کمیونزم، سراسر ایک دھوکہ

جب سے مختلف طرزہائے سیاست کے بارے میں سمجھ بوجھ پیدا ہوئی ہے اس وقت سے لے کرآج تک کمیونزم یا سوشلزم کے بارے میں یہ سنتے آ رہے ہیں کہ یہ ایک بہترین نظام ہے جس میں کوئی بھوکا نہیں سوتا، ہر ایک کو پہننے کیلئے کپڑا اور سر چھپانے کیلئے چھت ملتی ہے ، بیماری کی صورت میں علاج کی سہولت دستیاب ہوتی ہے اورخاص بات یہ کہ شہریوں کی یہ تمام ضرورتیں ریاست بلامعاوضہ پوری کرتی ہے ، بس انہیں صرف اور صرف اپنی استعداد کے مطابق سرکارکیلئے کام کرنا پڑتا ہے۔ یہ جاننے کے بعد ہم نے کمیونز م کو غریبوں، مزدوروں، محنت کشوں اور کمزور طبقوں کیلئے ایک بہترین نظام سمجھا اور اس کے فروغ کیلئے اپنا قلم استعمال کرنا شروع کیا ۔اس سلسلے میں وقتاََ فوقتاََ میں اپنے کالموں اور تجزیوں میں کافی کچھ لکھتا رہا،جس کو کمیونسٹ اور ترقی پسند حلقوں کی جانب سے کافی پذیرائی بھی ملی، تاہم گزشتہ کئی سالوں کے دوران شمالی کوریا، چین، روس اور کیوبا وغیرہ جیسے سوشلسٹ ملکوںکے حالات قریب سے دیکھنے کا تجربہ ہوا، تو اس نتیجے پر پہنچا کہ کمیونزم تو سراسر ایک دھوکہ ہے، اور وہ اس طرح کہ دنیا بھر میں کمیونسٹ انقلاب سے پہلے لوگوں کو یہ ترغیب دی گئی کہ پڑھو، سوال کرو، ذہنوں کو سنوارو، اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کو پہچانو، حق کا ساتھ دو، ظلم کیخلاف آواز اُٹھاؤ وغیرہ وغیرہ۔ جب لوگوں نے بدلاؤ لانے کیلئے یہ سب کام کئے تو انقلاب کیلئے ایک زبردست الاؤ تیار ہوا اورگزشتہ صدی کے دوران بہت سے ملکوں میں کمیونسٹ انقلاب برپا ہوا، جس کے نتیجے میں وہاں پر بادشاہی اور جاگیرداری نظام کا خاتمہ ہوا اور کمیونسٹ حکومتیں قائم ہوئیں۔ عوام کی بنیادی ضرورتیں پوری ہونے لگیں اور یوں زندگی نے ایک مثبت سمت کروٹ لی۔لیکن اس کیساتھ ساتھ کمیونسٹ پروگرام میں کچھ تبدیلیاں بھی ہوئیں، وہ اس طرح کہ عوام کی آزادی آہستہ آہستہ سکڑنے لگی، لوگوں سے سوال کرنے کا حق چھین لیا گیا، ان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت محدود کردی گئی، انہیں روزمرہ زندگی کے چند مخصوص کاموں تک محدود کر دیا گیا اور ان کے سیاسی، مذہبی اور سماجی کردار کو تقریباً ختم کرکے انہیں ریاست کی غلامی میں دھکیل دیا گیا۔ اس کے علاوہ کمیونسٹ حکمرانوں اور بالادست طبقے کیخلاف جانے یا مذکورہ بالا احکامات کی خلاف ورزی کرنے پر سخت ترین سزائیں بھی مقرر کی گئیں۔اس صورتحال سے لوگوں میں یقینا مایوسی پھیلنا تھی، لیکن کیا کیا جائے، کمیونسٹ حکمرانوں نے انہیں اپنے شکنجے میں ایسا جھکڑ لیا کہ وہ بری طر ح پھنس گئے اور آج تک اس سے نکلنے کی کوئی راہ دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ اس لئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ لوگوں نے اس لئے تو کمیونسٹ انقلاب کیلئے اپنا خون پسینہ نہیں بہایا تھا کہ بعد میں ان کی آزادی چھین کر ان کا جینا حرام کر دیا جائے گا۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ آزادی کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ لوگ جنسی طور پر آزاد ہوں، کلبوں میں موج مستیاں کریں، شراب نوشی کریں، جوا کھیلیں، وغیرہ وغیرہ (جوکہ ان مذکورہ ممالک میں میسر ہے) بلکہ آزادی کا مطلب یہ ہے کہ لوگ سیاسی، سماجی، شعوری، معاشی اور مذہبی طور پر آزاد ہوں اور اپنے بہت سارے فیصلے خود کرسکیں نہ کہ ریاست کے غلام بن کر زندگی گزاریں۔مگر حقیقت یہ کہ آج ان ممالک میں لوگوں کو صرف پیٹ کی آگ بجھانے اور جنسی تسکین جیسے دو بنیادی انسانی ضرورتوں تک ہی محدود کر دیا گیا ہے اور کمیونسٹ بالادست طبقہ کہیں وردی میں، تو کہیں کسی سرخ پوش جماعت کی شکل میں عوام پر مسلط ہے اور ان کی آزادیاں بری طرح سلب کر رہا ہے۔ اس تمام بحث کا ایک ہی مطلب ہے کہ اس طبقے نے اپنے ہاں انسان کو صرف ایک جانور بنا دیا ہے جس کی مذکورہ بالا دو ضرورتوں کے علاوہ کوئی اور ضرورت ہی نہ ہو، لیکن بات ایسی نہیں، انسان کی ان ضرورتوں کے علاوہ اور بھی بہت ساری ضرورتیں ہیں یعنی شخصی، سیاسی اور سماجی طور پر وہ آزاد ہو، اس کی سوچ اور زبان پر پہرے نہ ہوں، وہ اپنے فیصلے خود کرسکے اور ریاست اس کی ہو، نہ کہ وہ ریاست کا ہو۔اس تمام بحث کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کمیونزم دھوکہ ہے تو آخر عوام کہاں جائیں، ان کیلئے کون سا نظام بہتر ہے؟ تو اس کا جواب ہے ''سوشل ڈیموکریسی'' یعنی ایک ملک میں جمہوریت بھی ہو اور اس میں فلاح کا عنصر بھی شامل ہو، جیسا کہ یورپی ممالک میں ہے۔ لیکن صرف جمہوریت سے بھی کام نہیں چلتا جیسا کہ پاکستان میں ہے یعنی اس میں فلاح کا دور دور تک کوئی نام ونشان نہیں اور صرف فلاح سے بھی کام نہیں چلتا جیسا کہ چین، روس، شما لی کوریا اور کیوبا میں ہے کیونکہ وہاں جمہوریت نہیں ہے۔ اس لئے آج کے دور میں اگر کوئی کامیاب عالمگیر نظام ہے تو وہ سوشل ڈیموکریسی ہے اور اسی کے فروغ کیلئے پوری دنیا کے عوام کو جدوجہد کرنی ہوگی۔