روئے سخن کسی کی طرف ہو تو روسیاہ

ہر سال ان دنوں میں موسم کی صورتحال لگ بھگ ایسی ہی ہوتی ہے،کہ سردیوں کے اندر سے گرمیاں جھانکنا شروع کر دیتی ہیں،یعنی موسم کے تیور تبدیل ہوتے ہیں اور لوگ سردی میں گرمی کا مزہ چھکتے ہوئے گرم کپڑوں کو خیر باد کہتے ہوئے ہلکے پھلکے کپڑوں کا استعمال شروع کردیتے ہیں کوٹ اور مفلر کو خیر باد کہتے ہوئے صرف سویٹر پر اکتفا کرتے ہیں کہ اچانک ایک لہر سی دوبارہ اٹھتی ہے،سرد ہوائیں واپسی کا راستہ اختیار کر لیتی ہیں ،کبھی ہلکی بوندا باندی ہوتی ہے اور کبھی ایک بار پھر جھڑی سی لگ جاتی ہے،امیر خسرو نے اس صورتحال کی نشاندہی کو یار سے جدائیوں کے لبادے میں اوڑھا تھا
ابروباران ومن ویار ستادہ بہ وداع
من جدا گر یہ کناں،ابر جدا،یار جدا
اس صورتحال کو احمد فراز نے فنکارانہ تبصرے سے مزین کر کے اردو کے قالب میں یوں ڈھا لا تھا
یہ جدائی کی گھڑی ہے کہ جھڑی ساون کی
میں جداگر یہ کناں،ابر جدا،یار جدا
آجکل موسم کی صورتحال کچھ ایسی ہے،چند روز سے موسم انگڑائی لیکر بہار کی آمد کی نوید دے رہا تھا اور پت جھڑنے اپنا احساس دلانا شروع کررکھا تھا،یہی وہ دن ہوتے ہیں جب پودوں کے اگانے کیلئے تگ ودوشروع کر دی جاتی ہے،ہمیں یاد ہے کہ اپنے سکول کے زمانے میں انہی دنوں میں شجر کاری کی مہم چلاتے ہوئے سکولوں کے طلبہ کو بھی پودے اگانے کے کام میں ہاتھ بٹانے کے کام پر لگا دیا جاتا تھااور پھر ان لگائے جانے والے پودوں میں کتنے تناور درخت بن پاتے تھے اس بارے میں صرف متعلقہ لوگ ہی زیادہ جان پاتے،تاہم اتنا یاد ہے کہ ہم اپنے لگائے ہوئے پودوں میں سے اکثر کو پروان چڑھتے دیکھ کر خوش ہوتے، اگرچہ ان کی پرداخت سکول کے مالیوں ہی کے مرہون منت ہوتی ،بہرحال بات موسم کی تبدیلی کی ہو رہی ہے تو ان دنوں پھر وہی صورتحال ہے،ابھی لوگوں نے زیادہ گرم کپڑوں سے بہ مشکل ہی جان چھڑائی ہے کہ اچانک ایک بار پھر سردی نے جسم کی دیواروں پر دستک دیکر ہوشیار یار جانی کا پیغام دیدیا ہے،تازہ ہوا کے جھونکوں میں بارش کا یپغام بھی تھا جس کی خبر محکمہ موسمیات نے بھی دے دی تھی اور گزشتہ روز پورے ملک میں گھنگھور گھٹائوں نے اپنے چھا گل بر سانا شروع کئے یوں لوگوں نے جن کپڑوں کو گرم قرار دے کر طاق میں دھر دیا تھا ،وہ کپڑے ایک بار پھر اہمیت اختیار کر گئے اور طاق کو طاق نسیاں بننے یعنی اگلی سردیوں تک ان کو بھول جانے کی بجائے وقتی طور پر ہی سہی ایک بار پھر زیب تن کر لیا گزشتہ روز پی ایس ایل کا میچ بھی بارش کی نذر ہونے سے بال بال بچ گیا ،اگرچہ موسمیات والوں نے پیش گوئی کی ہے کہ دو ایک میچ بارش سے متاثر ہونے کا خطرہ موجود ہے جبکہ اس قسم کے موسم کے ساتھ بعض موسمی بیماریاں بھی نتھی ہوتی ہیں خصوصاً بچوں اور بزرگوں کی صحت کے حوالے سے خدشات بھی جنم لیتے ہیںیہ الگ بات ہے کہ بدلتے موسم کی وجہ سے بعض بیماریاں رفو چکر بھی ہوجاتی ہیں اور ان دنوں یہ جو کورونا کی وباء پھیل رہی ہے عین ممکن ہے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیئے کہ ان تازہ بارشوں سے اس بیماری کے جراثیم بھی برستی بارش کے پانیوں کے ساتھ دھل کر ختم ہو جائیں کہ اللہ کا کرم تو انسانوں کیلئے فلاح کا باعث ہوتا ہے اس لیئے رب کریم سے خیر کی توقع کرنی چاہیئے۔
گھر سے مسجد بہت دور چلو یوں کرلیں
کسی روتے ہوئے بچے کو ہنسایا جائے
گورنر خیبرپختونخوا نے نالائق طلبہ کی اہمیت سے آگاہ کرتے ہوئے ہمیں اپنے لڑکپن کے دور میں پہنچادیا ہے جب سکولوں کے طلبہ اکثر اپنے ان کلاس فیلوز کے بارے میں ایک شعر کو ورد زبان کرتے تھے جو نالائق،پھسڈی اور غبی ہوا کرتے تھے اور یہ شعر کچھ یوں تھا کہ
پڑھو گے لکھوگے بنوگے نواب
کھیلو گے کودوگے ہوگے خراب
تاہم اب حالات بہت بدل چکے ہیں،کہ آج کل کھیلوں میں جو مزد ہیں وہ پڑھے لکھے ہوئوں کو کہاں حاصل،ہمارے ہاں یہ مزے اگرچہ فی الحال کرکٹ کے کھلاڑیوں کی قسمت میں لکھے ہوئے ہیں جن کو کرکٹ کنٹرول بورڈ والے بھاری معاوضوں پر کھلاتے ہیں اور دنیا بھر سے ان کو کھیلنے کی دعوت ملتی ہے ،ڈالروں میں معاوضہ وصول کر کے نہال ہوتے ہیں،جبکہ ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی اپنی مصنوعات کے اشتہارات میں انہیں بطور ماڈل شامل کر کے الگ سے دولت کے انبار ان کے قدموں میں دھر دیتے ہیں جبکہ اب تقریباً ہر ملک کے اندر بھی نئے ٹیلنٹ کی تلاش کیلئے ٹورنامنٹ منعقد ہوتے ہیں جن میں نہایت معقول معاوضوں کے طفیل ان کو کنٹریکٹ دے کر کھلایا جاتا ہے،مقصد کہنے کا یہ ہے کہ وہ پرانا بیانیہ تبدیل ہوچکا ہے کہ کھیلنے والوں کو کچھ نہیں ملتا اور صرف پڑھے لکھوں کی زندگی آرام سے گزرتی ہے اور اب تو جناب گورنر نے نالائقوں کو خود اپنے ہی بقول گورنر تک بننے کی نوید دیدی ہے،خدا جانے ان کاروئے سخن''کن''کی جانب ہے ہم تو یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ
روئے سخن کسی کی طرف ہو تو روسیاہ