صوبہ خیبر پختونخوا 265 ارب روپے کا مقروض بن گیا

ویب ڈسیک (پشاور): صوبے کو عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر مالیاتی اداروں کا265ارب روپے کا مقروض بنا دیا۔ دستاویزات کت مطابق سال 2019ءاور2020ءکے دوران 164ارب روپے کا قرض لیا گیا۔ 144ارب روپے قرض عالمی بینک سے لیا جائے گا سب سے زیادہ 72ارب روپے قرض صوبے میں توانائی منصوبوں کیلئے حاصل کیا جائے گا، صوبائی حکومت نے معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔

پشاور بی آر ٹی منصوبے کیلئے 49ارب60 کروڑ 50 لاکھ روپے کا قرض ایشیائی ترقیاتی بینک سے حاصل کیا گیا ہے 265ارب روپے قرضہ کو واپس کرنے سمیت سود کی ادائیگی بھی شامل، سال2019ءاور2020ءکے دوران سیاحت کے ایک منصوبے کیلئے11ارب روپے سے زائد، ذراعت کے منصوبے کیلئے 28ارب روپوں کامنصوبہ بھی شامل ہے، محکمہ خزانہ کے پبلک ریسورس مینجمنٹ پروگرام کیلئے18ارب روپے سے زائد، خیبر پختونخوا اکنامک کوریڈور کیلئے 12ارب روپے ہونگے، توانائی منصوبے کیلئے 72 ارب روپے، مردان صوابی شاہراہ کیلئے 12ارب روپے، محکمہ صحت کیلئے کورونا کی مد میں80کروڑ 32لاکھ روپے لئےجائیں گے، خیبر پختونخوا کے شہروں کو ترقی کیلئے ایک ارب 12کروڑ روپے کا قرض حاصل کرنے کے معاہدوں پر دستخط کر دیئے گئے۔

2017-18ءکے دوران ذراعت، انرجی اینڈ پاﺅر، خزانہ، شاہراہوں کی تعمیر، کھیل و سیاحت، ٹرانسپورٹ، شہری ترقی اورپانی کے منصوبوں کیلئے ایشیائی ترقیاتی بینک، بین الاقوامی ترقیاتی ایجنسی اور جیکا سے 52ارب73کروڑ60لاکھ روپے کا قرض لیا گیا، سال 2016-17ء کے دوران انہی منصوبوں کیلئے عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سمیت دیگر مالیاتی اداروں سے 9ارب12کروڑ روپے قرض لینے کے معاہدوں پر دستخط کئے جاچکے ہیں۔ 2015-16ء کے دوران ایشیائی ترقیاتی بینک اور جیکا سے شاہراہوں کی تعمیر، ماس ٹرانزٹ اور توانائی منصوبوں کیلئے5ارب 22کروڑ 30لاکھ روپے قرض لینے کے معاہدوں پر دستخط کئےگئے، سال 2014-15ء کے دوران ڈی ایف آئی ڈی، ایشیائی ترقیاتی بینک اور جیکا سے9ارب روپے کا قرض لیا گیا ہے، سال2013-14ءکے دوران 4ارب84کروڑ 90لاکھ روپے کا قرض حاصل کیا جاچکا ہے۔