کھلی سماعت پر اتفاق

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کہ کئی ممالک اپوزیشن کی جماعتوں کی فنڈنگ کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس اٹھانے پر اپوزیشن کا شکر گزار ہوں، یہ سب سامنے آنا چاہیے کہ تحریک انصاف اور اپوزیشن جماعتوں کی فنڈنگ کہاں سے ہوتی رہی، ساری دنیا میں سیاسی جماعتیں فنڈنگ کرتی ہیں، فارن فنڈنگ کیس کی کھلی سماعت ہونی چاہیے اور اسے ٹی وی پر براہ راست دکھایا جائے، پارٹی سربراہوں کو بھی بٹھا کر کیس سننا چاہیے۔وزیراعظم تو فارن فنڈنگ کیس پر حزب اختلاف کے مشکور ہیں لیکن یہ کیس حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد نے نہیں اٹھایا بلکہ خود تحریک انصاف کے بانی رکن اور گھر کے بھیدی اسے الیکشن کمیشن لے گئے پی ڈی ایم نے تو سات سال سے زیر التواء مقدمے کا فیصلہ کرنے کا مطالبہ لیکر الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج کیا تھا۔فارن فنڈنگ کیس میں ایجنٹوں کی ذمہ داری نہ لینے کی بات خود پی ٹی آئی کی جانب سے کی گئی لیکن بہرحال ان معاملات سے قطع نظر وزیراعظم کی جانب سے فارن فنڈنگ کیس کی کھلی سماعت اور ٹی وی پر براہ راست دکھانے کا مطالبہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو میڈیا پر براہ راست دکھانے کے دیرینہ مطالبہ سے مماثل ہے قانونی طور پر ایسا ممکن ہے یا نہیں اس سے قطع نظر ایک موجودہ وزیراعظم اورایک سابق وزیراعظم کی جانب سے اپنے یا پھر اپنی جماعت کے حوالے سے مقدمات کی کھلی سماعت اور میڈیا پر دکھانے کے مطالبات کو عملی شکل دینے کی سعی کی گئی تو عوام کو حقیقت حال اور اصل معاملہ سننے اور سمجھنے میں بڑی مدد ملے گی درون خانہ سماعت کے بعد ہر فریق باہر آکر یہ تاثر دیتا ہے کہ گویا عدالت میں ان کے خلاف کچھ پیش ہی نہ کیا جا سکا اور شواہدوگواہ ودستاویزات ان کے خلاف موجود نہ ہونے پر بالآخر عدالت ان کے حق میں فیصلہ دے گی جبکہ مخالف وکیل اورجماعت کے دعوے برعکس ہوتے ہیں ایسے میں عوام اس امر کا اندازہ نہیںکرپاتے کہ سچا کون ہے اور غلط بیانی کون کررہا ہے۔ایک جیسے مطالبات کرنے والے جب یکساں موقف رکھتے ہیں تو پھر ان کو اس حوالے سے کوئی متفقہ لائحہ عمل بھی اختیار کرنا چاہیئے تاکہ عوام کے سامنے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو ضرورت اس امر کی ہے کہ جتنا جلد ممکن ہوسکے نیب اور الیکشن کمیشن سیاسی مقدمات کا فیصلہ سنادیں۔جن لوگوں کو اپنے موقف کی جیت کا یقین ہے وہ کم از کم عدالت اور الیکشن کمیشن سے درخواست کریں کہ فیصلہ جلد سنایا جائے تاکہ حقیقت عوام کے سامنے آئے۔
سارے ضم اضلاع میںنیٹ سروس دی جائے
وزیراعظم عمران خان کا جنوبی وزیرستان میں انٹر نیٹ سروس کی بحالی کے مطالبے پر انٹر نیٹ کھولنے کے احکامات کے بعد کوئی وجہ نہیں کہ دیگر ضم اضلاع کے عوام کو اس سے محروم رکھا جائے نیٹ سروس کی بحالی وفراہمی قبائلی نوجوانوں طالب علموں اور روزگار کے متلاشی افراد سمیت سب کا مشترکہ اور متفقہ مطالبہ رہا ہے جس پر اب تو جہ دینے اوران کا دیرینہ مطالبہ بالآخر منظور ہونا چاہیئے توقع کی جانی چاہیئے کہ وزیراعظم کے اعلان کو جنوبی وزیرستان کے دس مقامات تک محدود نہیں کیا جائے گا بلکہ پورے ضم اضلاع میں انٹر نیٹ سروس بحال کی جائے گی۔
قانون کی بالادستی ضروری ہے
کیپٹل سٹی پولیس پشاور کے دفتر سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ قا ئمقام ڈی ایس پی سبر ب کو اختیارا ت کا ناجا ئز استعمال کر نے پر لا ئن حا ضر کیا گیاہے تاہم دوسری جانب پولیس ذرائع کے مطابق ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کو یہ اختیار قانون نے دیا ہے اور انہوں نے کوئی غیر قانونی یا اختیارات سے متجاوز اقدام نہیں اٹھایا ہیقانون کی خلاف ورزی پر فوری اقدام کی ضرورت سے انکار نہیں لیکن جس اقدام کی قانون میں گنجائش موجود ہے اس حاصل اختیار کے تحت فیصلہ متعلقہ افسر کا امتحان اور صوابدید ہے جس کے خلاف کارروائی کی قانون میں گنجائش نہیں بلکہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔پولیس افسران خواہ وہ افسران بالا ہوں یا ماتحت دونوں قانون کے پابند اور قانون کے مطابق اختیارات کا استعمال ان کی ذمہ داری ہے محولہ صورتحال میں قانون مقدم اور قانون کے مطابق فیصلہ وکارروائی کا ایک مرتبہ پھر جائزہ لیکر اسی کے مطابق کارروائی کی جائے تاکہ قانون کی بالا دستی یقینی بنے۔