مشرقیات

ارشاد نبویۖ ہوا کہ کچھ مال روک لو یہ تمہارے لئے بہتر ہے!حضرت کعب بن مالک سے اللہ کے آکری رسولۖ کا یہ ارشاد ہوا۔حضرت کعب انصاری تھے اپنے دور کے بڑے شاعروں میں ان کا شمار ہوتا تھا شعر کہتے تو مقصد کے ساتھ کنگھی چوٹی کی شاعری نہ کرتے تھے ہمت شجاعت،جرأت رعب،دبدبہ ان کے موضوع تھے کچھ اس طرح یہ مفہوم نظم کرتے کہ دشمن ان کے اشعار سنتے تو مسلمانوں کا رعب ان کے دلوں پر چھا جاتا ایک بارصرف ان کے دو شعر سن کر ایک پورا قبیلہ ایمان لے آیا۔حضوراکرمۖ ان کی شاعری کو پسند فرماتے تھے۔یہ حضرت کعب بن مالک وہی ہیں جن کا ذکر سورة توبہ میں ہے،غزوہ تبوک کے موقع پر جہاد میں شرکت سے محروم رہ گئے تھے۔عذر کوئی نہیں تھا۔تیاریاں بھی مکمل تھیں بس غفلت ہوگئی جہاد کے بارے میں حکم ہے کہ جب اس کا اعلان ہو جائے تو پھر ہر مسلمان کے لئے یہ واجب ہو جاتا ہے سوائے اس کے کہ کوئی معقول عذر ہو ۔ایسا عذر جس کی اجازت شرع دیتی ہے۔حضرت کعب بن مالک کو اپنی لغزش کی معافی کے لئے کوئی پچاس دن انتظار کرنا پڑا اس دوران میں مسلمانوں کو حکم ہوا تھاکہ ان سے ملنا جلنا چھوڑ دیں۔کعب بن مالک کہتے ہیں کہ وہ زمانہ مجھ پر بڑا شاق گزرا پھر اللہ نے ان کی توبہ قبول کرلی وہ خود اور تمام مسلمان اس معافی پر بہت خوش ہوئے۔حضرت کعب بن مالک نے اس خوشی میں اپنا سارا مال اللہ کے راستے میں لٹانے کا فیصلہ کیا۔ اس موقع پر ارشاد ہوا کہ کچھ مال روک لو یہ تمہارے لئے بہتر ہے بہتری کی بات ظاہر تھی کہ اگر سب کچھ پاس سے چلا جاتا تو گزر بسر مشکل ہو جاتی۔ چنانچہ کعب بن مالک نے فوراً عرض کیا کہ آپ کے حکم کی تعمیل میں وہ حصہ میں روک لیتا ہوں جو خیبر میں مجھے ملا تھا۔حضرت انس اور حضرت علی سے روایت ہے کہ میانہ روی کی چال چلنایعنی کنجوسی سے بچنا اور فضول خرچی سے رکے رہنا آدھی کمائی ہے ۔اسلام ضرورت کے لئے بچانے اور پس انداز کرنے سے منع نہیں کرتا لیکن بچت کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی کو مال سے محبت ہو جائے اور وہ ضرورت پر اللہ کی راہ میں دینے سے ہچکچائے۔یادرکھئے کہ بچت ایک اچھی عادت ہے جب اللہ تعالیٰ ایسے حالات پیدا کردے کہ آدمی بچت کرنے کے لائق ہو جائے تو چاہیئے کہ وہ اللہ کی راہ میں دیتے رہنے کی فریضے کو نہ بھولے!۔