سیاست کی جادونگری اور سیاسی توتے

پاکستان کی سیاست وہ جادونگری ہے جس کے بارے میں نہ صرف بچپن اور لڑکپن کے دور میں حیرت انگیز اور طلسم ہوشربا قسم کی کہانیوں کی کتابیں پڑھتے رہے ہیں بلکہ جادوئی مناظر سے مزین فلمیں بھی دیکھتے رہے ہیں۔ ان کہانیوں میں دیوئوں، پریوں، جادوگروں، جنات اور کوہِ قاف پر مختلف مہمات کا تذکرہ ہوتا تھا،شہزادوں کی کسی دوسرے ملک کی شہزادی پر فریفتہ ہونا، شادی کے پیغامات مگر شادی سے پہلے اچانک کسی جن یا دیو کا شہزادی کو اُٹھا کر لے جانا اور پھر شہزادی کی بازیابی کیلئے شہزادے کی تگ ودو، راستے میں کئی آزمائشوں سے گزرنا، بالآخر دیو یا جن کے محل تک پہنچنا مگر وہاں جا کر اسے یہ معلوم ہونا کہ جس جن یا دیو کیخلاف شہزادہ نبردآزما ہے اس کی جان تو دراصل ایک توتے (طوطے) میں ہے، جو فلاں مقام پر پنجرے میں قید ہے، اس تک پہنچنے کیلئے شہزادے کو مزید جان جوکھم میں ڈالنے اور طوطے کو حاصل کر کے اس کی گردن دیو یا جن کے سامنے مروڑنے سے ہی اسے گوہر مقصود ہاتھ آسکتا ہے، وگرنہ وہ جان بچا کر بھاگ جائے اور شہزادی کو اس کے حال پر چھوڑ دے، اس قسم کی کہانیوں اور فلموں میں کیمرہ ٹرک کے ذریعے ایسے ایسے مناظر ہوتے کہ عقل دنگ رہ جاتی، اگرچہ یہ تب کی بات تھی جب ٹیکنالوجی نے اتنی ترقی کی تھی نہ لوگوں کی سمجھ میں یہ ''جادوگری'' آتی تھی۔ اب اگر ان فلموں کو آپ دیکھیں تو یہ بالکل بچگانہ قسم کی بات محسوس ہوتی ہے، برصغیر میں عبدالرشید نامی ایک فلم ڈائریکٹر کا بڑا شہرہ تھا، وہ اس نوع کی فلمیں بنانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ ان کے بارے میں یہ بات بہت مشہور تھی کہ وہ مزاج کے بہت تیز تھے، اور اکثر فلم بندی کے دوران ایکٹروں اور ایکٹرسوں کیساتھ ان کے اختلافات پیدا ہو جاتے تھے اور وہ ان کو فلم کی کاسٹ سے الگ کر دیتے تھے، مگر تھے وہ اتنے کائیاں کہ فلم کے ابتدائی اور اختتامی مناظر پہلے فلم بند کر دیتے تھے اور اگر کسی فلمی ستارے کیساتھ اختلافات پیدا ہو جاتے تو ان کے کردار کو جادوگروں کے کرداروں کے ذریعے مختلف جانوروں اور پرندوں میں تبدیل کر کے چھوٹی سطح کے ایکٹروں یا فلم میں نئے کردار ڈال کر فلم بندی مکمل کر کے آخر میں پہلے ہی سے فلمائے گئے مناظر میں اصل کرداروں کو شامل کر کے تماشائیوں سے تالیاں بجوانے میں کامیاب ہوجاتے، گویا بقول عزیز حامد مدنی
طلسم خواب زلیخا ودام بردہ فروش
ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں
بات سیاسی جادونگری سے شروع ہوئی تھی مگر بچوں کی جادوئی کہانیوں اور جادو اور طلسم کے واقعات پر مبنی فلموں تک جا پہنچی، اگرچہ یہ داستان اتنی طولانی ہے کہ اس پر مزید بھی بہت کچھ کہا جا سکتا ہے کہ ایسی کئی فلموں کے نام بھی ذہن کے پردے پر مرتسم ہیں، جن میں نہ صرف بعض اسلامی واقعات بلکہ ہندو مائتھالوجی کے قصوں کے ٹکڑے جوڑ کر بھی جو فلمیں بنائی گئیں ان کا تذکرہ بھی شامل کیا جاسکتا ہے، تاہم اصل موضوع رہ جانے کے خوف سے اسے یہیں روک دیتے ہیں اور سیاسی جادونگری میں تازہ حالات کا جائزہ لیتے ہیں کہ آج کل بعض ایسے کن ''توتوں'' پر قابو پانے کی کوششیں کی جارہی ہیں جن میں دراصل ''سیاسی دیوؤں'' کی جان ہے، سرکار اور اپوزیشن کے درمیان ایک عرصے سے جو کشکمش جاری ہے اس حوالے سے سیاسی قائدین ''اصلی'' اور ''سلیکٹڈ'' کے مابین تفریق کی لکیر کھینچتے ہوئے جس بیانیے پر زور دیتے آئے ہیں اور اپنی تنقید کے تیر وتفنگ کا رخ خاص حلقوں کی جانب کئے ہوئے نظر آتے تھے، اس کا بعض حوالوں سے ''مثبت'' نتیجہ یہ نکلا کہ بالآخر بقول فلمی شاعر ''نانا کرتے بات بالآخر کر بیٹھے'' اور گفت وشنید کے حوالے سے جو تبصرے سامنے آئے ہیں، ان سے مقتدر ایوان میں زلزلہ طاری ہونے کی اطلاعات بھی گردش کر رہی ہیں، اس کا توڑ حکومت نے اصل سیاسی دیوؤں کیخلاف تو جو کچھ کرنا تھا اس کا نتیجہ برآمد نہ ہونے کی وجہ سے بالآخر ان کی جان والے توتوں (طوطوں) کیخلاف ایکشن کا فیصلہ کیا گیا اور ان دنوں سندھ کے وزیراعلیٰ کیخلاف ریفرنس بھیجنے کی جو خبریں سامنے آرہی ہیں ان کا مقصد کئی ایک تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ہے کہ کسی طرح سے ''اصلی سیاسی دیو'' کو اتنا پریشان کیا جائے یعنی اس کی جان والے توتے کیخلاف گھیرا تنگ کیا جائے کہ اصلی دیو کے ہاتھ پیر پھول جائیں اور وہ سندھ حکومت بچانے کی فکر میں ''سرکار'' کیخلاف اپنے اقدامات بھول جائے، یہ گویا ایک ایسی ''سیاسی یدھ'' ہے جس میں ہر قسم کے سیاسی ہتھیار استعمال کرنے کے بعد بھی نتیجہ کیا نکلتا ہے فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا البتہ ایک بار پھر تیسرے فریق کے ہاتھ میدان لگ جانے کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا یعنی بقول مرزا غالب
تھا خواب میں خیال کو دل سے معاملہ
جب آنکھ کھل گئی نہ زیاں تھا نہ سود تھا