جمہوریت اور صرف جمہوریت

ہم میں سے اکثر جس سوال کو نظر اندازکر کے آگے بڑھ جاتے ہیں وہ کچھ اس طرح''کیا پاکستان میں کبھی طلوع صبح جمہور بھی ممکن ہے؟'' تھوڑاسا ٹھنڈے دل سے غور کیجئے کہ کیا ہمارے خمیر میں(یہاں ہم سے مراداجتماعی ہے ناکہ انفرادی)جمہوریت دوستی شامل ہے؟ایک ایسا خطہ جس میں جو دنیا کی قدیم تہذیبوں کا مسکن رہا ہو اب آخر ایسا کیا ہوا کہ صرف تہذیبی ارتقا کا سفر رُک گیا بلکہ جمہوریت عوام کے لئے اس کا فلسفہ بس کتابوں تک محدود رہے۔میرے ایک دوست نے پیپلز پارٹی کے انتخابات کے حوالے سے لکھے گئے کالم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا''شاہ جی کیا آپ نہیں جانتے کہ دراندازی کتنی مضبوط ہے۔ کھلے جماعتی انتخابات میں دراندازوں کے ذریعے شیخ رشید جیسوں کو پارٹی سربراہ منتخب کروالینا ''اُن''کے لئے مشکل نہ ہوتا۔یہ جواب معروضی سیاست اور سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کی تاریخ کے تناظر میں تو درست ہے لیکن جمہوریت کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔ جمہوری اقداروروایات اور نظام کے ساتھ سیاسی پارٹیوں کے اخلاص پر ہم مکالمہ اٹھا سکتے ہیں لیکن ایک ایسے معاشرے میں جہاں محض لسانی تعصب میں گندھی نفرت سے سچائی کا قتل ہوتاہو تو وہاں مکالمہ کون کرے گا؟۔عین ممکن ہے کہ بالائی سطور یا یہ موضوع دونوں آپ کے نزدیک غیر ضروری ہوں مگر میری رائے یہی ہے کہ گھٹن تعصب اور جہالت کے ساتھ اندھی شخصیت پرستی سے نجات کی صورت یہی ہے کہ مکالمہ کی فضا بنائی جائے۔ ایک رائے یہ ہے کہ مذہبی اساس رکھنے والے قومی نظریہ نے تقسیم برصغیر کی راہ ہموار کی اور دوسری یہ کہ مسلم اقلیت یہ سمجھتی تھی کہ ہندواکثریت اس کے سیاسی شہری مذہبی اور معاشی حقوق کے مانع ہوگی۔ایک طالب علم کی حیثیت سے دوسری رائے کو خوف کا نتیجہ سمجھتاہوں البتہ اولین رائے سے متفق نہیں ہوں۔ وجہ یہی ہے کہ قوم وطن سے بنتی ہے مذہب سے نہیں لمبی چوڑی بحث سے دامن بچا کر بھی ہم اس سوال کا جواب تلاش نہیں کر پائیں گے کہ پاکستان میں مذہب پسند حلقوں کے نزدیک ایک دین اسلام کی تعلیمات سے زیادہ عقائد کی تعلیمات اہمیت کی حامل ہیں اور وہ عقائد کی تعلیمات سے بنی فضا میں جیتے ہیں اس طور جتنے مسلم فرقے اتنی قومیں۔ہم آگے بڑھتے ہیں۔ہمیں دیکھنا ہوگا کہ پاکستان میں حقیقی عوامی جمہوریت کے قیام میں امرمانع کیا ہے۔سادہ سا جواب یہ ہے کہ بالادست طبقات، اسٹیبلشمنٹ اور مذہبی پاپائیت پر مشتمل اتحاد اس کے مانع ہے۔اس طاقتور اتحاد کی وجہ سے ہی عام آدمی جمہوری اقداروروایات سے زیادہ پسندیدہ شخصیت کی طرف دیکھتا ہے ہم یہ کہہ کر دامن نہیں بچا سکتے کہ دشمنی پسندیدگی بر صغیر کے لوگوں کی گھٹی میں پڑی ہے یہ فرار کے لئے محض بہانہ ہے۔اصولی طور پر سیاسی جماعتوں کو اپنے تنظیمی ڈھانچوں کے اندر جمہوری روایات کو فروغ دینا چاہیئے تھا۔ساعت بھر کے لئے رُک کر غور کیجئے کہ آخر سیاسی جماعتوں کے تنظیمی ڈھانچوں میں 1970ء کی دہائی سے قبل جمہوری روایات موجود تھیں ان کا احترام اور ان پر عمل بھی ہوتا تھا،1970کی دہائی کے بعد آخر ایسا کیا ہوا کہ ہم اجتماعی طور پر جمہوریت وجمہوری روایات سے دور ہوتے چلے گئے۔کالم کے دامن میں اتنی گنجائش نہیں ہوتی کہ موضوعات پر تفصیل سے بات ہو پائے اور جزائیات پر ایک ایک کرکے رائے عرض کی جائے۔البتہ مختصراً یہ ضرور عرض کردیتا ہوں کہ ہم اپنی تاریخ سے کٹ کر جیتے سماج میں بستے ہیں ایسے سماج میں جس کے پاس اپنا کچھ بھی نہیں۔مثال کے طور پر کسی دن دستیاب تاریخ اور ہیروز پر ایک ناقدانہ نگاہ ڈال لیجئے۔آپ یہ بات آسانی سے سمجھ جائیں گے کہ جس شخصیت پرستی کے جنون کا ہم اجتماعی طور پر شکار ہیں اس نے اس تاریخ اور ہیروز کی محبت سے جنم لیا ہے۔اگر ہم ہوش محمد شیدی،احمد خان کدی،ساون مل اور ان جیسے دوسرے زمین زادوں کو اپنا ہیرو سمجھتے تو ہمارا رویہ بالکل مختلف ہوتا یوں کہہ لیجئے کہ اس کے لئے ہمیں اپنی تاریخ پر فخر کرنا پڑتا ہے اور ظاہر ہے اس صورت میں بالادشت اشرافیہ اسٹیبلشمنٹ اور مذہبی پاپائیت چار ہنکا نہ کر پاتے پائے۔مکرر عرض ہے کہ ہم اگر اس ملک میں اپنی آنکھوں کے سامنے حقیقی جمہوری نظام قائم ہوتا اور پنپتا دیکھنے کے آرزومند ہیں تو پھر لازم ہے کہ ہم اجتماعی طور پر یہ موقف اپنائیں کہ بدیسی تاریخ ہیروز نہیں ہمیں اپنی تاریخ اور ہیروز چاہئیں۔یہ ہو جاتا ہے کہ پھر ہمارے فکری رہنما رحمن بابا،بلھے شاہ،شاہ حسین،مولوی لطف علی،سچل سرمست،شاہ بھٹائی ، مست توکلی ہوں گے۔زہن میں رکھئے ہمارے ہاں جو لوگ حملہ آوروں اور حاکموں کی مذہبی اسٹیبلشمنٹ کے پروردہ ہیں انہیں یہ بات ہضم نہیں ہوگی وہ کبھی یہ نہیں چاہیں کہ آفاقی نظرئیہ کے ٹرک کے پیچھے بھاگنے کی بجائے ہم زمینی محبت اور مرضی کا سماج اور نظام تشکیل دینے کے خوابوں کی تعبیر حاصل کر پائیں۔اپنے عہد میں جینے اور اگلی نسلوں کو محفوظ مستقبل دینے کی واحد صورت یہی ہے کہ ہم اپنی اپنی ذات کے خول سے باہر نکل کر اجتماعیت کے حوالے سے سوچیں اور اس امر کو یقینی بنائیں کہ جمہوریت اور صرف جمہوریت اس کے سوا کچھ نہیں۔