پشاور پریس کلب کے سیکرٹری کو انڈیا میں پھانسی

ویب ڈیسک: (زاہد میروخیل)
پشاور پریس کلب میں جنرل سیکرٹری کے دفتر میں لگے بورڈ پر مختلف ادوار میں پریس کلب کے سیکرٹریز کی فہرست میں پہلا نام مقبول احمد بٹ کا ہے۔ بہت ہی نرم مزاج اور چمکدار چہرے والے اس پڑھے لکھے نوجوان نے جب کہا کہ جج صاحب ابھی تک کوئی ایسی رسی ہی نہیں بنی جو مقبول کو پھانسی لگا سکے تو اس بات پر سب ہنس دئیے تھے۔اپنے اس کہے کو چار ماہ بعد ہی ہندوستان کی جیل توڑ کر انہوں نے ثابت کردیا ۔1966ءمیں سی آئی ڈی انسپکٹر امر چند کے قتل کے الزام میں مجسٹریٹ کی جانب سے پھانسی کی سزا سنائے جانے کے بعد اس نوجوان نے اپنے ردعمل کے طور پر بھری عدالت میں یہ کلمات کہے تھے۔ پشاور یونیورسٹی سے اردو ادب میں پوسٹ گریجویشن اور قانون کی ڈگری لینے کے بعد انہوں نے صحافت کے میدان میں قدم رکھا تھا اور اردو کے موقر اخبار انجام موجودہ(مشرق ) سے بطور سب ایڈیٹر وابستہ رہے تھے انہوں نے اپنا ایک میگزین بھی نکالا تھا جس کو فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث جلد ہی بند کردیا گیا تھا۔


11فروری1984ءکی صبح کو نئی دہلی کے تیہاڑ جیل میں پھانسی چڑھنے والے مقبول احمد بٹ کو آزادی کشمیر کے لئے جدوجہد اور قربانی کی وجہ سے ہر سال یاد رکھا جاتا ہے۔مقبول احمد بٹ1964ءسے1966ءاور1968ءسے1970ءتک دومرتبہ پشاور پریس کلب اور یونین کے جنرل سیکرٹری کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں لیکن مقبول بٹ کے حوالے سے لکھی گئی کتب اور پشاور پریس کلب میں نصب اس بورڈ کی تاریخوں میں مماثلت نہیں۔ لگتا ہے کہ پریس کلب کے بورڈ پر لکھی گئی تاریخ کے بارے میں مبالغہ ہے کئی بارپریس کلب کے صدر رہ چکے سینئر صحافی شمیم شاہد بھی اس جانب اشارہ کررہے ہیں ان کے مطابق عہدیداروں کے بورڈ پر لکھی گئی تاریخ سے مقبول بٹ کے ادوار کا درست تعین نہیں کیا جاسکتا ہے اور یہ تاریخیں بعد میں محض یادادشت کی بنیاد پر لکھی گئی ہیں اس کے باوجود اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ انہوں نے اس دور کے صحافیوں کی پریس کلب اور یونین کے سیکرٹری کے طور پر نمائندگی کی تھی ۔ مقبول احمد بٹ ان دنوں پریس کلب کے سیکرٹری منتخب ہوئے تھے جب صحافیوں کی یونین اور پریس کلب کے عہدیدار ایک تھے اور الگ الگ باڈیز نہیں تھیں ۔

مقبول احمد بٹ 18فروری1938ءکو مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہوئے تھے۔ میٹرک تک تعلیم کے بعد انہوں نے کشمیر سے گریجویشن مکمل کی ۔زمانہ طالب علمی ہی میں وہ کشمیر کی آزادی کی تحریک سے وابستہ ہوئے جس کیلئے انہوں نے صحافت کے علاوہ سیاست میں بھی حصہ لیا اور جنرل ایوب خان کے1965ءکے بی ڈی یعنی بیسک ڈیموکریسی کے بینر تلے الیکشن میں جموں وکشمیر کی نشست پر پشاور سے ممبر منتخب ہوئے تھے سیاست اور صحافت کے بعد انہوں نے جارحیت کا راستہ اختیار کیا اور مسلح جدوجہد کی بنیاد ڈالی۔

انڈین انسپکٹر کے قتل پر عدالت سے پھانسی کی سزا پر 1966ءمیں جیل سے فرار ہوئے تھے اسی سال ہی ان کی پریس کلب میں سیکرٹری کے طور پر مدت کا اختتام بھی ہوا تھا بعد کے سالوں میں وہ دوبارہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوئے تھے جس کے دوران ان پر ایک بینک لوٹنے اور منیجر کو مزاحمت پر قتل کرنے کامقدمہ بھی درج کرایا گیا ان پر جدوجہد آزادی کیلئے سری نگر میں مقیم اپنے ساتھیوں کو ہندوستانی جہاز گنگا اغوا کرانے کی سازش کیلئے تربیت دینے کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا ۔

80کی دہائی میں مقبوضہ کشمیر میں داخلے کے بعد جب انہیں دوبارہ گرفتار کیا گیا تو حکومت نے انہیں نئی دہلی کے جنوب میں واقع جنوبی ایشیاءکے دوسرے بڑے قیدخانہ تیہاڑ جیل میں رکھا ۔ ان کی رہائی کیلئے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے کارکنوں نے برطانیہ میں متعین انڈین ہائی کمشنر کو اغواءکیا اوراس کے بدلے ہندوستانی حکومت سے مقبول احمد بٹ کی رہائی کا مطالبہ کیا لیکن وزیراعظم اندرا گاندھی نے یہ مطالبہ منظور نہیںکیا جس پر اغواءکاروں نے ہائی کمشنر کو بے گناہ قتل کردیااس کے جواب میں ہندوستانی حکومت نے پھانسی کے انتظار میں قید مقبول بٹ کو راتوں رات ہی سرینگر منتقل کرکے سپیشل کورٹ سے ان کا بیان لیا اور 11 فروری 1984کی صبح سویرے انہیں تیہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی اور انہیں جیل ہی میں دفن کیا گیا۔ انڈین ہائی کمشنر کے قتل سے مقبول بٹ کا کوئی تعلق نہیں تھا اور ان دنوں وہ جیل میں تھے بلکہ انہیں پہلے سے سنائی گئی سزا کی بنیاد پر ہی لٹکایا گیا۔

فیض احمد فیض نے یہ نظم ۔
جس دھج سے کوئی مقتل کو گیا وہ شان سلامت رہتی ہے۔ مقبول احمد بٹ کی قربانی سے متاثر ہوکر کہی تھی۔

واضح رہے 22دسمبر کو پشاور پریس کلب اس وقت عالمی خبروں کی زینت بنا جب ایک خودکش بمبار نے مرکزی گیٹ سے داخل ہونے کے بعد دوران تلاشی خود کو دھماکہ سے اڑایا ۔ اس سانحہ میں ایک پولیس اہلکار اور پریس کلب کے ایک اکاﺅنٹنٹ سمیت4افراد جاں بحق اور کئی صحافی اور ملازمین زخمی ہوئے تھے۔ اس وقت پریس کلب میں صحافیوں کی میٹنگ چل رہی تھی اور درجنوں کی تعداد میں رپورٹرز اور فوٹوگرافرز عمارت کے مختلف حصوں میں موجود تھے لیکن پریس کلب کے دوسرے حصے میں ہونے کی وجہ سے صحافی محفوظ رہے تھے خودکش حملہ کے بعد دنیا کی تاریخ میں یہ پہلا پریس کلب ہے جہاں پرتخریب کاری کا واقعہ رونما ہوا ہے۔