وزیرا عظم کا تصور ریاست مدینہ

وزیر اعظم عمران خان جب ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں تو اس کا عمومی تاثر مذہبی تعبیر کا لیا جاتا ہے۔ یہ تاثر اپنی جگہ درست بھی ہے کیونکہ وزیر اعظم نبی آخری الزمان محمدۖ کی ذات بابرکات سے غیر معمولی محبت رکھنے والے شخص ہیں اور دین اسلام کی پیروی کو دنیا و اخروی فلاح کے لیے ناگزیر سمجھتے ہیں لیکن میرے فہم کے مطابق ریاست مدینہ کی بات وہ زیادہ تر فلاحی ریاست کے تناظر میں کرتے ہیں چنانچہ جب بھی ان کی حکومت کوئی ایسا اقدام اٹھاتی ہے جس سے معاشرے کے محروم طبقات کے حقوق کا تحفظ یقینی بنتا ہو تو وزیر اعظم ریاست مدینہ کا ذکر تے ہیں جیسا کہ انہوں نے بروز جمعرات لیٹر آف ایڈمنسٹریشن اور وراثتی سرٹیفکیٹ کے اجراء کی تقریب کے دوران کہا۔ یہ سرٹیفکیٹ نادرا کے ذریعے 15یوم میں جاری کیے جائیں گے اور یوں وفات پا جانے والے کے تمام قانونی وارثین اپنے حق سے محروم نہ کیے جا سکیں گے۔ قبل ازیں وراثتی سرٹیفکیٹ کے لیے عدالت سے بصورت دعویٰ رجوع کرنا پڑتا تھا اور کئی حق داران اپنے حق سے محروم ہو جاتے تھے۔ سمندر پار پاکستانیوں اور خواتین کی جائیداد سے محرومی کے ازالے کے لیے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اٹھایا جانے والے یہ اقدام یقینی طور پر ان کے ویژن اور ریاست مدینہ کے عین مطابق ہے کیونکہ مدینہ کرۂ ارض پر ایک ایسی ریاست کا قیام تھا جو معاشرے کے تمام طبقات کے حقوق کی ضامن تھی۔ مدینہ کی ریاست نے خاص طور پر معاشرے کے محروم طبقات کو وہ حقوق عطا کیے جن سے تاریخ کبھی آشنا نہ تھی۔ یہ وہ حقوق تھے جو صدیاں گزر جانے کے باوجود اہل مغرب کو نصیب نہ ہوئے۔ وہ سرزمین جو آج انسانی حقوق کی چیمپئن ہے ریاست مدینہ کے وجود سے جنم لینے والے ان حقوق سے اٹھارھویں انیسویں صدی تک بھی نابلد اور ناآشنا ہی رہی۔ شہزادہ چارلس کے الفاظ میں اسلام نے چودہ سو برس قبل خواتین کو جو حقوق عطا کیے وہ ان کی دادی جان سے قبل کے برطانیہ میں نابلد و ناآشنا تھے۔
حضرت محمدۖ کی مدینہ آمد کے بعد میثاقِ مدینہ کی صورت میں ایک ریاست کا ظہور ہوا اور اسلامی تعلیمات پر عمل درآمد کی وجہ سے انسانیت کو اس ظلم سے نجات ملی جس کا شکار وہ صدیوں سے ہوتی چلی آئی تھی۔ یہ رحمت العالمین کی ریاست تھی جو غریبوں' فقیروں' ضعیفوں اور یتیموں کی والی اور مددگار ریاست تھی۔
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی بر لانے والا
مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا
وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا
فقیروں کا ملجا ضعیفوںکا ماویٰ
یتیموں کا والی غلاموںکا مولیٰ
عرب جس پر قرنوں سے تھا جہل چھایا
پلٹ دی بس اک آن میں اس کی کایا
سرکار دو جہاں کی وفات کے بعد خلفائے راشدین کے تیس سالہ عہد میں بھی ریاست مدینہ معاشرے کے مظلوم و محروم طبقات کی اسی طرح محافظ رہی جیسا کہ وہ عہدِ نبویۖ میں تھی۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی تو خلافت راشدہ کے عہد کو عہد نبویۖ کا ہی تسلسل قرار دیتے ہیں۔ یہ وہ عہد تھا جب خلیفہ کی ذات بھی قانون کے تابع تھی اور چشم فلک نے وہ مناظر بھی دیکھے کہ خلیفہ اپنا مقدمہ ایک عام یہودی شہری سے ہار گیا اور ایک عام مسلمان شہری وقت کے طاقت ور ترین حکمران سے سوال کرتا ہے کہ مال غنیمت سے سب کے برابر ملنے والی ایک چادر سے اس کا کرتا کیسے بن گیا؟؟ یہ وہ ریاست تھی جہاں غریب اور بوڑھے ضعیف افراد کو گذر بسر کے لیے وظیفے ملتے تھے۔ یہ ریاست کمزور طبقات کے حقوق کی نگہبان ریاست تھی جو اس وقت بھی دنیا کے سامنے ایک مثال تھی اور رہتی دنیا تک ہمیشہ ایک مثال رہے گی کیونکہ فلاحی ریاست کے ضمن میں اس کا نہ کوئی ثانی تھا، نہ ہے اور نہ ہو گا۔ دنیا کی طاقتور اور مالدار ترین حکومت کے سربراہ پیوند لگے کپڑے پہنتے ، اپنے رہن سہن میں انہوں نے سادی کی وہ مثال پیش کی جسکا حوالہ رہتی دنیا تک لوگ دیتے رہیں گے۔ مہاتما گاندھی کا قول اپنے مضامین اور کالموں میںکئی دفعہ نقل کر چکا ہوں ۔ 1937ء میںکانگریسی وزراء سے خطاب کرتے ہوئے مہاتما گاندھی نے کہا کہ ''میں آپ کو رام چندر اور کرشن کی مثال نہیں دے سکتا، حکمرانوں کی سادگی کی مثال دینے کے لیے میںمجبور ہوں کہ میں آپ کے سامنے ابو بکر اور عمر کے نام پیش کروں' وہ بہت بڑی ریاست کے حکمران تھے لیکن انہوں نے فقیروں جیسی زندگی گذاری۔''
ہمارے وزیر اعظم کے سامنے بھی ریاست مدینہ کاماڈل ہے اور ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ انہیں کماحقہ اس ماڈل کی پیروی کرنے کی توفیق دے۔ معاشرے کے غریب اور نادار افراد کے لیے احساس کفالت پروگرام' شیلٹر ہومز اور دسترخوان جیسے اقدامات ہمارے سامنے ہیں' اب ان کی توجہ نظام عدل کے ان پہلوئوں کی جانب ہے جو معاشرے کے محروم اور کمزور طبقات کے حقوق کا ضامن بننے کی بجائے انکی محرومیوں کا مؤجب بن رہے ہیں۔ کریمنل جسٹس سسٹم میں ضروری اصلاحات کا وہ آغاز کر چکے ہیں ۔ وزیر اعظم کی توجہ اب اُس قانون سازی کی طرف ہے جو کمزور طبقات کے حقوق کی نگہبانی کر سکے۔ گذشتہ سال لیٹر آف ایڈمنسٹریشن اور وراثتی سرٹیفکیٹ کے علاوہ حقوق جائیداد ایکٹ برائے خواتین' لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی ایکٹ ، زینب الرٹ رسپانس اینڈ ریکوری ایکٹ سمیت چار ایسے قوانین پارلیمنٹ سے منظور کرائے گئے ہیں جن کا مقصد خواتین' بچوں ' غریبوں اور سمندر پار پاکستانیوں کے حقوق کا تحفظ ہے۔
وزیر اعظم کا تصور ریاست مدینہ بڑا واضح ہے۔ وہ اس تصور کے تحت ایک ایسے معاشرے کے قیام کے لیے کوشاں ہیں جہاں ظلم کی ہر شکل کا خاتمہ ہو اور جہاں معاشرے کے کمزور طبقات کا کسی طرح استحصال نہ کیا جا سکے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی اس کوشش میں کامیاب کرے۔ (آمین)