پاک امریکہ کے نظام سیاست کا تقابلی جائزہ

کالم کا عنوان دیکھ کر شاید بعض قارئین بدک سے جائیں کہ آخربعدالمشریقین رکھنے والے دو ملکوں اور قوموں کی سیاست اور نظام حکومت وغیرہ کا تقابلی جائزہ بنتا ہی نہیں تو جائزہ کیا لیا جائیگا۔بات کسی حد تک صحیح ہے لیکن صرف سبق حاصل کرنے اور رشک کی خاطر اس کا ذکر شاید بے جا نہ ہوگا۔ دراصل بیس جنوری کی رات،جب امریکہ میں بیس جنوری کے دن گیارہ بج کر اڑتالیس منٹ پر امریکہ کے چھیالیس ویں صدر جوزف بائیڈن حلف اُٹھانے کے بعد قوم سے جس متانت ،وقار اور بڑھاپے کے باوجود جوانوں جیسے جذبات سے معمور اندازمیں خطاب کر رہے تھے تو پہلی بات جس نے بہت متاثر کیا یہ ہے کہ اُنہوں نے واضح الفاظ میں امریکہ سے نسلی امتیاز کے خاتمے کو ناگزیر قرار دیا ٹرمپ نے اس حوالے سے سفید فام نسل کی برتری کے لئے جو اقدامات کئے تھے اور اس سے دیگر امریکیوں کے جذبات کو زخم لگے تھے اوربالخصوص سیاہ فام امریکیوں کے ساتھ ٹرمپ کے آخری دنوں میں پولیس نے جو رویہ اختیار کئے رکھا اُن زخموں پر مرہم رکھنے کی بات کی گئی بائیڈن جب اس موضوع پر بات کر رہے تھے تو اُن کی آنکھوں اور بزرگ جسم کے اعضاء میں ایک روحانی طاقت رقصاںتھی ۔آپ نے جس انداز میں امریکی قوم کو ایک ہونے اور یک جان ہونے کی دعوت دی وہ یقیناً ایک بڑے لیڈر کی نشاندہی کررہی تھی۔جوبائیڈن کی زندگی کے حوالے سے بھی دو تین چیزوں نے بہت متاثر کیا ایک یہ کہ آپ ایک متوسطہ طبقہ سے تعلق رکھنے کے باوجود اپنے پختہ عزائم کے سبب امریکہ کی تاریخ کے کم عمر ترین سینیٹر بنے اور شاید1978ء کے بعد سے مسلسل سینیٹر بنے چلے آرہے ہیں۔آپ کی اوالعزمی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ دو دفعہ صدارتی امیدوار کی مہم سے بوجوہ دستبردار ہوئے لیکن جوانی میں شادی کرتے وقت اپنے سسر کے سوال پر کہ کیا بنو گے،تو آپ کی زبان سے نکلا تھا کہ صدر امریکہ اور آج اگرچہ آپ کے سسر اور پہلی بیوی موجود نہ تھی لیکن بہرحال امریکہ نے دیکھ لیا کہ جو بائیڈن امریکہ کے معمر ترین صدر بننے میں کامیاب ہوئے اور برسوں قبل منہ سے نکلے ہوئے الفاظ کو عملی جامہ پہنایا۔ دوسرا اہم نکتہ نسلی امتیاز کے خلاف عملی کام کرنے کی ابتداء کمالہ حارث کے نائب صدر امریکہ بننے کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچا اس کے علاوہ کمالہ کے لئے آپ نے جس والہانہ انداز میں حلف لینے کے بعد اپنائیت کا اظہار کیا اور اوبامہ کے ساتھ آپ کی نائب صدر اور دوست کی حیثیت سے جو تعلقات ہیں وہ بھی آپ کے نسلی امتیاز کے خلاف ہونے کی پکی دلیل ہے۔آپ اپنی شخصیت بول چال،اور دفعہ نائب صدر اور برسوں سینیٹر کی حیثیت سے کردارسے جو اعتدال اور میانہ روی سامنے آتی ہے وہ یقیناً نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کے لئے خوشخبری کی حیثیت کی حامل ہوسکتی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے آپ کی تقریب حلف برداری میں شرکت نہ کر کے ہمیں پاکستانی سیاست کی رقیبانہ کشمکش کے علاوہ نفرت وکد و رت کی بھی یاد دلادی لیکن افرین ہے بائیڈن پر کہ قوم سے خطاب کے دوران اپنے قیمتی لمحات میں سے ایک منٹ بھی اپنے سیاسی حریف پر صرف کرنے کے روا دارنہ ہوئے۔امریکی جمہوریت کی حفاظت کا عہد کرتے ہوئے کپیٹل ہل پر حملہ آوروں کے عمل کو البتہ سیاہ لمحہ ضرور قرار دیا اور قوم کو یکجہتی کی دعوت دیتے ہوئے کس خوبصورت انداز میں ایک ہونے اور جمہوریت وملکی ترقی کے لئے کام کرنے کا مشورہ دیا۔ جوزف جو بائیڈن سے ایک دنیا نے توقعات اور امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔عالمی طور پر دوتین بڑے مسائل میں سے ماحولیات اور ڈبلیو ایچ رو سے ڈونلڈٹرمپ کے دور میں امریکہ کا انخلا تھا۔بائیڈن نے دونوں میں امریکہ کے کردار کی واپسی کا اعلان کرتے ہوئے ٹرمپ کے فیصلوں کو واپس کیا ہے۔دوسرا اہم مسئلہ ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کا ہے اور یہ معاہدہ دوبار عمل میں لانے کا عندیہ بھی موجود ہے۔امریکہ کے اندر اس وقت سردست کوویڈ19کا مسئلہ ہے جس سے جنگی بنیادوں پر نمٹنے کا اعلان کیا گیا ہے۔امریکی معیشت کو کرونا کے سبب پہنچنے نقصانات کے ازالہ کے لئے بھی اقدامات کا اعلان ہوچکا ہے۔وطن عزیز کے حوالے سے اُمیدیہ ہے کہ چونکہ بائیڈن پاکستان کے معاملات سے بخوبی آگاہ ہیں لہٰذا اگر فائدہ نہ بھی دے سکے تو کم از کم نقصان بھی نہیں پہنچائیگا لیکن امید ہے کہ پاکستان کے ساتھ معاشی اور فوجی سطح کے تعلقات ٹرمپ سے پہلے کے حالات کے مطابق بحال ہو جائینگے۔اللہ کا بڑا کرم ہے کہ پاکستان کو سپر پاور اپنے مفادات کے لئے سہی نظر انداز نہیں کر سکتے۔جوزوف بائیڈن کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے دل میں بار بار یہ خواہش اوردعا دل میں آئی کہ کاش میرے وطن کو بھی کوئی ایسا رہنما میسر آئے۔ہمارے ہاں تو اربوں کھربوں کی کرپشن اور حکومت تین سالوں سے اُس کے خلاف اقدامات کرنے پر اربوں خرچ کر کے بھی کوئی ٹھوس نتیجہ حاصل کرنے میں ناکام ہی ہے ۔کیا امریکہ سے یہ سبق سیکھنے کے لائق نہیں ہے کہ جمہوریت اور وطن کی ترقی کے لئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے اور آئین قانون کو اس طرح مضبوط کرنے کی کہ کوئی کرپشن کا تصور کبھی نہ کر سکے۔بائیڈن نے کیا خوب کہا کہ''مجھے امریکہ کے آئین کی طاقت پر یقین ہے''آئیں ہم بھی اپنے قرآن وسنت پرعقیدہ مضبوط کرنے کا عہد کریں۔