تعاون کی نئی مثلث یا نئی صبح؟

دنیا کے تشکیل پذیر منظرنامے میں عالمی سیاست کی بساط پر بھرپور کھیل جاری ہے۔ مہرے آگے پیچھے ہو رہے ہیں، پوزیشنیں بدل رہی ہے، اعصاب کی ایک جنگ جاری ہے۔ ایسے میں ترکی، پاکستان اور آذربائیجان کے وزرائے خارجہ کا اسلام آباد میں اکٹھ، مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات کا جائزہ اور ساتھ چلنے کے عہد وپیماں بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ ترک وزیر خارجہ میولت چاوش، آذربائیجانی وزیر خارجہ جیہان براموف اور شاہ محمود قریشی کے درمیان سٹریٹجک تعاون کونسل کی سطح پر ہونے والی ملاقات اور فیصلے مسلمان دنیا کیلئے خاصی اہمیت کے حامل ہیں۔ ترک وزیر خارجہ اپنے ہمراہ فنکاروں کی ایک ٹیم بھی لائے تھے جس کی وزیراعظم عمران خان کیساتھ خصوصی ملاقات بھی ہوئی اور ارطغرل غازی ڈرامے کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے پاکستان اور ترکی نے ''ترک لالہ'' کے نام سے ایک اور ڈرامہ تخلیق کرنے کا فیصلہ کیا۔ ترک لالہ مسلم برصغیر کا وہ بہادر کردار تھا جو پین اسلام ازم کے تصور کے تحت عثمانی خلافت کو بچانے کیلئے ترکی گیا اور پھر وہیں مقیم ہوگیا۔ یہ مسلم برصغیر اور ترکی کے درمیان تاریخی تعلق کو اجاگر کرنے کی ایک کوشش ہے۔ ترک وزیر خارجہ کو پاکستان میں ہلال پاکستان کے اعزاز سے نوازا گیا اور ایوان صدر میں ڈاکٹر عارف علوی نے انہیں یہ اعزاز پیش کیا۔ ترکی، آذر بائیجان اور پاکستان کے درمیان سیاست تعاون، دہشت گردی کیخلاف جنگ میں مدد اسلاموفویبا کیخلاف مشترکہ پالیسی، عالمی معاملات میں یکساں موقف اپنانے، عالمی فورمز پر مشترکہ موقف اپنانے کیساتھ ساتھ توانائی، تجارت، سیاحت، میڈیا اور تعلیم سمیت بھرپور تعاون کے فیصلے ہوئے۔ یوں پاکستان اور ترکی کے درمیان مستقبل میں یک جان ودو قالب بن کر چلنے کا حتمی فیصلہ ہوا اور اہم بات یہ کہ فیصلہ کثیرالجہتی ہے۔ اب عالمی سیاست میں ترکی اور پاکستان ایک جیسا موقف اپنائیں گے اور ضرورت پڑنے پر دفاعی تعاون تک بھی بات پہنچے گی۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ اب اس اشتراک وتعاون کی اس ڈوری میں وسط ایشیا کا ملک آذربائیجان بھی بندھ گیا ہے گویاکہ او آئی سی کے تین ممالک نے ہر حال میں ساتھ رہنے اور ایک جیسا موقف اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ مسلمان دنیا میں ''گیم چینجر'' کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ بظاہر یہ تین ملکوں کا فیصلہ ہے حقیقت میں کئی مسلمان ممالک اس دائرے میں اترنے کیلئے تیار ہیں۔ اس طرح تعاون کا یہ دائرہ وسیع ہونے کا بھرپور پوٹیشل رکھتا ہے۔ ترکی آذربائیجان اور پاکستان حال ہی میں نگورنو قرہ باغ کے معاملے پر اپنے تعاون کا کامیاب مظاہرہ کر چکے ہیں۔ نگورنو قرہ باغ نے مسلمان دنیا کے اندر ایک لکیر سی کھینچی تھی لکیر کے ایک جانب آرمینیا کے حامی اور دوسری سمت آذربائیجان کے ساتھی تھے۔ یہ ایک وقتی تقسیم تھی آنے والے دنوں میں آرمینیا کیساتھ کھڑے کئی مسلمان ممالک بھی ترکی اور پاکستان کیساتھ کھڑے نظر آئیں گے۔ ترکی 2023میں سامراجی طاقتوں کی پہنائی گئی سو سالہ غلامی کی زنجیر سے آزاد ہو رہا ہے۔ یہ وہ زنجیر ہوتی ہے جو ہر فاتح مفتوح کو پہنا دیتا ہے۔ یہ حقیقت میں ترکی کی عظمت رفتہ کے خواب چھیننے کا معاہدہ تھا جس کے تحت ترکی دوبارہ خلافت کا خواب نہیں دیکھ سکتا تھا۔ سامراجی طاقتوں کا خیال تھا کہ ایک سو سال کے عرصے میں ترکی میں کئی نسلیں گزر جائیں گی اور ہر نسل ماضی سے دور ہوتی جائے گی، یہاں تک جب سو سال پورے ہوں گے تو ترکی ایک نئی دنیا کا باسی اور نئی راہ کا راہی بن چکا ہوگا۔ کچھ فیصلے قدرت بھی کرتی ہے۔ ایک صدی قبل ایشیا کا مرد بیمار بن کر آخری ہچکی لینے والی عثمانی ترکی اتنی مدت گزر جانے کے بعد بھی اپنے ہدف کے بارے میں پہلے سے زیادہ یکسو ہے۔ ترکی اپنی عظمت رفتہ کی بحالی کے خواب کیساتھ پوری طرح جڑا ہوا ہے۔ وقت کا بہاؤ ترک نسلوں کو اپنی سوچ، منزل اور ماضی سے دور کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔مسلمانوں نے اس عرصے میں تقسیم درتقسیم اور ذلت کے جو چرکے سہے ہیں ان میں ماضی کی طرف لوٹ جانے میں عافیت ہے۔ ترکی نے پانچ اگست کو کشمیر کی شناخت پر مودی کے حملے کے بعد جس طرح پاکستان کا ساتھ دیا ہے اس کی کوئی قیمت نہیں۔ اس اعصابی جنگ میں اگر ترکی کی آواز پاکستان کے شامل حال نہ ہوتی تو اس سے مضحکہ خیز صورتحال کا سامنا شاید ہی اس سے پہلے کبھی پاکستان کو کرنا پڑا ہوتا۔ جس کے بعد پاک ترک تعلق پر یہ شعر صادق آتا ہے۔
دریارِ نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو
کوئی تو ہو جو میری وحشتوں کا ساتھی ہو
یہ طیب اردگان ہی تھے جنہوں نے سود وزیاں کی پروا کئے بغیر بھارت کے اس فیصلے کی کھل کر مخالفت کی۔ بھارت کے اخبارات نے الزامات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کیا جن میں ایک یہ بھی تھا کہ اردگان عظیم خلافت کا جو خواب دیکھ رہے ہیں بھارتی مسلمان اس کا حصہ ہیں اور یہ کہ ترکی بھارتی مسلمانوں میں اپنا اثر رسوخ خلافت کی بحالی کیلئے بڑھا رہا ہے۔ اسی خوف نے مودی کو مسلم برصغیر کے ثقافتی اور تہذیبی ورثے کو کھرچ ڈالنے کے راستے پر ڈال دیا ہے اور مودی اس خوف میں تنہا نہیں بلکہ کچھ برادر مسلمان ملک بھی ترکی کی سوسالہ زنجیر غلامی ٹوٹنے کی آواز سے خوف کھائے بیٹھے ہیں۔