وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا الجزیرہ ٹی وی کے ساتھ انٹرویو

ویب ڈیسک (اسلام آباد): وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا الجزیرہ ٹی وی کے ساتھ انٹرویو، وزیر خارجہ پاکستان نے امریکہ کے نومنتخب جوبائیڈن انتظامیہ کے ساتھ تعلقات میں خاطرخواہ اضافے کے لئے پرامید ہے، نومنتخب امریکی قیادت سے قریبی راوبط استوار کرنے کے خواہاں ہیں، افغان امن عمل کے حوالے سے نئی امریکی قیادت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہشمند ہیں، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ افغانستان میں جو موقع میسرآیا ہے اسے محفوظ بنانا چاہئے۔

شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ نومنتخب امریکی انتظامیہ کو افغانستان میں جاری عمل مزید آگے لے کر جانا چاہئے، طویل عرصے بعد ہم درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، افغان عمل کو آگے بڑھانے کے لئے تمام توانائیاں صرف کرنا ہوں گی، آغاز سے اب تک جو کچھ حاصل ہوچکا ہے، اسے محفوظ بنانا اور اس مقام سے آگے بڑھانا چاہئے، افغانستان میں تشدد کے واقعات پر ہمیں تشویش ہے کیونکہ اس سے صورتحال میں بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے، افغانستان میں امن کے لئے پاکستان نے سرتوڑ کوششیں کیں، وزیرخارجہ نے کہا کہ افغان امن عمل کے لئے سازگار ماحول کی تشکیل میں ہم نے بہت کٹھن مراحل طے کیے ہیں، افغانستان میں تشدد پر ہمیں تشویش ہے، ہم محسوس کرتے ہیں کہ اس سے ماحول خراب ہوسکتا ہے، افغانستان میں تشدد کے ذمہ دار ’خرابی‘ چاہنے والے عناصر ہیں، جنہوں نے وار اکانومی سے فائدہ اٹھایا ہے، افغانستان کے باہر سے بھی ایسے عناصر اس خرابی میں شامل ہیں جو ہماری پرامن، مستحکم اور خوش حال افغانستان کے قیام کی سوچ کے حامی نہیں، افغان امن عمل ایک مشترک ذمہ داری ہے لیکن اس کی حتمی ذمہ داری افغان قیادت پر عائد ہوتی ہے، یہ ان کا ملک ہے، ان کا مستقبل اس سے وابستہ ہے، میری دانست میں مفادات کی یکجائی کی حمایت کی جانی چاہئے، ہماری سوچ اور اہداف نومنتخب امریکی انتظامیہ کی ترجیحات کے مطابق ہیں جنہیں مزید بڑھایا جاسکتا ہے۔

وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ امریکہ کو سی پیک میں آنا چاہئے، مسابقت اور اس میں سرمایہ کاری کرنی چاہئے، امریکہ کو چین کے ساتھ پاکستان کی قربت کو معاشی وسیاسی حریف کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہئے، پاکستان امریکہ اور چین کے درمیان مصالحت کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے، پاکستان نے ایسا کردار 1972 میں بھی ادا کیا تھا، پاکستان نے اس وقت کے امریکی صدر رچرڈ نکسن کے دورہ بیجنگ میں تاریخی مذاکرات کے لئے راہ ہموار کی تھی، پاکستان نے تاریخی طورپر دونوں ممالک کے درمیان رابطے کے امکانات پیدا کیے ہیں، تبدیلی کی اس فضاء میں پاکستان پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔