حکومت کا طاقتور کیپٹو پاور پلانٹس مالکان کے خلاف بڑا فیصلہ

ویب ڈیسک (اسلام آباد): حکومت کا طاقتور کیپٹو پاور پلانٹس مالکان کے خلاف بڑا فیصلہ، حکومت نے 950 سے زائد صنعتوں کو گیس کی فراہمی پر پابندی عائد کردی، یہ فیصلہ کابینہ کی توانائی کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا، وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کی زیرصدارت کابینہ کی کمیٹی کا اجلاس ہوا، پٹرولیم ڈویژن نے کیپٹو پاور پلانٹس کو گیس کی فراہمی بند کرنے کی سفارش کی، گیس سے بجلی پیدا کرنے والی صنعتوں کو گیس فراہمی بند کی جائے گی، دستاویز میں لکھا گیا کہ کیپٹو پاور پلانٹس کو گیس کی فراہمی سے گیس کی بچت ہوگی، صنعتوں کو گیس کی فراہمی پر پابندی کا اطلاق یکم فروری 2021 سے ہوگا، ایکسپورٹ انڈسٹری کے پاور پلانٹس کو گیس فراہمی پر پابندی کا اطلاق یکم مارچ سے ہوگا۔

دستاویزمیں مزید لکھا تھا کہ ملک میں ایک ہزار211صنعتیں بجلی پیدا کرنے کیلئے گیس استعمال کررہی ہیں، ان میں برآمدی صنعتیں 610 اور غیر برآمدی صنعتیں 601 شامل ہیں، صنتعیں بجلی پیدا کرنے کے لئے 415 ایم ایم سی ایف ڈی گیس استعمال کررہی ہیں، برآمدی صنعتیں بجلی پیداوار کے لئے 290 ایم ایم سی ایف ڈی گیس استعمال کررہی ہیں، غیر برآمدی صنعتیں 125 ایم ایم سی ایف ڈی گیس استعمال کررہی ہیں، گزشتہ دو برس میں قدرتی گیس کی پیداوار 400 ایم ایم سی ایف ڈی کم ہوئی، تمام صنتعوں کو گیس کی بجائے نیشنل گرڈ سے بجلی فراہم کی جائے گی۔