زراعت،اکنامک آؤٹ ریچ،نالج اکانومی: وزیرِ اعظم کی زیرِ صدارت ترجیحی شعبوں کے جائزہ اجلاس میں اھم فیصلے

ویب ڈیسک: وزیرِ اعظم عمران خان کی زیرِ صدارت ترجیحی شعبوں کے ہفتہ وار جائزہ اجلاس

زراعت:

وزیرِ اعظم عمران خان نے زراعت کے شعبے کے حوالے سے اہم اجلاس کی صدارت کی

اجلاس میں وفاقی وزراء مخدوم خسرو بختیار، سید فخر امام، مشیر عبدالرزاق داؤد، معاونِ خصوصی ڈاکٹر معید یوسف اور متعلقہ اعلی افسران کی شرکت. اسکے علاوہ چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز نے وڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی.

اجلاس میں وزیرِ اعظم کو سسٹین ایبل ڈولپمنٹ پالیسی انسٹیٹیوٹ کے تعاون سے بنائے گئے فوڈ سیکیورٹی ڈیش بورڈ پر پیش رفت پر بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ ڈیش بورڈ کو تکنیکی طور پر مکمل کرکے وزارتِ فوڈ سیکیورٹی کے حوالے کر دیا گیا ہے.

اسکے علاوہ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ ڈیش بورڈ کی مدد سے فیصلہ سازی کیلئے درکار ڈیٹا کے حصول کو صوبوں کی مدد سے یقینی بنایا جا رہا ہے. اسکے لئے صوبوں کے متعلقہ محکموں کی استعداد بڑھائی جا رہی ہے.

مزید یہ بھی بتایا گیا کہ ڈیٹا کا حصول نجی و سرکاری ذرائع سے یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ڈیش بورڈ میں چینی اور گندم کے علاوہ کم معیاد والی اجناس جیسے کہ سبزیوں کی کھپت اور دستیابی کی نگرانی بھی کی جائے گی

وزیر اعظم کو درست ڈیٹا کے حصول کیلئے چینی کی فروخت کی کڑی نگرانی اور آٹا چکیوں سے معلومات کے حصول سے بھی آگاہ کیا گیا.

وزیرِاعظم نے ان اقدامات کو سراہتے ہوئے ڈیش بورڈ کو ترجیحی بنیادوں پر فعال کرنے پر زور دیا. وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ آنے والے دس سالوں میں فوڈ سیکیورٹی پاکستان کیلئے نہایت اہمیت کی حامل ہے لہذا منصوبے پر سختی سے عمل کیا جائے اور ایسے ادارے جو ڈیٹا کی فراہمی میں سست روی اختیار کئے ہوئے ہیں انکے خلاف کاروائی یقینی بنائی جائے. وزیرِ اعظم نے شوگر ملز سے چینی کی فروخت کی شفاف طریقے سے نگرانی کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ درست ڈیٹا مستقبل میں بحرانوں سے بچنے کیلئے فیصلہ سازی کیلئے کلیدی اہمیت رکھتا ہے.

اکنامک آؤٹ ریچ:

وزیرِ اعظم عمران خان نے ترجیحی شعبوں کے تحت اکنامک آؤٹ ریچ کے اجلاس کی صدارت کی

اجلاس میں مشیر عبدالرزاق داؤد، معاونِ خصوصی معید یوسف اور متعلقہ اعلی افسران کی شرکت

اجلاس میں وزیرِ اعظم کو برآمدات کی صلاحیت بڑھانے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا

وزیرِ اعظم کو یہ بھی بتایا گیا کہ اہداف کی نشاندہی سے لے کر ان کی تکمیل میں درکار وقت پر کام مکمل ہے. برآمدات میں حائل رکاوٹوں کو ہٹانے کیلئے خصوصی شعبوں پر ترجیحی بنیادوں پر کام کیا جائے گا.

وزیرِ اعظم نے برآمدات کو بڑھانے کیلئے درکار تمام اقدامات کو ترجیحی بنیادوں پر اٹھانے کی ہدایت دی. مزید وزیرِ اعظم نے ایک جامع ایکشن پلان مرتب کرکے اس پر عمل کرنے اور بڑے پیمانے پر زرمبادلہ کی صلاحیت کی حامل برآمدات کے حوالے سے استعداد بڑھانے پر زور دیا.

نالج اکانومی:

وزیرِ اعظم عمران خان کی زیرِ صدارت نالج اکانومی پر اجلاس

اجلاس میں وفاقی وزیر اسد عمر، معاونِ خصوصی ڈاکٹر معید یوسف، وائس چیئر مین نالج ٹاسک فورس ڈاکٹر عطاء الرحمن اور متعلقہ اعلی افسران نے شرکت کی.

ڈاکٹر عطاء الرحمن نے وزیرِ اعظم کو ہری پور ہزارہ میں پاکستان آسٹرین یونیورسٹی آف اپلائیڈ سائنسز اینڈ انجینئرنگ کی 2.5 سال کی ریکارڈ مدت میں تکمیل کے حوالے سے آگاہ کیا. منصوبے کی منظوری 2018 میں ہونے کے بعد اس کی تکمیل اور کلاسسز کا آغاز ستمبر 2020 میں ہو چکا. یونیورسٹی 8 بین الاقوامی (3 آسٹرین، 5 چینی) یونیورسٹیوں سے منسلک ہے جہاں مقامی طالبِ علموں کو اعلی معیار کی تعلیمی سہولیات اور جدید علوم پڑھائے جا رہے ہیں.

اسکے علاوہ وزیرِ اعظم کو عالمی سطح پر مستقبل میں نہایت اہمیت کی حامل 12 جدید ٹیکنالوجیز کی تعلیم و ترویج کیلئے حکمتِ عملی پر بھی بریف کیا گیا جس میں تعلیم و تدریس کی آٹومیشن، توانائی کو ذخیرہ کرنے، تھری ڈی پرنٹنگ، قابلِ تجدید توانائی، روبوٹکس وغیرہ شامل ہیں.

وزیرِ اعظم کو افرادی قوت کی استعداد بڑھانے کیلئے درجہ بہ درجہ جدید تعلیم و ہنر فراہم کرنے کی حکمتِ عملی سے بھی آگاہ کیا گیا. مزید بتایا گیا کہ پرائمری سے لے کر پوسٹ گریجویٹ سطح تک نظام میں تبدیلیاں لائی جائیں گی اور ہنر مند افراد کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے گا.

مزید ڈاکٹر عطاء الرحمن نے اجلاس کو سیالکوٹ میں حال ہی میں منظور ہونے والی بین الاقوامی انجینئرنگ یونیورسٹی پر ترجیحی بنیادوں پر کی جانے والی پیش رفت سے آگاہ کیا. وزیرِ اعظم نے اس منصوبے کو نہ صرف سراہا بلکہ اس کیلئے ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی.

ڈاکٹر عطاء الرحمن نے اس موقع پر اجلاس کو نالچ اکانومی کے 17 مجوزہ منصوبوں کے بارے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ 17 جاری منصوبوں پر پیش رفت سے آگاہ کیا.

وزیرِ اعظم نے ان اقدامات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ قوم کی تقدیر بدلنے کیلئے جدید علوم کی تدریس نہایت اہم ہے. اسکے لئے بین الاقوامی معیار کے اداروں کا قیام احسن اقدام ہے. مزید وزیرِ اعظم نے تعلیم کیلئے ترقیاتی بجٹ بڑھانے کیلئے تجاویز طلب کر لیں.