خوشگوار پاک افغان تعلقات میں تعلیم کا کردار

خوشگوار پاک افغان تعلقات میں تعلیم کا کردارپاکستان اور افغانستان کے درمیان سفارتی، علاقائی، برادرانہ،تاریخی،ثقافتی اور سب سے بڑھ کر مذہبی اور ہمسایہ پن کے بہت قریبی تعلقات رہے ہیں اور اس وقت بھی موجود ہیں لیکن عجیب بات ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان حکومتی سطح پر کبھی بھی قابل اعتماد تعلقات کا فقدان رہا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے گلہ وشکایت کرتے آئے ہیں کہ مسلمان پڑوسی کی حیثیت سے ہر ایک اپنا کردار کماحقہ،ادا کرنے میںناکام رہا ہے افغانستان کی شکایت یہ رہی ہے کہ پاکستان اپنی تزویراتی گہرائی کے حصول کے لئے ہمیشہ اپنی منصوبہ بندی کرتا رہا ہے جبکہ پاکستان کا گلہ بڑا شدید رہا ہے کہ پہلے دن ہی سے افغانستان نے پاکستان کو تسلیم کرنے میں روڑے اٹکائے اور آج تک ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد تسلیم کرنے میں پس وپیش کا شکار رہا ہے۔اس جلتی پر ہمیشہ دونوں طرف کے پختون قوم پرستوں کی طرف سے بھی پختونستان وغیرہ کے سٹنٹ کی صورت میں تیل ڈالا جاتا رہا ہے اور وقتاً فوقتاً اور ابھی چند دن پہلے پی ڈی ایم کے فورم سے''لروبر'' ایک افغان کے نعرے بھی بلند ہوتے رہے ہیں ویسے حسین اتفاق کے طور پر جملہ معترضہ ہی سہی''لروبر''کا نعرہ اتنا معیوب بھی نہیں اگر اس کو صحیح پس منظر میں سمجھا جائے دونوں طرف کے پختونوں کو واقعی اتفاق واتحاد اور محبت ویکجہتی کا بہت ہی شوق ہے تو اگر افغانستان ،پاکستان کے ساتھ کنفڈریشن میں آنا چاہیئے تو دو مسلمان پڑوسیوں کو ایک ہونے بلکہ یک جان ودوقالب ہونے میں کون سی چیز مانع ہو سکتی ہے لیکن اگر کوئی خدانخواستہ وطن عزیز پاکستان کے کسی حصے کو کسی اور طرف لے جانے کی بُری نیت کا حامل ہے تو یقیناً یہ آواز پاکستان کے کسی بھی حصے سے اُٹھے تو مذموم ومسموم ہونے کے علاوہ اس قابل ہے کہ اس کا فی الفور ٹیٹوادبایا جائے۔لیکن کیا پاکستان اور افغانستان کے درمیان کھلے اور پرخلوص دل کے ساتھ برادرانہ تعلقات ان خشخشوں کے بغیر ممکن نہیں ہیں یقیناً یہ ممکن ہے لیکن اس کے لئے دونوں ملکوں کے مقتدر طبقات کی طرف سے اپنے اپنے کردار کو صحیح اور پرخلوص طریقے سے نبھانا پڑے گا۔اس وقت دونوں ملکوں کے درمیان تقریباً2500کلو میٹر طویل سرحد پر باڑ لگ گیا ہے جس کے بارے میں مخالفین پاکستان کی طرف سے معاندانہ پروپیگنڈا کیا گیا اور پاک افواج پر حملے بھی ہوئے اور ان کو جانی قربانیاں بھی دینی پڑیں لیکن دونوں ملکوں کے درمیان اس باڑ کا لگنا اس لئے ضروری تھا کہ ایک دوسرے پر بے جا الزامات کی روک تھام ممکن ہوسکے۔اگرچہ اس باڑ پر کروڑوں کا خرچہ ہوا ہے جو عوام کی فلاح پر خرچ ہو تا تو بہت اچھا ہوتا لیکن یہ تب ممکن تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات خوش گوار اورقابل بھروسہ ہوتے اور ان دونوں قدیم تاریخی ملکوں کے درمیان ان سرحدوں پر دونوں کے دشمنوں کی طرف سے گڑ بڑ کا خطرہ وخدشہ نہ ہوتا۔اس باڑ کے لگنے کے بعد ظاہر ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان عوام کی آمدورفت باقاعدہ پاسپورٹ، ویزہ یا شناختی دستاویزات کے ذریعے ہوگی اور اس میں زیادہ تکلیف افغان عوام کو ہوگی کیونکہ لوگوںکا سفری بہائو افغانستان کی طرف سے پاکستان کی طرف ہے۔یہاں کے مہاجرین دونوں طرف آباد ہیں اور تجارت کے علاوہ علاج معالجہ اور رشتہ داروں سے میل میلاپ کے لئے لوگ آتے جاتے ہیں لہٰذا اب پاکستان کے پاس ایک بہترین موقع ہے کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات پائیدار بنیادوں پر خوش گوار بنانے کے لئے کام شروع کرے۔اس مقصد کے حصول کے لئے سرحدوں پر تعینات افواج پولیس لیویز،کسٹم اور دیگر محکموں کے اہل کاروں کو اپنے اچھے سلوک واخلاق کے ذریعے افغانستان کے غریب عوام کے دل جیتنے ہوں گے اس وقت طورخم اور دیگر پوائنٹس پر تعینات اہل کاروں سے افغان عوام بہت شاکی ہیں۔رشوت کے حصول کے لئے عوام کو تنگ کیا جاتا ہے اور اتنا تنگ کہ اُن کے دلوں میں ظاہر ہے کہ ان کے لئے محبت کے جذبات کا پیدا ہونا بہت مشکل ہے۔اسی طرح تاجر حضرات کے ٹریلرزاور ترکوں کو''خواہ مخواہ''روکے رکھنا اور اُس میں لاکھوں روپے کے سامان اور بالخصوص پھلوں وغیرہ کا خواب ہو کر خسارے میں جانا غریب لوگوں کے لئے یقیناً موت وحیات کا مسئلہ بن جاتا ہے ان شعبوں میں اصلاحات تیزی اور آسانی لانے کے علاوہ حکومت خیبرپختونخوا کو چاہیئے کہ فاٹا یونیورسٹیاں ایسے مقامات پر قائم کی جائیں جہاں افغانستان کے دور پار سے نئی نسل حصول تعلیم کے لئے آسانی کے ساتھ آسکیں اور ان جامعات میں وہ شعبے قائم کئے جائیں جس میں افغانستان کے مستقبل کی بیوروکریسی کے لئے افراد کی تیاری کے علاوہ ایسے ہنر مند بھی تیار ہو سکیں جو افغانستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کر سکیں اور روزگار کی تلاش میں پاکستان نہ آنا پڑے۔یہی نوجوان نسل پاکستان کی ان جامعات کو اپنا مادر عملی سمجھیں گے تو پاکستان سے ان کی محبت میں اضافہ ہوگا۔بھارت نے ان ہی خطوط پر کام کر کے مشرق وسطی اور افغانستان کے نوجوانوں کی ایک ایک اچھی بھلی تعداد اپنے تعلیمی اداروں سے فارغ کروا کر ان ملکوں میں اپنا سافٹ امیج پیدا کر نے میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔فاٹا(اب اضلاع)میں ہر ضلع کی سطح پر ایک میڈیکل یونیورسٹی مختصر لیکن مخصوص شعبوں اور نصب العین اور ویژن ومشن کے حامل اساتذہ کے ذریعے اس عظیم مقصد کے حصول کے لئے منصوبہ بندی وقت کی اہم ضرورت ہے۔