے نکالنے کی کوئی سنجیدہ سعی حکومت کی طرف سے نظر نہیں آئی، پی آئی اے میں اعلیٰ تقرریوں کے معاملات کا حل بھی عدالتوں سے نکالا گیا ہمارے تئیں پی آئی اے کو اس بحران سے نکالنے کیلئے ایئر مارشل ریٹائرڈ نور خان مرحوم کی طرح کے کسی دیانتدار پیشہ ورماہر سربراہ کی ضرورت ہے پی آئی اے کی ڈوبتی کشتی کو بچانے کیلئے کسی ایسے ناخدا کی ضرورت ہے جو طوفانوں سے لڑپائے ان کا کردار وعمل مفاد پرستانہ نہ ہو ان کی مہارت سربراہی کی ذمہ داریوں کو کماحقہ پوری کرنے کے قابل ہو حکومت کی طرف سے ان کو مداخلت کی بجائے مکمل حمایت ومدد حاصل ہو اور تمام معاملات کا پیشہ وارانہ انداز میں جائزہ لینے کے بعد ان کا حل تجویز ہو اور ان پر عمل درآمد پی آئی اے کو مالی خسارے سے نکالنے کیلئے فی طیارہ ملازمین کی تعداد دوسری فضائی کمپنیوں کے برابر یا اس سے بھی کم کیا جائے فضائی کمپنی کو پیشہ وارانہ انداز میں چلایا جائے تومحولہ قسم کے واقعات نہ ہوں گے محولہ واقعے سے صرف قومی فضائی کمپنی کو سبکی کا سامنا نہیں ہوا اور متاثرین صرف اس پرواز کے مسافر ہی نہیں بلکہ یہ پوری قوم اور ملک کے وقار کا بھی سوال ہے۔ اب تو صورتحال کا ادراک ہونا چاہیئے اب بھی اصلاح احوال کا کوئی راستہ تلاش نہ کیا گیا تو بعید نہیں کہ پی آئی اے جیسی مثالی فضائی کمپنی خدانخواستہ اپنے شاندار ماضی کے باوجود کہیں قصہ پارینہ نہ بن جائے۔