برطانوی دارالعوام میں کشمیر کی گونج

برطانوی پارلیمنٹ کے دارالعوام میں کشمیر کی صورت حال اور اس مسئلے کی تاریخی حیثیت پر بحث میں ارکان نے بھارت کے اس موقف کو قطعی مسترد کیا ہے کہ کشمیر اس کا اندرونی مسئلہ ہے۔ ارکان پارلیمنٹ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر ایک تاریخی اور دیرینہ مسئلہ ہے۔ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ کشمیر میں ہلاکتوں کی تحقیقات ہونی چاہئیں اور برطانیہ بھارت کو اسلحہ کی فروخت روک دے۔ برطانوی پارلیمنٹ کے ویسٹ منسٹر ہال میں کشمیر پر بحث کا اہتمام لیوٹن سے رکن پارلیمنٹ سارا اوون نے کیا تھا، جنہوں نے اپنی زوردار تقریر میں کہا کہ کشمیر انسانی حقوق کا مسئلہ ہے اور ہمیں یہ دیکھے بغیر کہ کون خلاف ورزیاں کر رہا ہے اور کس کیخلاف ہو رہی ہیں، آواز بلند کرنی چاہئے۔ سارا اوون کا کہنا تھا کہ بھارت نے کشمیر میں لاک ڈاؤن لگا رکھا ہے اور یہ کشمیریوں کی حفاظت کیلئے نہیں بلکہ انہیں قید میں رکھنے کیلئے لگایا گیا ہے۔ کشمیری نژاد رکن لیبر ناز شاہ کا کہنا تھا کہ اب مقبوضہ کشمیر میں مظالم بند کرانے کا وقت آگیا ہے۔ ممبر پارلیمنٹ جمیز ڈیلی کا کہنا تھا کہ اب امریکی صدر جوبائیڈن کو بھی کشمیر کی صورتحال کی جانب توجہ دینی چاہئے۔ ایک لیبر رکن جان سپیلر کا کہنا تھا کہ ہم بھارت کیخلاف نہیں لیکن کشمیریوں کیساتھ جو کچھ ہورہا ہے اس کا احتساب ہونا چاہئے۔ کئی ارکان نے مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے اور دونوں ملکوں کو مسئلہ بات چیت سے حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر پر بحث کو پاکستان کی سفارتی کامیابی قرار دیا اور توقع ظاہر کی کہ امریکی صدر جو بائیڈن بھی کشمیر کے حالات کی طرف متوجہ ہوں گے۔ برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر پر بحث پر بھارت حسب توقع چیں بہ جبیں ہے۔ بھارتی میڈیا نے اس بحث پر تنقید کی ہے۔ ایک ٹی وی چینل پر بھارت کے سابق جنرل اور دفاعی تجزیہ نگار کہہ رہے تھے کہ کسی ملک کو ہمیں انسانی حقوق اور جمہوریت کا بھاشن دینے کی ضرورت نہیں۔ حقیقت یہ کہ بھارت نے جس مسئلہ کشمیر کو پانچ اگست کو تابوت میں بند کرکے اپنے آئین کی کتاب میں دفن کیا تھا وہ سوا سال سے سری نگر سے امریکہ اور برطانیہ تک کفن پھاڑ کر بول رہا ہے۔ سری نگر میں اس طرح کہ بھارت نے ہر گھر اور گلی میں فوجی کھڑے کر رکھے ہیں مگر کشمیری نوجوان بھارتی فوج سے ٹکرا رہے ہیں۔ فوج نامعلوم خطرات کے خوف اور ''کچھ ہو جانے'' کے احساس کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ کشمیر میں آئے روز فوجی آپریشن ہو رہے ہیں اور اس دوران فوج سے ایسی حماقتیں بھی سرزد ہو رہی ہیں جن کی وجہ سے کشمیریوں کی بھارت سے ناراضگی اور دوری میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ کشمیر میں سرگرم سیاسی کارکنوں اور سوشل ایکٹویسٹس کی گرفتاری کے ذریعے قبرستان جیسی فضاء بنانے کے باجود بھارت کا اعتماد بحال نہیں ہو رہا بلکہ ہر دن خوف اور خدشات میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ چین جو تنازعہ کشمیر کا ایک خاموش اور سست کھلاڑی تھا اچانک بیدار اور چوکس ہو کر سامنے آیا ہے۔ ایک طرف چین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن کے طور پر مسئلہ کشمیر پر آواز اُٹھا رہا ہے دوسری طرف لداخ میں چینی فوج بھارت کو سبق سکھانے پر پوری طرح تیار ہے۔ کشمیر کو ہضم کرتے کرتے بھارت لداخ میں ایک بڑا رقبہ گنوا بیٹھا ہے۔ کنٹرول لائن پر مسلسل کشیدہ صورتحال نے بھارت کی مشکلات میں اضافہ کر دیا اور بھارتی فوج کو دومحاذوں یعنی پاکستان اور چین کیساتھ بیک وقت جنگ کا خوف لاحق ہے۔ اس خوف کا اظہار بھارتی فوجی سربراہ نے حال ہی میں کیا ہے۔ بین الاقوامی محاذ پر ہونے والی سرگرمیاں بھی بھارت کے ان دعوؤ ں کا مذاق اُڑا رہی ہیں کہ کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے اور یہ پانچ اگست کا اقدام اس کا داخلی معاملہ ہے۔ امریکہ سے وقتاً فوقتاً ایسی آوازیں بلند ہوتی رہی ہیں کہ کشمیر بھارت کا اندرونی مسئلہ نہیں۔ عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بھی اکثر اوقات بھارت کے اس دعوے کی دھجیاں بکھیری جاتی ہیں۔ اب برطانوی پارلیمنٹ میں تنازعہ کشمیر پر گرما گرم بحث اور اس مسئلے کے حل کی ضرورت پر زور دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا نے بھارت کے اٹوٹ انگ فلسفے کو قطعی مستردکیا ہے۔ پانچ اگست کے بعد کشمیر بھارت کے گلے کی ایسی ہڈی بن کر رہ گیا ہے کہ جسے اگلا جا سکتا ہے نہ نگلا جا سکتا ہے۔ بھارت نے اپنی پارلیمنٹ میں ایک سیاہ قانون کے تابوت میں جس مسئلہ کشمیر کو دفن کیا تھا وہ برٹش پارلیمنٹ میں زندہ ہو کر سامنے آیا ہے۔ وہ اسلام آباد کے اعلانات میں زندہ ہے۔ وہ امریکہ کے بیانات میں زندہ ہے۔ الجزیرہ، گارجین، واشنگٹن پوسٹ، سی این این، بی بی سی جیسے عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں زندہ ہے۔ وہ کشمیر کی سڑکوں اور گلیوں میں گونجنے والے نعروں کی صورت میں زندہ ہے۔ وہ دنیا بھر کے اعصابی مراکز میں آباد اور سراپا احتجاج کشمیریوں کے جذبات واحساسات کی صورت میں زندہ ہے۔