براڈشیٹ کی ”غزلیں” اور ٹھمریاں

لیجئے وزیروں، مشیروں اور ترجمانوں کو لہو گرم رکھنے کا مواد براڈ شیٹ نے فراہم کر دیا، پی ٹی آئی کی سیاست کو نیا خون مل گیا، چلیں چھوڑیں ہم براڈ شیٹ پر بات کرتے ہیں۔ نیب نے جنرل پرویز مشرف کے کہنے پر اس کمپنی سے معاہدہ کیا تھا، اس میں چند اہم باتیں غور طلب ہیں، اولاً معاہدہ منسوخ کرنے کا اختیار براڈ شیٹ کے پاس تھا، نیب کے پاس نہیں۔ ثانیاً نیب ہر ریکوری پر 20فیصد براڈ شیٹ کو ادا کرے گا۔ ثانیاً براڈ شیٹ صرف معلومات فراہم کرے گی اور معلومات ہی اسے 20فیصد حصہ کا مالک بنا دیں گی۔ طارق فواد ملک نامی بندے کا کردار ہے جو ایک ریٹائر جنرل نعیم ملک کا داماد ہے۔ ایک بار پھر ساعت بھر کیلئے رک جایئے۔براڈ شیٹ سکینڈل پر حکومت اور اپوزیشن دونوں اپنے اپنے انداز میں غزل سراہیں۔لیکن کیا براڈ شیٹ اصل کمپنی ہے یا معاہدہ (یہ سال2000میں ہوا تھا) سے قبل پانامہ میں رجسٹرہونے والی 2کمپنیاں اصل ہیں۔ براڈ شیٹ صرف جھانسا ہے؟ جھانسہ دینے اور مال کمانے والے کون تھے۔ یقین کیجئے کوئی بھی آپ کو یہ نہیں بتائے گا وہ بھی نہیں جس کے بچوں کا دودھ نوازشریف دور میںکوئی ''بلا'' پی جاتا تھا۔ براڈ شیٹ نے جو رقم لندن کی عدالت کے حکم پر یو بی ایل میں موجود سفارتی اکاؤنٹ سے حاصل کی یہ رقم اکاؤنٹ میں بھجوانے کا فیصلہ کس کا تھا؟ سادہ سا جواب یہ ہے کہ وفاقی کابینہ نے منظوری دی تھی، اب سوال یہ ہے کہ کیوں؟ وفاقی کابینہ سے دریافت کیجئے، اگر تحریر نویس نے کچھ عرض کیا تو انصافی دوست کہیں گے کہ حکومت اور فوج کو بدنام کر رہا ہوں، یہ بدنامی کے قصے بھی عجیب ہیں۔ حضور جو ریٹائر ہو جاتا ہے، اُسے سابقین میں شمار کیجئے، عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اب اگر وفاقی کابینہ نے تحقیقات کرنی ہے تو یہ نادرست فیصلہ ہوگا، اصولی طور پر سپریم کورٹ کے جسٹس کی سربراہی میں چاروں ہائیکورٹس کے جج صاحبان پر مشتمل کمیشن بنانا چاہئے، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگا۔ مگر یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ کمیشن جنرل پرویز ملک، جنرل (ر) نعیم ملک کو طلب کرے، ان سے پوچھے کہ براڈ شیٹ سے معاہدہ سے قبل پانامہ میں جو دو کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، وہ کس کی تھیں۔ کمیشن یہ بھی دیکھے کہ فواد ملک کو نیب کی عمارت میں دفتر کس کے کہنے پر فراہم ہوا، مشرف دور میں کتنی رقم ادا ہوئی، اس منصوبے کے خالق شریف الدین پیرزادہ اب قبر میں آرام سے سورہے ہیں، ظاہر ہے انہوں نے اپنی جادوگری کی قیمت وصول کی ہوگی، کتنی؟ یہ تو نیب بتائے گا۔ کمیشن اگر بنے تو وفاقی کابینہ کے اس اجلاس کے منٹس بھی منگوا کر دیکھے جس میں فیصلہ ہوا تھا کہ رقم سفارتخانے کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دی جائے۔ یہ فیصلہ کیوں ہوا، کس نے کابینہ میں کہا تھا کہ رقم کی منتقلی ضروری ہے۔ براڈ شیٹ نے واقعی بنارسی ٹھگوں کو بے نقاب کردیا لیکن بنارسی ٹھگ کون ہیں؟ وہ ہرگز نہیں جن کی طرف وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز اشارہ کر رہے ہیں۔ صاف سیدھی بات یہ ہے کہ بنارسی ٹھگ براڈ شیٹ سے یہ یکطرفہ معاہدہ کروانے کیلئے پرجوش لوگ تھے کیونکہ اصل کمائی انہوں نے کی اور حصہ داروں میں جنرل پرویز مشرف بھی شامل تھے۔ سیاستدانوں کو بنارسی ٹھک، غلیظ مخلوق، چور لٹیرے اور نجانے کیا کیا کہنے والی مخلوق میں اتنی اخلاقی جرأت نہیں ہے کہ وہ اصل کرداروں کا نام لے سکیں۔ اصل کرداروں کو بچانے کیلئے ہمیشہ اسلام، نظریۂ پاکستان اور تحفظ وطن کو آگے کر دیا جاتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس کی بنیاد پر یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ براڈ شیٹ سکینڈل کے اصل کرداروں کو بچانے کیلئے جو لشکر میدان میں اُتارے گئے ہیں وہ حقائق کو مسخ کررہے ہیں لیکن خیر ہے آج نہیں تو کل اس پورے قصے کے اصل کردار بے نقاب ہوں گے۔ مکرر عرض ہے حکومت اور اس کے بعض سرپرستوں کا دامن صاف ہے، تو پھر بنائے اعلیٰ سطح کا جوڈیشل کمیشن اور کمیشن کی کارروائی لائیو دکھانے کا انتظام کرے تاکہ عوام پورا سچ جان سکیں اور یہ بھی کہ وہ کون ہے جو صرف سیاست اور جمہوریت کو گالی بنا کر پیش کروانے میں تین عشروں سے مصروف ہے۔ یہ وضاحت کردوں کہ سیاسی عمل میں شریک لوگوں میں سے کچھ کرپشن میں ملوث ہوں گے مگر کچھ کا ملبہ پورے سیاسی عمل پر ڈالنا جائز ہے تو یہ حق دوسروں کو بھی دیجئے، یہ غلط ہوگا کہ آپ سب کچھ کہہ جائیں، دوسرے بولیں تو اسلام اور نظریہ پاکستان کو ڈھال بنالیں۔ حرف آخر یہ ہے کہ یہاں ہماری پسندیدہ شخصیت ولی کامل اور باقی شیطانی قرار پاتے ہیں، بس اس سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے اور یہ سمجھنے کی کہ انسان ہوں تو غلطیاں کرتے ہی ہیں۔
پسِ نوشت' براڈ شیٹ سکینڈل کا اب ہوا یہ کہ وزیراعظم نے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) عظمت سعید کی سر براہی میں انکوائری کمیٹی بنادی، جناب عظمت سعید شوکت خانم کے بورڈ آف گورنر کے رکن ہیں، آپ اس وقت نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل تھے جب نیب اور براڈ شیٹ میں معاملات طے پارہے تھے، ان پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ انہوں نے پانامہ جے آئی ٹی کی رپورٹ براڈ شیٹ کو فراہم کی، سوال یہ کہ ان جیسی متنازعہ شخصیت انصاف کر پائے گی؟۔