تحفظ نسواں،لائبریری اور نالہ

خیبر پختونخوا اسمبلی سے تحفظ نسواں بل کی منظوری پر ایک بزرگ خاتون نے رابطہ کر کے اپنے تجربات کی روشنی میں جو ردعمل دیا، اس سے قبل وہ بار بار جو دعائیہ جملہ دہرا رہی تھی میں اسے لکھنا چاہوں گی، وہ جملہ تھا ''اللہ تعالیٰ بچیوں کے نصیب اچھے کرے'' سوچیں تو بچیوں کیلئے یہ کتنی جامع دعا ہے اور سارے مسائل سے چھٹکارے کا بھی ضامن ہے۔ دو انسان جب اکھٹے ہوں، تو اختلافات، لڑائی، جھگڑا، توتکار و بحث اور ناراضگی نہ ہو، یہ ممکن ہی نہیں۔ انسان کی سرشت میں یہ ساری چیزیں شامل ہوتی ہیں اور فطرت کے یہ مظاہر کبھی نہ کبھی، کسی نہ کسی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ اصل مسئلہ برداشت کے حدوں کو عبور کرنے کا ہے، اعتدال میں یہ نعمت اور ایک خاص درجے کو عبور کرے تو مسائل کا باعث بنتے ہیں۔ اس دن عزیز بھائی نے ایک لطیفہ واٹس ایپ کیا، جس میں ایک خاتون شوہر سے لڑ جھگڑ کر میکے چلی جاتی ہے اور گھر واپس آنے سے انکار کرتی ہے۔ چند ہی دن بعد شوہر کو کال آتی ہے کہ آکے مجھے لے جائیں، میں گھر واپس آنا چاہتی ہوں۔ شوہر نامدار نے بیوی کو گھر لاکر خوشگوار حیرت سے وجہ جاننا چاہی، تو بیوی معصومیت سے کہنے لگی کہ امی کے گھر، یہاں تک کہ اڑوس پڑوس میں بھی سب سے لڑ کر دیکھ لیا جو مزا شوہر سے لڑائی میں ہے وہ کہیں نہیں۔
ایک خلیجی ملک میں خاتون کا شوہر کے حد سے زیادہ پیار اور لڑائی نہ کرنے پر خلع کیلئے عدالت سے رجوع کی خبر تو آپ پڑھ ہی چکے ہوں گے، اس حوالے سے بہت سی باتیں ہو سکتی ہیں لیکن موضوع نہیں بہرحال اس بزرگ خاتون کا کہنا تھا کہ گھریلو زندگی قوانین بنانے سے بہتر نہیں ہوسکتی اور نہ ہی یہ مسائل کا حل ہے۔ قوانین ہونے چاہئیں، ان پر عملدرآمد بھی ہو لیکن یہ بھی دیکھا جائے کہ معاشرے میں طلاق کی شرح کیوں بڑھ رہی ہے۔ دیگر ممالک میں جہاں سخت قوانین موجود ہیں اور ان پر پوری طرح عملدرآمد ہوتا بھی ہے وہاں پر طلاق کی سب سے زیادہ شرح بھی دیکھ لی جائے۔ بزرگ خاتون برداشت اور دو خاندانوں کے بزرگوں کے ناصحانہ روئیے پر زور دیتی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ میاں بیوی کی لڑائی عموماً بے بنیاد ہی ہوتی ہے، ایسے میں دو خاندانوں کو خاموشی سے وقت گزرنے کا انتظار کرنا چاہئے، جب دونوں کو غلطی کا احساس ہو اور ندامت ستانے لگے تو صلح کرا دی جائے، ہاں تشدد اور بدزبانی وتوہین جب ناقابل برداشت ہو اور یہ معمول بن جائے تو قانون کا سہارا ضرور لیا جائے اور بیٹی کو سہارا دینے میں ہچکچانے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے بچیوں کو نصیحت کی ہے کہ گھر بسائے رکھنے ہی میں ان کی عزت ہے، کوشش کریں کہ گھر کی بات گھر میں رہے، جب بات قانون کا سہارا لینے تک جائے گی تو پھر گھر شاید ہی بچے۔ بزرگ خاتون کی میں نے باتیں توجہ سے سنی، اب بھی میرے دماغ میں ان کی وہ پُراثر دعا ہی گونج رہی ہے، واقعی بیٹیاں کتنا بھی پڑھ لکھ جائیں معاشرے میں اپنا مقام بنائیں، ان کے نصیب کا اچھا ہونا سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ میں بھی بزرگ خاتون کی دعا پر آمین کہتی ہوں آپ بھی آمین کہئے۔ ایک اور ای میل ادینہ صوابی سے ملک محمد حسیب کی ملی ہے، جس میں صوبائی وزیرتعلیم شہرام خان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ہائی سکول اور ہائیر سکنڈری سکولوں میں نئے تعلیمی سال سے لائبریری کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ بچوں کو تعلیمی کتب کے ساتھ دیگر کتابوں کے مطالعے کا موقع مل سکے۔ اس سے بچوں کی ذہنی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ آگے جاکر یہی بچے پاکستان کا مثبت تشخص دنیا بھر میں اُجاگر کریں گے، کتب بینی واخبار بینی کی عادت جس طرح متروک ہوتی جارہی ہے اور ڈیجیٹل دنیا نے جس طرح اپنی جڑیں گہری کرلی ہیں اس سے مقابلہ شاید ہی ہوسکے، بہرحال یہ تجویز موزوں اور نہایت مناسب ہے سکولوں میں شاید اس کا اہتمام ہے بھی، اگر نہیں تو فوری طور پر اس کا انتظام ہونا چاہئے۔ اساتذۂ کرام اور والدین بچوں کو کہانیاں اور اخبارات پڑھنے کی عادت ڈالیں اور رفتہ رفتہ ان کو کتب بینی کا عادی بنائیں، سکولوں میں ریڈنگ کیلئے باقاعدہ وقت مقرر ہونا چاہئے۔ اساتذہ نصابی کتابوں کے علاوہ عام کتابیں پڑھنے کی طرف بچوں کو راغب کرنے کی سعی کریں، بصد احترام اساتذہ خود بھی مطالعہ کی عادت اپنائیں۔ زیرِ رنگ روڈ لنڈی اخون احمد پشاور سے خان محمد کی ای میل موصول ہوئی ہے کہ ان کے گاؤں لنڈی اخون احمد پشاور میں (پشتہ خرہ چوک سے تقریباً دو کلومیٹر مشرق کی جانب) ندی آبپاشی بند ہوگئی ہے۔ ایک جانب پانی بند ہونے کی وجہ سے فصلیں تباہ جبکہ دوسری طرف پانی جمع ہونے سے قیمتی اراضی اور املاک کا بے حد نقصان ہو رہا ہے۔ مقامی لوگوں نے بہت کوشش کی مگر ان کے پاس جدید قسم کے اوزار نہیں جو 150 فٹ زیر رنگ روڈ طویل نالے کی صفائی کر سکیں۔ انہوں نے پی ڈی اے حکام سے درخواست کی ہے کہ اپنا عملہ بمعہ مجموزہ اوزار بھیجیں اور اس ندی کی صفائی کا مناسب بندوبست کر کے اہالیان علاقہ کو مزید نقصان سے بچائیں۔ مطالبہ معقول اور توجہ طلب ہے، بارشیں شروع ہوگئیں تو یہ مسئلہ اور سنگین ہو سکتا ہے، پی ڈی اے کے حکام جتنا جلد ہو سکے علاقہ مکینوں کو اس مشکل صورتحال سے نجات دلائیں، ان کے املاک اور اراضی کو تباہ ہونے سے بچائیں۔ قارئین اس ای میل rozanekhial@gmail.com پر اپنی شکایات اور مسائل پر بھجوا سکتے ہیں۔