محبوبہ مفتی کے اعتماد کا راز؟

مقبوضہ جموں وکشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھارت کے مشہور ویب چینل ''دی وائر'' کی صحافی عارفہ خانم شیروانی کو کشمیر کے حالات، بھارت کے عزائم اور مستقبل کے امکانات کے حوالے سے ایک اہم انٹرویو دیا ہے ۔محبوبہ مفتی کے اس انٹرویو کی خاص بات ان کا وہ اعتماد ہے جو انہوںنے دفعہ تین سو ستر کی بحالی بلکہ اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاک بھارت بات چیت کے حوالے سے ظاہر کیا ہے ۔ان سے سوال پوچھا گیا کہ اب جبکہ مودی نے اپنے منشور پر عمل کرتے ہوئے آرٹیکل 370ختم کر ڈالا،سپریم کورٹ نے اس اقدام کیخلاف سماعت میں دلچسپی نہیں لی ،بھارت کی تمام سیاسی جماعتوں اور عوام نے مجموعی طور پر قوم پرستانہ جذبات کے زیراثر اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا اس کے باوجود آپ پر امید ہیں کہ بھارت اپنا فیصلہ واپس لینے پر مجبور ہوگا یہ امید کہاں سے آتی ہے؟ محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں اگر کشمیر میں امن درکار ہے تو اس مسئلہ حل کرنا ہوگا۔ اگر مسئلہ بھارت کے آئین کے دائرے میں حل کرنا ہے تو جو چرایا گیا ہے اسے واپس کرنا ہوگا ۔خطے میں امن کا راستہ جموں وکشمیر سے ہو کر جاتا ہے کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کا میدان نہیں امن کا پل بنانا ہوگا۔ یہ مسئلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان آتش فشاں کا پہاڑ ہے۔ فوج، ایجنسیاں، ظالمانہ قوانین سے کب تک خون بہائیں گے اس زخم کو مندمل کرنا پڑے گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو جتوانے کیلئے پلوامہ حملہ کیا گیا ۔ارنب گواسوامی اکیلا تونہیں نہ اس کے پاس جادوئی مشین تھی کہ جس نے بالاکوٹ ڈرامے سے تین دن پہلے بتایا کہ ''کچھ بڑا'' ہونے والا ہے جس سے ایک ''بڑے آدمی'' کو فائدہ ہوگا۔ محبوبہ مفتی کے مطابق اس مہم کا مقصد بی جے پی کو سیاسی فائدہ پہنچانا تھا۔ ایک منصوبے کے تحت چیزیں بریک کی جاتی تھیں اور پھر حالات کو اس رخ پر ڈالا جاتا تھا۔ ان سے پوچھا گیا کہ یہ بات تو عمران خان بھی کرتے ہیں کہ یہ حملہ سیاسی فائدے کیلئے کیا گیا تو محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ یہ ڈھکی چھپی بات نہیں۔ چین نے گلوان وادی میں پچیس بھارتی جوانوں کو ماردیا ،لداخ میں و ہ اندر تک گھس آئے ہیں تو وہاں کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔ چین کے گھر میں گھس کر کیوں نہیں
مارتے؟ اس سے واضح ہے کہ بالاکوٹ میں الیکشن جیتنے کیلئے ایک ڈرامہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک کی سالمیت کا معاملہ ہوتا تو چین سے بھی دو دو ہاتھ کرتے۔ محبوبہ مفتی نے اس تاثر کی حمایت کی کہ بھارتی حکومت اب کشمیر میں دھیرے دھیرے فلسطین ماڈل اپنا رہی ہے اور یہی بی جے پی کا مکروہ منصوبہ ہے۔ ڈومیسائل قانون کا خاتمہ ملازمین کیلئے عمر کی حد میں کمی، مقامی لوگوں کے ریت پتھر نکالنے پر پابندی، پاور پورجیکٹس میں غیر کشمیریوں کی بھرتیاں کشمیریوں کے ہاتھ سے سب کچھ چھیننے کی کوشش ہے۔ ایک اور اہم بات یہ کہی گئی کہ لوگوں کو ڈرا دھمکا کر فوج ایجنسیوں کے ذریعے لوگوں کو خاموش کرکے انہیں جیلوں میں ڈال کر حاصل ہونے والا امن دیر پانہیں ہوتا۔محبوبہ مفتی کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ ہیں۔ اس وقت سر ی نگر کے بھارت نواز سیاست دانوں میں دہلی کی ناپسندیدگی کا سب سے پہلا شکاروہی ہیں۔ اسی لئے ان کی پارٹی کے اندر نقب لگانے کی کوششیں اس وقت بھی جاری ہیں۔ پانچ اگست کے بعد جس سیاست دان کو سب سے طویل نظر بندی کا سامنا کرنا پڑا وہ محبوبہ مفتی ہیں جو چار اگست 2019کو نظر بند ہوئیں اور اکتوبر 2020 میں رہا ہوئیں۔ اس وقت مودی حکومت کے پانچ اگست کے اقدامات کو سب سے زیادہ تنقید کا سامنا محبوبہ مفتی کی جانب سے ہے۔ وہ دہلی کی بھاجپا سرکار پر تابڑ توڑ حملے کر رہی ہیں اور پانچ اگست کے تناظر میں ان کا یہ جملہ بہت مشہور ہوا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے بزرگوں نے قائداعظم کا ساتھ نہ دے کر غلطی کی تھی۔ حریت پسند قیادت اور دانشور جیلوں میں ہیں اور جو باہر ہیں محدود سی آزادی کے حامل ہیں اور ان پر دستور زباں بندی نافذ ہے۔اس صورتحال میں محبوبہ مفتی نے کشمیر کے حالات کی درست عکاسی کی ہے۔ عین ممکن ہے کہ پانچ اگست کا ظالمانہ فیصلہ ریورس ہو یا نہ ہو بات جنوبی ایشیا کے مستقبل کے لئے مسئلہ کشمیر کے حل کے ایک ڈھیلے ڈھالے سمجھوتے پر آکر رک جائے ۔محبوبہ مفتی ایک واقف حال کے طور پر بتارہی ہیں کہ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان کی سڑکوں او رجلسہ گاہوں میں''کشمیر بیچ دیا ،فروخت کر دیا گیا'' کا سودابیچنا محض سیاسی نمبر سکورنگ کے سوا کچھ نہیں۔ حالات آج بھی وہیں ہیں جہاں کرگل جنگ کے بعد تھے۔جب کشیدگی کے ایک بھرپور دور کے بعد غیر معمولی طورپر مسئلے کے نرم سے حل کے کچھ موہوم امکانات پیدا ہونا شروع ہوئے تھے اور محبوبہ مفتی ان کے والد مفتی سعید اور ان کی جماعت کشیدگی کے بعد ان بدلتے ہوئے حالات کا حصہ تھے۔