جو بائیڈن، پاکستان کے حوالے سے واضح رائے رکھتے ہیں ۔وزیر خارجہ

ویب ڈیسک (اسلام آباد)نئی امریکی انتظامیہ اور پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ میں آج ایک نئ انتظامیہ ذمہ داریاں سنبھال رہی ہےپاکستان اس نئ انتظامیہ کے ساتھ انگیج کرنے کا خواہاں ہے اور وہ بھی پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہشمند ہیں.نئ امریکی انتظامیہ میں جو شخصیات اہم عہدوں کیلئے نامزد ہو رہی ہیں ان میں بہت سی شخصیات قبل ازیں اوباما انتظامیہ کا حصہ رہی ہیں ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا موقع ملا وہ خطے سے گہری واقفیت رکھتی ہیں .نومنتخب صدر جو بائیڈن، فارن ریلیشنز کمیٹی کے بہت متحرک اور فعال رکن تھے جب وہ پاکستان تشریف لائے تو میں نے ان کا خیر مقدم کیا.

انہوں کا کہنا تھا کہ جو بائیڈن، جنوبی ایشیائی خطے اور پاکستان کے حوالے سے واضح رائے رکھتے ہیں ۔افغانستان کے حوالے سے ہمارے نکتہء نظر میں مطابقت ہےترجیحات کے حوالے سے دیکھا جائے تو، کرونا عالمی وبائی چیلنج کا سامنا ہو یا ماحولیاتی تبدیلی کے مضمرات سے نمٹنے کی حکمت عملی ہو، پاکستان اور امریکہ کے نکتہ نظر میں مماثلت دکھائی دیتی ہے ۔

وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کے حوالے سے امریکہ کی جانب سے bipartisan رائے ضرور موجود رہی ہے مگر خوش آئند بات یہ ہے کہ اس نئ امریکی انتظامیہ کا انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے واضح موقف ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کے حوالے سے صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اس صورت حال کی نشاندہی دنیا کر رہی ہے
مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے جس طرح یورپی اور برطانوی پارلیمنٹ میں آواز آٹھائ گئی انشاء اللہ جلد امریکی پارلیمنٹ میں بھی اس کی بازگشت سنائی دے گی۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ توقع ہے کہ نئ انتظامیہ 80 لاکھ نہتے مظلوم کشمیریوں کو بھارتی استبداد اور بلا جواز محاصرے سے نجات دلانے میں مددگار ثابت ہو گی پاکستان کو اس کے جغرافیائی خدوخال اور جغرافیائی معاشی حیثیت کے باعث نظر انداز نہیں کیا جا سکتا آبادی کے لحاظ سے، نوجوانوں کے تناسب کے حوالے سے اور معاشی امکانات کے حوالے سے پاکستان کیساتھ دو طرفہ تعاون کے فروغ کے بہت سے مواقع موجود ہیں نئی امریکی انتظامیہ کا چین کے ساتھ رویہ محاذ آرائی کا نہیں بلکہ مسابقت کا ہے، پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت قائم ہونیوالے خصوصی اقتصادی زونز میں اگر امریکی سرمایہ کار، سرمایہ کاری کرنا چاہیں گے تو انہیں خوش آمدید کہیں گے۔