آشفتہ بیانی، ایک بیوروکریٹ کے مشاہدات

لفظ ''آشفتہ'' کو سکول کے آخری کلاسوں میں اُستاد مکرم کی زبانی سیکھا تھا، اُس زمانے میں ہمیں عشق وشق کے معانی و کیفیات معلوم نہ تھیں، لہٰذا ''آشفتہ'' کے معنی ''عاشق'' سیکھ کر بھی کچھ زیادہ سمجھے نہیں۔ آگے جاکر اُردو ادب کے ایک ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے جب الفاظ کی ساخت و ترکیب کے بارے میں تھوڑا بہت سیکھنا شروع کیا تو ''آشفتہ'' کے ساتھ تو دلچسپ تراکیب سامنے آئیں۔ ایک آشفتہ بیانی اور دوسرا آشفتہ سری' اور ساتھ آشفتہ حالی وغیرہ کا بیان تھا۔ آشفتہ سری اور آشفتہ بیانی کے ایک معنی تو زیادہ اچھے نہیں تھے، لیکن دوسرے انداز اور زاویے سے دیکھا تو آشفتہ بیانی کے ساتھ آشفتہ سری کا بہت گہرا رشتہ بھی نکل آیا۔
آشفتہ سری کے عام معنی تو دیوانگی اور پاگل پن کے ہیں لیکن اصطلاح میں سر، جس میں عاشقانہ جذبات موجود ہوں آشفتہ سر کہلاتا ہے۔ اب یہ ہر سر کا اپنا ظرف ہوتا ہے کہ وہ کس انداز کا عشق کن اشیاء سے کرتا ہے۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ آشفتہ سری میں جو کچھ ذہن میں جمع ہوتا ہے اور پھر ایک دن قلم کی نوک سے ٹپک ٹپک کر قرطاس وصفحات پر پھیل جاتا ہے تو آشفتہ بیانی میں ڈھل جاتا ہے اور آج کی نشست میں ہمارے دور کے ایک بیوروکریٹ کی آشفتہ سری اور آشفتہ بیانی کے بارے میں بات ہوگی۔
قیام پاکستان کے بعد جس امتحان کو وقیع، باوثوق اور مستند مانا جاتا تھا وہ سی ایس ایس کہلاتا ہے جو متحدہ ہندوستان میں آئی سی ایس تھا۔ قدرت اللہ شہاب پاکستان کے اولین آئی سی ایس میں سے ہوکر بیوروکریسی میں شامل ہوا تھا اور حقیقت یہ ہے کہ آپ نے اپنے قلم وعلم کے زور پر جس انداز کی بیوروکریسی کی، اس کا اندازہ آپ کی شہرۂ آفاق آپ بیتی ''شہاب نامہ'' سے ہوتا ہے۔ پاکستان میں آج تک ہزاروں بیوروکریٹ گزرے ہیں اور سینکڑوں ہزاروں موجود ہیں لیکن جو شہرت قدرت اللہ شہاب کو نصیب ہوئی وہ شاید ہی کسی اور کو ملی ہو۔ اس کی بڑی وجہ آپ کی علمی، ادبی اور انتظامی صلاحیت اور قالیت تھی۔ شہاب نامہ، یاخدا، ماں جی، سرخ فیتہ، نفسانے اور شہاب نگر آپ کے موئے قلم کے شاہکار ہیں۔ پاکستان کا کم ہی کوئی بیوروکریٹ ہوگا جس کی نظر سے ''شہاب نامہ'' نہ گزرا ہو۔ آپ کے بعد دوسرا بڑا اور شہرت کا حامل اور شہاب قبیلے کا بیوروکریٹ الطاف گوہر گزرا ہے۔ آپ قیام پاکستان کے ایک سال بعد یعنی 1948ء میں سول سروس میں داخل ہوئے۔ آپ پہلوانوں کے شہر گوجرانوانہ میں پیدا ہوئے تھے اور قد کاٹھ کے لحاظ سے پہلوانوں کی ہیئت کے حامل تھے، لیکن ساتھ ہی بلا کے ذہین انسان تھے، آپ بہترین قلم کار، شاعر اور ادیب تھے۔ آپ کئی کتب کے مصنف تھے اور آپ نے ادبی اور علمی وتاریخی (تاریخ وسیاسیات پاکستان) وغیرہ پر بہت کام کیا ہے ۔ بیوروکریسی اور بیوروکریٹ کا ذکر اور تاریخ پاکستان میں کچھ زیادہ پسندیدہ نہیں سمجھا جاتا۔ عام طور پر ان لوگوں کو گردن میں سریے کا حامل سمجھا جاتا ہے اِلّا ماشاء اللہ، اور اکثر کے کام وام اور ہسٹری وغیرہ بھی ایسی ہی ہوتی ہے مثلاً الطاف گوہر، میڈیا اُس زمانے میں اخبارات ورسائل وجرائد وغیرہ کو قابو میں رکھنے کے لئے جو کالا قانون بنایا تھا، نے اظہار رائے کی آزادی پر سخت پابندیاں عائد کی تھیں۔ اس کیلئے عہدے سے فارغ ہونے کے بعد آپ نے عوامی سطح پر معافی مانگی تھی۔ اور یہی وجہ ہے کہ روزنامہ نوائے وقت کے معروف کالم نگار اجمل نیازی بیوروکریسی کو براکریسی لکھتے تھے۔ لیکن استثنیٰ ہر جگہ ہوتی ہے، پاکستان میں اُنگلیوں پر گنتی کے برابر ہی سہی، اچھے بیوروکریٹوں کی موجودگی غنیمت سے کم نہیں، میں بذات خود اچھا بیوروکریٹ اسے سمجھتا ہوں جو صاحب علم وقلم ہونے کے علاوہ پاک دامن بھی ہو۔ اس لحاظ سے خیبر پختونخوا کا حصہ بھی بقدر جثہ موجود ہے، اس فہرست میں عبداللہ (ریٹائرڈ چیف سیکرٹری) سابقون الاولون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ کی قرآن وحدیث فہمی، آپ کی علمیت اور دیانتداری کی اساس تھی، اگرچہ آپ کا کوئی تحریری کام تو سامنے نہ آسکا لیکن ایک بہترین مقرر کی حیثیت سے آپ کی تقاریر واقعی فکر آگاہی کی حامل ہوتی تھیں۔ راقم السطور کو آپ کی صحبت حاصل رہی ہے اور جب ان سے ملاقات کرکے اُٹھا ہوں کوئی نیا نکتہ لے کر ہی اُٹھا ہوں۔ حال ہی میں ''آشفتہ بیانی'' نامی آپ بیتی ہاتھ لگی، چند صفحات پہلی فرصت میں مطالع کئے تو مزاج وطبیعت کی دلچسپی کے سبب اپنے ساتھ لے کر آیا۔ چند دنوں میں حبیب اللہ خٹک کے ''دیدۂ بینا'' سے لیکر میرکارواں، سرابوں کے دیس، سپیدۂ سحر، حوّا کی بیٹی، لمحے شناسائی کے اور سرراہے، تک کے عنوانات پڑھ ڈالے۔ خٹک صاحب نے آشفتہ بیانی کو جس آشفتہ سری کے ساتھ صفحات پر پھیلایا ہے، اس کو پڑھ کر ہر صاحب دل کے دل میں آشفتگی ضرور پیدا ہوگی۔ آپ نے اپنی ملازمت کے دوران جو نشیب وفراز دیکھے ہیں جس خوبصورت اور سحر انگیز انداز سے بیان کیا ہے اس نے مجھے غالب کا یہ شعر یاد دلایا ہے۔
بوئے گل نالۂ دل بوئے چراغ محفل
جو بھی نکلا تیری محفل سے پریشاں نکلا