پولیس محافظ نہیں کچھ اور بن گئی ہے

اسلام آباد میں پولیس اہلکاروں کی بلاجواز فائرنگ میں ایک نوجوان کی ہلاکت کے علاوہ پنجاب کے شہر فیصل آباد میں معمولی بات پر چار پولیس اہلکاروں کا پیچھا کر کے نوجوان کو قتل کر نے کا واقعہ ہو یا پھر پشاور میں پولیس اہلکار کا سیڑھیاں پہلے چڑھنے اُترنے کے تنازعے پر سی ٹی ڈی ٹی اہلکار کا قتل تین صوبوں میں ایک ماہ سے بھی کم وقت میں ہونے والے یہ واقعات اس امر پر دال ہیں کہ پولیس میں یا تو ذہنی طور پر کمزور افراد کی تعداد اب بہت بڑھ گئی ہے یا پھر پولیس اہلکاروں کو اس دبائو میں رکھا گیا ہے کہ وہ ذرا سی بات پر لوگوں کی جانیں لے لیتے ہیں۔ وجوہات جو بھی ہوں ان کا جاننا اور رفع کرنا پولیس حکام کی ذمہ داری ہے، عوامی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو پولیس اب محافظ کم اور قاتل زیادہ بن گئی ہے۔ پولیس کے محکمے اور اہلکاروں کیلئے جو برداشت، تحمل اور قانون کے مطابق عمل کرنا اورہر قیمت پر قانون ہی کو مقدم رکھنا ضروری ہے اب اس کے برعکس ہورہا ہے۔بلاشبہ پولیس بھی اسی معاشرے کا حصہ ہے لیکن اگر پولیس بھی اس معاشرے کا وہ حصہ بن جائے جس سے تحفظ دلانا ان کی ذمہ داری ہے تو پھر عوام کس سے رجوع کریں، وہ اپنے تحفظ کیلئے کس کی طرف دیکھیں۔ پولیس کو صبر وبرداشت تحمل کا مظاہرہ کرنے، ذاتی توہین کو نظر انداز کرنے اور انا پرستی سے گریز کرنے کی خصوصی نفسیاتی مشقیں کرانے کی ضرورت ہے۔ پولیس میں بھرتی کا معیار بھاری رشوت کی بجائے اعلیٰ ذہنی وجسمانی معیار وقابلیت ہونا چاہئے جس طرح کے حالات سے واسطہ پڑنے لگا ہے ایسے میں پولیس اہلکاروں کا خاص طور پر ذہنی ونفسیاتی معائنہ وعلاج کی ضرورت ہے۔مشکوک اور عدم برداشت کے حامل پولیس اہلکاروں کو کم از کم عوام سے واسطہ پڑنے والے مقامات پر ڈیوٹی پر نہ لگایا جائے۔
اونٹ رے اونٹ تیری کونسی کل سیدھی
پشاور یونیورسٹی کے طلبہ کے احتجاج پر جامعہ کی جانب سے فزیکل امتحانات کی منسوخی، دبائو میں آکر بلاجواز فیصلہ ہے۔ سمجھ سے بالاتر امر یہ ہے کہ طلبہ آن لائن کلاسز کے انعقاد پر انٹر نیٹ نہ ہونے کا بہانہ بنا کر احتجاج کرتے ہیں اور جب یونیورسٹی آکر امتحان دینے کا فیصلہ ہوتا ہے تو احتجاج کیا جاتا ہے کہ طلبہ حاضر ہو کر امتحان نہیں دے سکتے، آن لائن امتحان لیا جائے۔ آن لائن امتحان میں کئی ایک قباحتیں ہیں، کیا ہمارے طلبہ دیانتداری سے پر چہ حل کرنے والے ہیں۔ اکثریت کے حوالے سے جواب نفی میں ہے طلبہ کے اس متضاد رویّے سے یہ واضح ہے کہ وہ حصول تعلیم میں کس حد تک سنجیدہ ہیں، جامعات کو ایک اصولی فیصلہ کرنے اور اس پر کار بند رہنا چاہئے تاکہ سنجیدہ طلبہ متاثر نہ ہوں۔
کچھ توجہ ادھر بھی
نوتھیہ پھاٹک پر نالیوں کا گندا پانی سڑک پر بہنے کی تصویر متعلقہ ٹائون انتظامیہ کی غفلت اور لاپرواہی کا منہ بولتا ثبوت ہے، ساتھ ہی تجاوزات کیخلاف عدم کارروائی ضلعی انتظامیہ کی ملی بھگت کی بھی چغلی کھاتا ہے۔ نوتھیہ پھاٹک ایک مصروف کاروباری علاقہ اور عوامی گزرگاہ ہے، علاقے میں نالیوں کی بندش کی وجہ رکاوٹیں اور تجاوزات ہیں یا پھر نالیوں کی صفائی پر توجہ نہیں دی جاتی، قابل توجہ امور ہیں جتنا جلد ہوسکے اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کیا جانا چاہئے۔