سیاحت کے فروغ کے اقدامات

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے تعلقات عامہ کامران بنگش نے سنو فیسٹول کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں سیاحت کے فروغ کیلئے نئے سیاحتی مقامات کو ترقی دی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ دو ماہ کے دوران سات لاکھ سے زائد سیاحوں نے گلیات کا دورہ کیا،وینٹر ٹورازم کے فروغ سے پوری دنیا میں خیبرپختونخوا کا مثبت امیج سامنے آیا ہے،سنو فیسٹول سے جہاں ٹور ازم کو فروغ حاصل ہوگا وہاں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے صوبائی حکومت کے سیاحت کو فروغ دینے کے اقدامات سے سیاحت مزید ترقی کرے گی جہاں تک خیبرپختونخوا میں سیاحت کے فروغ کا تعلق ہے اس میں قطعاً شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس خطے کو ایسے بے شمار جاذب نظر اور خوبصورت مقامات نہایت فیاضی سے عطا کئے ہیں جن کو اگر سیاحت کے نکتہ نظر سے ترقی دی جاتی تو آج صرف سیاحت کے شعبے سے اس صوبے کی آمدنی اس قدر ہوتی کہ دیگر شعبوں کی جانب سے دیکھنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوتی صرف سیاحت کے شعبے میں روزگار کے اتنے مواقع موجود ہیں کہ تعلیم یافتہ ،تربیت یافتہ اور عام لوگ بڑی تعداد میں روزگار سے مستفید ہوتے ہوٹلوں،ریستورانوں،سڑک کے کنارے ڈھابوں ،ٹرانسپورٹ کے شعبے سے وابستہ لوگوں اورمقامی گائیڈز کے ساتھ ساتھ ان علاقوں کی کاٹج انڈسٹری،وغیرہ سے روزگار کے بے پناہ مواقع سامنے آسکتے ہیں بد قسمتی سے ماضی میں جب سیاحت کا شعبہ وفاقی کے زیر انتظام تھا اس جانب تو جہ نہ دینے سے روزگار بڑھنے کے مواقع پیدا نہیں ہوئے،تاہم جب سے آئینی ترمیم کے تحت سیاحت کا شعبہ صوبوں کے ماتحت کیا گیا ہے اس حوالے سے نیم دلانہ اقدامات ہی سامنے آسکے ہیں ہمارے ہاں سیاحت کے ساتھ کلچرل سرگرمیوں کا بھی بہت گہرا تعلق ہے صوبے کے مختلف مقامات پر وہاں کے مقامی کھیلوں اور کلچرل روایتی سرگرمیاں اہمت کی حامل ہیں مثلاً دنیا کے سب سے اونچے پولو فیلڈ شیندور پر سالانہ پولیو مقابلہ عالمی سطح پر توجہ حاصل کرسکتا ہے بشرطیکہ وہاں نہ صرف سیاحتوں کی آمدورفت کیلئے ہیلی سروس،چترال سے شیندور تک سڑک کو عالمی معیار کے مطابق تعمیر کرکے زمینی ٹرانسپورٹ اور وہاں قیام گاہوں کا مناسب بندوبست کیا جائے،اسی طرح کا لاش قبیلے کے سالانہ فیسٹول کی جانب زیادہ سے زیادہ لوگوں کو راغب کرنے کیلئے ان علاقوں کو ترقی دینے پر توجہ دی جائے،کالام،مدین،بحرین،میاندم وغیرہ کے علاوہ دیگر علاقوں،کاغان،ناران،گلیات ایوبیہ جیسے مقامات کو مزید ترقی دیکر ،مناسب مقامات پر چیئر لفٹ نصب کر کے سیاحوں کی توجہ حاصل کرنے سے کئی شعبے روزگار پیدا کرنے میں مدد گار ہوسکتے ہیں،امید ہے حکومت ان گزارشات پر ضرورتوجہ دے گی۔
سکولوں کی حالت زار
روزنامہ مشرق پشاور کی ایک خبر کے مطابق پشاورکے8سو سے زائد سرکاری سکولوں میں حفاظت صحت سے متعلق مسائل اورخستہ حال عمارتی ڈھانچوں جیسے مسائل کا شکار ہیں،اس ضمن میںانڈی پینڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ کی جانب سے رپورٹ صوبائی حکومت کو ارسال کر دی گئی ہے جس کی روشنی میں صوبائی حکومت نے ابتدائی مرحلہ میں277سکولوں کی حالت زار بہتر بنانے کا فیصلہ کیا ہے،امر واقعہ یہ ہے کہ صوبائی دارالحکومت پشاور میں868ایسے سکولوں کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں302سکول ٹائون ٹو پشاور283ٹائون فور،176ٹائون تھری جبکہ107سکول ٹائون ون میں ہیں اس رپورٹ کے مندرجات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگر صوبائی دارالحکومت میںسکول کی حالت زار کی یہ حالت ہے تو صوبے کے دیگر اضلاع خصوصاً چھوٹے شہروں، قصبات اور دیہات میں کیا صورتحال ہے واش روم ایک بنیادی انسانی ضرورت ہے مگر سینکڑوں ایسے سکول اب بھی موجود ہیں جہاں ان بنیادی انسانی سہولیات کا شدید فقدان ہے اسی طرح قدیم زمانے سے قائم سکولوں کی مرمت تو ایک طرف ان میں وائٹ واش یارنگ وروغن اور ضروری مرمت کا کوئی بندوبست نہیں کیا جاتا،حالانکہ پہلے موسم گرما کی تعطیلات کے دوران یہ سارا کام کر لیا جاتا تاکہ جب چھٹیوں کے بعد طلباء اور طالبات دوبارہ کلاسوں میں آئیں تو ان کو پہلے سے بہتر ماحول مہیا ہوسکے بہرحال یہ ایک حوصلہ افزاء امر ہے کہ محکمہ تعلیم کی جانب سے ایک منصوبہ تجویز کیا گیا ہے جس پر31کروڑ75لاکھ روپے سے زائد خرچ کئے جائیں گے اور جس کے تحت سکولوں کی حالت زار کو بہتر بنایا جائیگا امید ہے کہ منصوبے کو بروئے کار لانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی۔