جو بائیڈن انتظامیہ اور پاکستان

امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کا ہنگامہ خیز اقتدار ختم ہوگیا، ہنگامہ خیز اس لئے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اقتدار کا ہر دن ایک جنگجو اور تندخو انسان کے طور پر بحران پیدا کرنے میں گزار دیا۔ ان کی پالیسیاں ''آبیل مجھے مار'' کے محاورے کی عملی شکل میں خطرات اور بحرانوں کو دعوت دیتی رہیں۔ اقتدار میں آتے ہی ان کی پہلی توتکار شمالی کوریا کے حکمرانوں سے ہوئی۔ بات اس قدر بگڑی کہ ذومعنی اور غیراخلاقی جملوں کا تبادلہ ہوا۔ ایک موقع پر تو ٹرمپ نے کم جونگ ان کو بٹن دبانے کی دھمکی بھی دی اور امریکہ اور شمالی کوریا کی جنگ چند دن کی دوری پر دکھائی دینے لگی، پھر اچانک سب کچھ بدل گیا۔ ٹرمپ سب بھول بھال کر کم جونگ ان سے جا ملے اور دونوں جب مذاکرات گاہ سے باہر آئے تو دونوں قہقہے لگا رہے تھے۔ ٹرمپ نے لفظوں کی یہی گولہ باری پاکستان پر بھی کی، مگر عمران خان نے ترکی بہ ترکی جواب دیا اور ٹرمپ کا رویہ بدلتا گیا اور ان کی دھمکیاں گیدڑ بھبکیاں ثابت ہوئیں۔ لفظوں کی یہی تیزاندازی چین اور ایران کیساتھ بھی جاری رہی مگر امریکہ ایران کے ایک جنرل اور ایک سائنسدان کو قتل کرنے سے زیادہ کچھ اور نہ کرسکا۔ ٹرمپ اقتدار ایک ایسا بادل تھا جو پانچ سال تک پوری قوت سے گرجتا تو رہا مگر اس کے برسنے کی نوبت نہیں آئی بلکہ ٹرمپ نے پہلے سے جاری جنگوں کے کھلے دفتر لپیٹنے کی حکمت عملی اختیار کی اور شاید اپنے جامے میں واپس سمٹنا امریکہ کی طاقتور لابیوں کو گوارا نہیں تھا اور انہوں نے ٹرمپ کی رخصتی کا ماحول بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ٹرمپ قصۂ پارینہ بن گئے اور ایک گھاک اور زمانہ شناس جماندر وسیاستدان جوبائیڈن قصرسفید کے مکین بن گئے ہیں۔ جوبائیڈن نے صدر اور سیاہ فام خاتون کملاہیرس نے نائب صدر کی حیثیت سے حلف اُٹھا لیا۔ ٹرمپ امریکہ کی ایک پچاس سالہ جمہوری تاریخ کے وہ واحد صدر ہیں جنہوں نے اپنے جانشین کی حلف برداری میں شرکت سے احتراض کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس خالی کر دیا۔ واشنگٹن ڈی سی ایک فوجی چھاؤنی کا منظر پیش کرتا رہا اور پچیس سو فوجی شہر میں تعینات رہے۔ اس کی وجہ ٹرمپ کے حامیوں کی طرف سے ہنگاموں کا خطرہ تھا۔ حلف برداری کے روز تو ہنگامے نہ ہوئے مگر امریکہ کی سیاست میں تقسیم کی ایک ایسی لکیر اُبھر چکی ہے جو اپنے اثرات ظاہر کر تی رہے گی۔ جوبائیڈن کا دوراقتدار پاکستان کیلئے کیسا ہوگا؟ یہ سوال قبل ازوقت ہے مگر اس سے زیادہ اُمیدیں وابستہ نہیں کی جا سکتیں۔ جوبائیڈن گوکہ آصف زرداری سے نشان پاکستان کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں مگر ان کی دوستی پاکستان کی ریاست کی بجائے اس وقت کے حکمرانوں کیساتھ ہی معلوم ہو رہی تھی اور اسی دوستی کے عوض انہیں نشان پاکستان عطا کیا ہے۔ اس سے پہلے کلنٹن بھی میاں نوازشریف کے ذاتی دوست سمجھے جاتے تھے۔ اس سے پہلے صدر ریگن بھی سوویت یونین کیخلاف مزاحمت کی مشترکہ لڑی میں پروئے ہونے کی وجہ سے جنرل ضیاء الحق کے ذاتی دوست تھے۔ پاکستان کے سویلین اور فوجی حکمرانوں کے ذاتی دوست مملکت اور ریاست پاکستان کیلئے زیادہ سود مند نہیں رہے۔ اس لئے جوبائیڈن کی شخصی دوستی اور تعلق سے پاکستان کے حوالے سے کسی غیرمعمولی اور مثبت قدم کی زیادہ اُمید نہیں رکھی جاسکتی۔ اس انتظامیہ میں اُمید کا ایک پہلو نائب صدر کملاہیرس ہیں جو کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حامی ہیں، کمیلا ہیرس نے پانچ اگست کے بھارتی اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں کشمیریوں کیساتھ کھڑا ہونا چاہئے۔ ماضی میں ایک اور سیاہ فام امریکی صدر باراک اوباما نے بھی اپنی انتخابی مہم میں مسئلہ کشمیر کے حل میں کردار ادا کرنے کے دعوے کئے تھے مگر وقت یوں بدلا کہ باراک اوباما بھارت کے قریب ہوگئے اور کشمیر پر ان کے دعوے محض انتخابی وعدے ثابت ہوئے۔ اس ماضی کو دیکھیں تو کملا ہیرس سے بھی پاکستان اورکشمیر کے حوالے سے کسی انقلابی تبدیلی کی اُمید عبث ہے۔ اس کے باوجود بھارت کملا ہیرس کے بیانات کی وجہ سے ایک انجانے خوف کا شکار ہے جس کا اظہار بھارتی میڈیا انتخابی مہم کے دوران بھی کرتا رہا۔ ٹرمپ کے دور میں امریکہ اور بھارت کے پہلے سے پرجوش تعلقات میں مزید گرم جوشی پیدا ہو گئی تھی۔ ٹرمپ نے فرطِ جذبات میں بھارت کا دورہ بھی کیا، جواب میں مودی نے امریکہ جا کر ''ہاوڈی مودی'' کا ناٹک رچایا۔ مودی نے پانچ اگست کے قدم سے پہلے ٹرمپ کو اعتماد میں لیا تھا، اس کا لاگ لپیٹ کر اظہار ٹرمپ نے عمران خان کیساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں بھی کیا تھا۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ مودی نے مجھ سے کشمیر کے حوالے سے مدد مانگی تھی۔ یہ مدد مسئلے کے حل کیلئے نہیں بلکہ پاکستان کو غیرمعمولی ردعمل سے روکنے کے حوالے سے تھی اور مدد کی یہی اپیل عرب ملکوں سے بھی کی تھی۔ امریکہ اور عرب ملکوں نے خاموش رہ کر عملی طور پر بھارت کی مدد ہی کی۔ کملا ہیرس اگر اپنے دعوے کے مطابق کشمیریوں کیساتھ کھڑی رہتی ہیں تو یہ ایک بڑی سفارتی پیش رفت ہو سکتی ہے۔