مذہبی مقامات کے تحفظ کیلئے اقوام متحدہ کی قرارداد

قوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے مذہبی مقامات کے تحفظ کیلئے پاکستان اور سعودی عرب سمیت دیگر مسلم ممالک کی پیش کردہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی، اقوام متحدہ میں سعودی نمائندے کا کہنا ہے کہ قرارداد کی منظوری سے عبات گاہوں کے تحفظ کیلئے دنیا بھر کی حکومتوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے جنرل اسمبلی کی قرارداد امنِ عالم کے قیام میں معاون ثابت ہوگی اور اس سے اسرائیل اور بھارت میں مسلمانوں اور دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے عالم اسلام کی دیرینہ خواہش اور مطالبہ کو بھی دونوں ملکوں کیلئے نظر انداز کرنا بہت مشکل ہوگا۔ جنرل اسمبلی میں پاکستان کے نمائندے منیر اکرم کی یہ بات درست ہے کہ ''قرارداد کی منظوری سے بھارت میں ہندوتوا کے حامیوں کی سرزنش ہوئی ہے''۔ گویہ قرارداد بہت پہلے منظور کر لی جانی چاہئے تھی مگر اس سے قبل پیش کی گئی قرارداد سے سابق امریکی ٹرمپ انتظامیہ کی وجہ سے مسلم ممالک کے ایک بڑے گروپ نے ابتدائی طور پر خود کو الگ رکھا، بہرطور پاکستان کی کوششیں رنگ لائیں اور اب جنرل اسمبلی نے متفقہ طور پر مذہبی عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے قرارداد منظور کرلی ہے۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ بھارت اور چند دیگر ممالک قرارداد کی منظوری سے قبل بعض ممالک سے سفارتکاری میں مصروف رہے تاکہ انہیں قرارداد کی حمایت سے روکا جا سکے لیکن اس مرحلہ پر پاکستان، ایران اور سعودی عرب کے نمائندوں نے بھارتی لابی کی کوششوں کو کمال مہارت سے ناکام بنا دیا۔ مذکورہ قرارداد کے حوالے سے بھارت کی بے چینی نہ سمجھ میں آنے والی نہیں۔ فی الوقت دنیا میں بھارت ہی وہ ملک ہے جہاں ہندوانتہا پسند دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کیخلاف ایک تحریک چلائے ہوئے ہیں، آئے روز کسی عبادت گاہ کو جنم بھومی اور کسی کو سابق مندر قرار دے کر اسے متنازعہ بنانے کیساتھ ہندوتوا کے حامیوں کو مشتعل کیا جارہا ہے۔ بابری مسجد انتہا پسندوں کے اس ایجنڈے کی بھینٹ چڑھی اور افسوس یہ ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی بجائے ہندوتوا کا ایجنڈہ آگے بڑھایا، جس سے انتہا پسندوں کا حوصلہ بڑھا اورانہوں نے دہلی، احمد آباد سمیت چند دیگر مقامات پر قائم مساجد اور دوگرجا گھروں کیخلاف اپنی مہم تیز کر دی۔ اس طرح اسرائیل مقبوضہ بیت المقدس میں واقعہ چاروں آسمانی مذاہب کیلئے مقدس ترین مقام مسجد اقصیٰ کے حوالے سے جارحانہ حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے۔ حکومتی سرپرستی میں انتہا پسندیہودی آئے دن مسجد اقصیٰ کی توہین کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔
مذہبی عبادت گاہوں کے احترام کے حوالے سے دنیا بھر کے ممالک میں مقامی طور پر موجود قوانین کیوں غیرمئوثرہوئے؟ اس سوال کا جواب ان ملکوں کے شہریوں کو اپنی اپنی حکومتوں سے لینا چاہئے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ دنیا میں خود کو عظیم جمہوریہ کے طور پر پیش کرنے والے بھارت میں صورتحال خاصی مخدوش ہے۔ بابری مسجد کے بعد انتہا پسند متھرا کی تاریخی مسجد سمیت درجنوں مساجد اور دو گرجا گروں کی حیثیت تبدیل کرنے کیلئے آئے دن ہنگامہ آرائیوں میںمصروف رہتے ہیں۔ نریندرمودی کی حکومت قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کی بجائے جس طرح انتہا پسندوں کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی میں مصروف ہے اس سے ساری دنیا واقف ہے۔یہ بھی حیران کن بات ہے کہ سیکورلر آئین رکھنے والے بھارت میں ہندوتوا کی علمبردار بی جے پی مسلسل دوسری بار بر سراقتدار ہے۔بی جے پی ،کا یہ اقتدار حقیقت میں ہندوتوا اور پاکستان دشمن مہم کی مقبولیت کا نتیجہ ہے۔ بھارتی شہریوں کا بڑا طبقہ اس ہندو توا کو سیکولر بھارت کیلئے خطرہ تو سمجھتا ہے لیکن مودی سرکار نے پچھلے چند برسوں میں جس طرح آر ایس ایس اور دوسری انتہاپسند تنظیموں کو مسلح کیا اس سے بھارتی معاشرے کے سیکولر پسندحلقوں کیلئے انتہا پسندوں کا مقابلہ کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ پچھلے سال دسمبر کے اوائل میں چند سیکولر تنظیموں نے دہلی، ممبئی اور احمد آباد میں ہندوتوا کیخلاف اور مختلف مذاہب کی عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے کچھ احتجاج ضرور کیا لیکن احتجاج کرنے والوں کیخلاف حکومت اور ہندوتوا کے حامیوں کا ردعمل یکساں تھا۔ تشدد اور جھوٹے مقدمات سے انہیں خوفزدہ کیا گیا، بہرحال مذہبی مقامات کے تحفظ کیلئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے قرارداد کے اتفاق رائے سے منظور ہو جانے کے بعد اب یہ اقوام متحدہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ رکن ممالک کو قرارداد پرعمل کرنے کا پابند بھی بنائے اور خلاف ورزی کی صورت میں اقوام متحدہ اقدامات بھی اُٹھائے۔ہمیں اُمید ہے کہ اس قرارداد کا حشر مقبوضہ کشمیر یا مقبوضہ فلسطینی علاقوں کیلئے اقوام متحدہ کی قراردادوں جیسا نہیں ہوگا بلکہ اقوام متحدہ اس امر کو یقینی بنائے گی کہ رکن ممالک نہ صرف قرارداد پر عمل کریں بلکہ اپنے ہاں موجود مذہبی مقامات کے تحفظ کے قوانین پر سختی سے عمل بھی کروائیں۔البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ جنرل اسمبلی سے قرارداد کی منظوری کو صرف بھارت پر فتح سمجھ کر ''جشن'' منانے کی بجائے ہمیں بھی اپنے چاراور کی صورتحال کو بطور خاص دیکھنا ہوگا،، صرف ہمیں (پاکستان) ہی نہیں بلکہ ان چند دیگر مسلم
(باقی صفحہ 7)