سیاسی جماعتوں میں ٹوٹ پھوٹ یا تقسیم درتقسیم

مولانا شجا ع الملک نے غالباً شیکسپئر کا وہ مشہور عالم مکالمہ نہیں سنا جس کا مفہوم کچھ یوں بنتا ہے کہ گلاب کے پھول کو کسی بھی نام سے پکا رو،اس کی بھینی بھینی خوشبو مشام جاں کو معطر کرتی رہے گی،مولاناشجاع الملک نے اپنی جماعت ہی کے(سابق)امیر مولانا فضل الرحمن کے خلاف قانونی جنگ شروع کرتے ہوئے انہیں(مولانا فضل الرحمن)،جمعیت علمائے اسلام کا نام استعمال کرنے سے روکنے کیلئے ایک درخواست دائر کردی ہے،اب معاملہ عدالت میں ہے اور اس جنگ کا کیا نتیجہ نکلتا ہے اس بارے میں فی الحال کچھ کہنا مناسب نہیں بلکہ بقول غالب اس کیلئے''انتظار ساغر کھینچ''کے کلیئے پر عمل کرنا پڑے گا کیونکہ کوئی بھی رائے ظاہر کرنے سے عدالت کے اختیارکی حدود میں داخل ہونا کہلائے گا اور ظاہر ہے فیصلہ آنے تک کسی کیلئے بھی ایسا کرنا چھڑی گھمائے ہوئے سامنے والے(عدالت)کی ناک کو چھیڑ نے کے مترادف ہے اس لئے بہتر ہے کہ فی الحال کوئی بھی بات کرنے سے گریزکیا جائے،البتہ ماضی میں مختلف جماعتوں کے اندر توڑ پھوڑ یا تقسیم کے حوالے سے ہی رائے زنی کی جائے۔مرزاغالب نے بھی تو کہا تھا کہ
میں نے کہا کہ''بزم ناز چاہیے غیر سے تہی''
سن کے ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں
تو تقریباً ہر ایک سیاسی جماعت کے اندر سے''ضرورت''کے تحت یا تو نئی جماعتیں نکالی گئیں یا پھر خود پارٹیوں کے اندر رہنمائوں کے مابین اختلافات سے تقسیم درتقسیم کی صورتحال نے جنم لیا،بلکہ سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ بعض اوقات''فوری ضرورت''نے راتوں رات نئی جماعتوں کی تخلیق کی اور اگلے روز پارلیمان کے اندر نئی حکومت ابھرتی دیکھی گئی اس کی ایک مثال تو ری پبلکن پارٹی کا قیام تھا،جو ملک میں ون یونٹ کے قیام کی راہ ہموار کرنے کیلئے راتوں رات تخلیق کے عمل سے گزری اوراگلے روز ڈاکٹر خان صاحب کی قیادت میں ایک ایسی حکومت قائم ہوتے دیکھی گئی جس نے ون یونٹ کے قیام کو ممکن بنایا،حالانکہ ملک کے دیگر رہنمائوں نے جن میں ڈاکٹرخان صاحب کے اپنے ہی بھائی خان عبدالغفار خان (باچاخان) سرفہرست تھے ،ملک بھر میں جلسے منعقد کر کے عوام کو ون یونٹ کے نقصانات سے آگاہ کیا،تاہم چونکہ ایک مخصوص طبقہ ون یونٹ کو اپنے مفادات کے عین مطابق سمجھتا تھا اس لئے اس دور کے حزب اختلاف کی چیخ وپکار پر کوئی توجہ نہیں دی گئی،جیسا کہ ان دنوں براڈ شیٹ کے معاملے پرانکوائری کمیٹی کے قیام اور اس کے سربراہ کے طور پر جسٹس(ر) عظمت سعید کی تقرری پر ملک بھر میں ہونے والے احتجاج کو مسترد کر کے حکومت نے انہیں تبدیل کرنے سے انکار کردیا ہے،حالانکہ بقول وزیراعظم ان کی جماعت کا براڈ شیٹ سے کوئی تعلق نہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ بعض سیاسی حلقوں کے مطابق ایک متنازعہ شخص کو کمیٹی کا سربراہ مقرر کرنے سے ایک اور تنازعہ کیوں کھڑا کیا جارہا ہے؟تاہم کیا کیا جائے کہ ملکی سیاست میں کوئی بھی معقول بات سننے اور برداشت کرنے کی روایت ہی نہیں ہے،بقول احمد فراز
سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے
ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے
بات ہورہی تھی سیاسی جماعتوں کے اندر توڑ پھوڑ یاتقسیم درتقسیم کی اور اس حوالے سے ایوبی آمریت کے دور میں جب مرحوم ایوب خان کو سیاسی حلقوں کی مدد کی ضرورت پڑی تو پاکستان کی تخلیق کاباعث بننے والی جماعت مسلم لیگ کو دو حصوں میں تقسیم کر کے کنونشن لیگ اور کونسل لیگ کے نام سے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا،اسی طرح نیب یعنی نیشنل عوامی پارٹی کے بھی دو دھڑے بنائے گئے ایک بھاشانی گروپ اور دوسرا ولی گروپ پھر پاکستان پیپلزپارٹی کے بطن سے بھی جنرل مشرف نے ایک پیٹریاٹ جبکہ مسلم لیگ کے اندر بھی نون لیگ اور قاف لیگ کے نام سے تقسیم کے عمل کو مکمل کیا گیا اسی دوران ضیاء لیگ والی تانگہ پارٹی اور شیخ رشید کی سائیکل یا موٹر سائیکل والی مسلم لیگ نکالی گئیں جمعیت علمائے اسلام تقسیم کے عمل سے ایک بار پہلے بھی گزرچکی ہے جب مولانا سمیع الحق مرحوم کی سربراہی میں ایک گروپ علیحدہ ہوا تھا اور اب جمعیت(ف)کے اندر سے چار افراد ''بغاوت''کر کے اپنے راستے علیحدہ کر لئے ہیں اور بھی پارٹیاں تقسیم درتقسیم کے عمل سے گزر چکی ہیں یعنی پختونخوا میپ بگٹی بزنجو،سندھ کے رہنما اپنے راستے الگ کر چکے ہیں،اسی طرح پیپلزپارٹی سے آفتاب احمد خان شیرپائو کی قیادت میں ایک مضبوط گروپ نے علیحدگی اختیار کر کے قومی وطن پارٹی کے نام سے نئی جماعت قائم کی غرض سیاسی جماعتوں میں شکست وریخت معمول کی بات ہے اور نئی جماعتیں تخلیق ہوتی رہتی ہیں تاہم دیکھنا یہ ہے کہ اب جمعیت علمائے اسلام کے نام پرحق کس گروپ کا فائق ہوتا ہے وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔بس انتظار کیجئے
تازہ خواہی داشتن گرداغ ہائے سینہ را
گاہے گاہے باز خواں ایں قصہ پارینہ را