مٹی پاؤ

براڈ شیٹ کا قضیہ ایک فسانہ نہیں بلکہ وہ ایک اسکینڈل بن چکا ہے جس میں حکومت کے مشیروں اور ذہین وفطین وزراء کا کردار نمایاں نظر آرہا ہے، سب سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ براڈ شیٹ کا سودا نیب نے خریدا تھا اور گلے حکومت کے پڑ گیا، وہ اس طرح کہ قوم کو بتایا جا رہا ہے کہ عدالت کے حکم پر پاکستانی سفارت خانے کے اکاؤنٹ سے 27ارب ڈالر نکال لیے گئے، یہاں حیرت اور تعجب کا مقام ہے کہ بتایا جا رہا ہے کہ بینک نے ہائی کمیشن کو بتایا کہ براڈ شیٹ کو رقم ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور عدالت کی حکم عدولی نہیں کی جا سکتی، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پاکستانی ہائی کمیشن کے پاس اتنی بھاری رقم آئی کہاں سے، کیونکہ ہر سفارت خانے کو اس کے بجٹ کے مطابق رقوم فراہم کی جاتی ہیں جس سے تھوڑی بہت ضروریات کے اخراجات پور ے کیے جا سکیں، ادھر مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے سارا ملبہ سابق حکومت پر ڈالا ہے اور براڈ شیٹ معاہدے کو جنرل پرویز مشرف کے گلے میں لٹکا دیا ہے۔ براڈ شیٹ کا فیصلہ30دسمبر2020 کو آیا تھا مگر اس سے دوماہ پہلے یعنی 4نومبر کو قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ 30ملین ڈالر لندن میں پاکستان ہائی کمیشن کے اکاؤنٹ میں جمع کیے جائیں، اتنی بڑی رقم اس انداز میں اس سے پہلے کبھی کسی سفارت خانے کو فراہم نہیں کی گئی، کیونکہ اس کا طریقہ یہ ہے کہ اگر بیرون ملک پاکستان کے کسی سفارت خانے کو اپنے بجٹ سے ہٹ کر رقم کی ضرورت ہوتی ہے تو اس کے بارے میں ہائی کمشنر یا سفیر وزارت خارجہ کو باقاعدہ سمری بھیجتا ہے اور آگاہ کرتا ہے کہ اس کو رقم کن مقاصد کیلئے چاہئے، اس کے بعد وزارت خارجہ کے دفتر سے اس معاملے کو آگے بڑھایا جاتا ہے، فوری طور پر یہ رقم اس لئے بھیجی گئی کہ اپنی نااہلیوں کی وجہ سے وہ جانتے تھے کہ مقدمہ ہار جائیں گے۔ علاوہ ازیں اب پردہ ڈالنے کی غرض سے کہا جا رہا ہے کہ حکومت برطانیہ میں پاکستانی بینک یو بی ایل کیخلاف کارروائی کرے گی کہ اس نے یہ رقم کیوں منتقل کردی۔ بات تو درست ہے کیونکہ پاکستان کا احتساب کا ادارہ نیب ایک خودمختار ادارہ ہے اور وہ اپنے اخراجات خود پورے کرتا ہے، کرپشن کی جو رقومات وہ اُگلواتا ہے وہ حکومت کو نہیں دیتا بلکہ اپنے پاس ہی رکھتا ہے، ان رقومات کا حکومت سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا چنانچہ جرمانے کی یہ رقم نیب کے کھاتے سے ادا ہونی چاہئے تھی، وہ اس لئے کہ نیب ہی نے کھوج لگانے کا معاہدہ براڈ شیٹ سے کیا تھا، اس معاہدے کے پہلو بھی سوال طلب ہیں کیونکہ براڈ شیٹ کمپنی ایک ماہ قبل ہی معرض وجود میں آئی تھی اور اس کا وجود ایک کمرے ہی تک محدود تھا، وہ بھی کرائے داری پر تھا جس کو پرویز مشرف کے دور میں اتنا بڑا کنٹریکٹ عطاء کر دیا گیا اور اس معاہدہ کی بعض شقیں بڑی اچھوتی تھیں، مثلاً اس معاہدے میں لکھا گیا تھا کہ براڈ شیٹ جو غیرقانونی اثاثوں کا کھوج لگائے گا اُسے اس کام کے بدلے اثاثوں کی مالیت کے حساب سے بیس فیصد ادا کیا جائے گا اور حکومت پاکستان کو اگر کسی اور ذرائع سے غیرقانونی اثاثہ جات کا کھوج مل گیا تو بھی براڈ شیٹ کو بیس فیصد رقم سے نواز دیا جائے گا، جبکہ براڈ شیٹ نے پہلے معاہدے اور بعد میں بھی کچھ نہ کھوجا اور رقم بیٹھے بٹھائے اینٹ لی۔ اب اندازہ لگائیں کہ پاکستان کے غریب عوام کی دولت کو کس طرح لوٹا گیا۔ ملک کو قرضوں میں ڈبو کر اور غریب عوام کو مہنگائی کا پروانہ آئے روز تھما کر غربت کے تنور میں جھونکا جا رہا ہے۔ ایک طرف خزانہ خالی کی پرچیاں ہمہ وقت چسپاں کر دی جاتی ہیں جبکہ اس موٹی رقم کو براڈ شیٹ کی زنبیل میں جھونک دی گئی جس سے اسپتال، تعلیمی ادارے، دیگر ترقیاتی کام ہو سکتے تھے۔ بیروزگاری کا جو پہاڑ عوام پر گر رہا ہے اس کو ریزہ ریزہ کیا جا سکتا تھا، وزیراعظم کو چاہئے کہ وہ اپنے مشیروں اور وزیروں کے جھانسے میں نہ آئیں بلکہ وہ اپنی نگرانی میں تحقیق کرائیں کہ پاکستان کو اتنا بڑا جھٹکا لگانے میں کون کون سے کردار ملوث ہیں، گوکہ عمران خان فرما رہے ہیں کہ وہ اس معاملے کو خود دیکھیں گے، لیکن ان کے بیان کی سوئی نواز شریف پر ہی اٹک جاتی ہے کہ برطانیہ اور سنگاپور میں موٹی موٹی رقوم نواز شریف کی پائی گئی ہیں۔ اس پر سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ایک چٹکلا چھوڑا ہے، ان کا کہنا ہے کہ ان کو بھی بتایا گیا تھا کہ سنگاپور میں ایک ارب ڈالر نواز شریف کے بازیافت ہوئے ہیں جس پر نواز شریف نے ملکوتی مسکراہٹ کیساتھ جواب دیا کہ آپ میر ے ساتھ ایک معاہدہ کر لیں کہ ان رقوم میں سے دس فیصد رقم مجھے ادا کر دی جائے، باقی ساری رقم حکومت لے لے۔ بہرحال جو بھی ہے چاہے سعودی عرب سے لندن ایک ارب ڈالر منتقل ہوئے ہوں یا پھر سنگاپور میں اتنی ہی بھاری رقم موجود ہو، حکومت بتائے کہ اس نے اس رقم کی بازیابی کیلئے کیا اقدام کئے۔ مختصر یہ ہی کہا جا سکتا ہے کہ ان تما م باتوں کا نو ٹس لینا چاہیے تاکہ ٹیکس اداکر نے والے غریب عوام کو پتہ چلے کہ ہو کیا رہا ہے۔