فارن فنڈنگ کیس یا بہتی گنگا؟

پی ڈی ایم نے استعفوں کی طرف بڑھتے اچانک قدم روک کر دوبارہ اداروں سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کا ایک مظاہرہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سامنے ہونے والا احتجاجی مظاہرہ ہے ۔رجوع کرنے کا یہ انداز فدویانہ کی بجائے دھمکانے اور طنزیہ کے رنگ لئے ہوئے تھا اس کے باجود یہ ایک ادارے پر مشروط اعتماد کا مظہر تھا ۔اس سے پہلے تو اپوزیشن عدلیہ ،فوج ،پارلیمنٹ الیکشن کمیشن سمیت کسی بھی ادارے پر اعتماد کرنے سے انکاری تھی ۔حکومت نے بھی تھوڑی سی رد وکد کے بعد پی ڈی ایم کی جماعتوں کو اسلام آباد کے ریڈ زون میں جمع ہو نے کی اجازت دی ۔اس میں شیخ رشید احمد کی خود اعتمادی کا دخل بھی ہے جو اپوزیشن کو قانون اور آئین کے دائرہ میں آخری حد تک جانے دینے کی حمایت کرتے ہیں ۔اس وقت وزیر داخلہ کا کام صرف اپوزیشن کو ریڈ لائن عبور کرنے کی کوشش پر سائرن بجانا ہے ۔ان کا اصل کام اس وقت شروع ہو گا جب پی ڈی ایم قانون کے دائرے سے باہر نکل کر احتجاج کرے گا جس کا دور دور تک کوئی امکان نہیں ۔اس لئے شیخ رشید احمد بطور وزیرداخلہ اپوزیشن کے ساتھ چھپن چھپائی کھیلتے رہیں گے ۔پی ڈی ایم کے راہنمائوں نے الیکشن کمیشن کے سامنے مظاہرہ کرکے تحریک انصاف کے فارن فنڈنگ کیس پر فوری فیصلہ سنانے کا مطالبہ کیا ۔اس کے ساتھ ہی پی ڈی ایم کی قیادت نے تقریروں میں دھاندلی ،سلیکٹڈ اور سلیکٹرز کا پرانا راگ تھا ۔یوں لگ رہا تھا کہ ملک کا موجودہ حلیہ صرف دو سال میں بگڑا ہے اور پی ڈی ایم کے قائدین کسی اجنبی سیارے سے اب پاکستان کے عوام کی مسیحائی اور دست گیری کے لئے آئے ہیں ۔یوں لگتا ہے کہ 1985سے جو لوگ مختلف اوقات میں حکمرانی کرتے رہے ہیں وہ کسی اور دنیا کے لوگ تھے اور اب پی ڈی ایم قائدین کی صورت میں نئے لوگ عوام کی دلجوئی اور ماضی کے زخموں کو مندمل کرنے آئے ہیں۔پانامہ سے ریکوڈک تک ،ملائیشیا میں ضبط ہونے والی طیارے سے براڈ شیٹ تک جو بھی افسانوں کا جو بھی مجموعہ سامنے آتا ہے اس کا دیباچہ بیس سے تیس سال پہلے لکھا گیا ہے ۔بس موجودہ حکمران اپنی بے تدبیریوں کے باعث کہانی کا ڈراپ سین اور تمت بالخیر لکھنے کے سزاوار ہیں ۔اپوزیشن لیڈروں نے کھل کر الزام لگایا ہے کہ اسرائیل اور بھارت نے پی ٹی آئی کو فنڈز دئیے ۔یہ بہت سنگین الزام ہے جس کا نہ صرف عمران خان کو جواب دینا چاہئے بلکہ اس کیس کا فیصلہ میرٹ پر ہونا چاہئے ۔قانون کے تحت ہونے والے فیصلے پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے ۔بیرونی فنڈنگ کے معاملے میں ہر جماعت کی تلاشی ہونی چاہئے ۔کونسی جماعت کس دور میں بیرونی ممالک سے کسی بھی شکل میں فنڈز وصول کرتی رہی ہے ۔مولانا فضل الرحمان اور مولانا شاہ احمد نورانی الگ مسالک کے ساتھ وابستہ ہونے کے باجود ایک مدت تک لیبیا اور معمر قذافی کے ساتھ بریکٹ ہوتے رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن عرب ممالک کے ساتھ راہ ورسم رکھتی ہے اور اس حوالے سے بے نظیر بھٹو اُسامہ بن لادن کے پیسے استعمال ہونے کی بات بھی کی جاتی رہی ہے۔
اسی کی دہائی کے اخبارات کی سرخیاں یاد کریں تو سیاسی مخالفین عوامی نیشنل پارٹی کے راہبر خان عبدالغفار خان کو اندرا گاندھی کی طرف سے ایوارڈ کے ساتھ رقم دئیے جانے کے الزامات نظروں کے سامنے گھومنے لگتے ہیں ۔ پیپلزپارٹی بھی مارک سیگل اور ہیپی منولا کے ساتھ اسی قسم کی راہ ورسم کے الزامات کی زد میں رہی ہے ۔شاید یہی وجہ ہے کہ بلاول بھٹو نے فارن فنڈنگ کیس سے خود کو الگ کر دیا ہے اور وہ احتجاج کے روز خیر پور میں ضمنی انتخاب میں کامیابی کا جشن مناتے رہے جس کا ذکر شیخ رشید احمد نے بھی خوشی کے ساتھ کیا۔ حد تو یہ کہ جنرل پرویز مشرف خود اعتراف کر چکے ہیں کہ سعودی فرماں روا شاہ عبداللہ ان کے اکاونٹ میں ہر ماہ کچھ رقم منتقل کرتے تھے ؟جنرل مشرف اسلام کی کونسی خدمت انجام دے رہے تھے ؟یہ تو خود انہیں رقم منتقل کرنے والوں کو ہی علم ہوگا ۔ سوال یہ ہے کہ فارن فنڈنگ کیوں کی جاتی ہے ؟ طاقتوربیرونی ملک ہمیشہ کسی دوسرے ملک میں ایک فرینڈلی حکومت لانے کے لئے دائو کی تلاش میں ہوتے ہیں ۔اس کا مقصد احسانات کے بوجھ تلے دبا کر حکومت کی پالیسیوں پر اثرا نداز ہونا ہے ۔حکومت کے فیصلوں کو اپنے مفاد کے تابع رکھنا ہے ۔ماضی قریب تک پاکستان جس قسم کی'' بنانا ری پبلک'' رہا ہے اس میں ہر دوست اور دشمن ملک کی خواہش رہی ہے کہ یہاں اس کی دوست حکومت قائم ہو ۔امریکہ کے انتخابات میں چین اور روس پر مداخلت کے الزامات لگائے تھے ۔امریکہ کی خواہش یہ رہی ہے کہ ایک ایسی حکومت قائم ہو جو ایٹمی پروگرام کو رول بیک کرکے خطے میں قائم ہونے والا طاقت کا توازن خراب کرے ۔
بھارت کی خواہشات بھی کچھ اسی انداز کی ہیں ۔عرب ملکوں اور یورپ کی اپنی خواہشات رہی ہیں۔پاکستان کے آئین سے اسلامی دفعات کا خاتمہ اور نصاب میں تبدیلی بھی انہی ترجیحات میں شامل رہا ہے ۔یہ ماضی کے قبرستان میں دفن ایک ایسا مردہ ہے جس کا مکمل پوسٹ مارٹم ہونا چاہئے ۔حکومت کا دامن صاف ہے تو اسے خندہ پیشانی سے اس ہر فیصلے کا سامنا کر نا چاہئے مگر کہانی یہیں ختم نہیں ہونی چاہئے بلکہ اس کا اطلاق ہر دور ،ہر الیکشن اور ہر سیاسی جماعت اور شخصیت پر ہونا چاہئے ۔