پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے

شکایات ومسائل کے حوالے سے اس کالم میں بعض اوقات اس طرح کے جامع اور پرمغز خطوط آتے ہیں کہ اس میں اضافہ ممکن نہیں ہوتا۔ آج کا پہلا خط بھی اس ہی طرح کا ایک مراسلہ ہے۔ اس طرح کے امور پر میں سوچتی بہت ہوں، کڑھتی بھی ہوں، لیکن کالم کا موضوع کم ہی بناتی ہوں۔ علمائے کرام میرے نزدیک بہت محترم ہیں اور سنت رسولۖ جس کے بھی چہرے پر ہو اس کا بھی احترام ضروری ہے۔ اس طرح کے لوگوں سے اچھی اُمیدیں باندھنا فطری امر ہے مگر جب حسن ظن رکھنے کے باوجود ان میں سے کوئی خود اپنا بھرم نہ رکھے، تو دکھ اور افسوس ہونا اس لئے فطری امر ہوتا ہے کہ جو کچھ ان کے حوالے سے ہمارے ذہنوں میں ہوتا ہے، ہم ان کو کردار کی جس بلندی پردیکھتے ہیں اور دیکھنا چاہتے ہیں جب وہ اپنے مقام سے گرجائیں اور ان کی وجہ سے دین اور مذہب کی بدنامی ہورہی ہو، تو ہر مسلمان مردوعورت کو فطری طور پر شرمساری محسوس ہوتی ہے۔ اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کہہ سکتی، سوائے بلال ٹائون جی ٹی روڈ پشاور کے عابد علی صدیقی کا مراسلہ شامل کرنے کے، عابد علی صدیقی اپنے طویل مراسلہ میں لکھتے ہیں کہ آپ کے تحریرکردہ کالم جس میں لوگوں کی جائز شکایات ہوتی ہیں پڑھتا رہتا ہوں، جسے آپ احسن طریقہ سے حکومت وقت تک پہنچادیتی ہیں۔ افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ ان کا بیشتر ازالہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ مثلاً شادی بیاہ کی رسومات جن میں خاص طور پر ہوائی فائرنگ، اونچی آواز میں گانے لگانا وغیرہ۔ مہنگائی کا روز بروز بڑھنا جس میں کس چیز کا ذکر کیا جائے اورکس کا نہ کیا جائے، تقریباً ہر چیز امیر وغریب کے استعمال کی ہے۔ گھی، چینی، چاول، گوشت، مرغی، انڈہ وغیرہ۔ بچیوں کے ریپ کا پچھلا واقعہ گزرا نہیںہوتا کہ دوسرے دن اس دن دو سے زیادہ واقعات اخبار میں پڑھنے کو ملتے ہیں۔ کیاعرصہ دراز سے یہ سب واقعات نہیں ہورہے؟ کسی ایک کو صحیح سزا کا اعلان ہوا؟ جسے پڑھ کر اگلا جرم رک گیا ہو۔ آج آپ کو ایک خاص واقعہ سے اپنی گزارشات بیان کررہا ہوں۔
کچھ دنوں سے مفتی قوی کے واقعات اخباروں میں مسلسل پڑھ رہا ہوں، آج بطور خاص مفتی صاحب کا بیان کہ لڑکیاں تو میرے ساتھ بیٹھنے میں فخرمحسوس کرتی ہیں اور مجھے فلاں رنگ کی شراب پسند ہے وغیرہ وغیرہ۔۔ آیا یہ ہمارا الحمد اللہ اسلامی ملک ان علامائوں کی اس باتوں تک ہی رہ گیا ہے۔ ان افراد کیلئے کوئی سزا نہیں جو سرعام ایسی فحش باتیں کرتے ہیں جبکہ اکثر چھوٹی چھوٹی باتوں پر احتجاج شروع ہو جاتا ہے۔ کیا یہ ہمارے اسلام کو بدنام کرنے کی سازش نہیں۔
ایک قاری نے بڑا اچھا اور چشم کشا پیغام دیا ہے کہ مال مویشی، کھیتوں کھلیانوں اور دیہات کے بچوں کی دنیا اور مشاہدات میں درسی کتابوں میں ایسی ایسی چیزوں کے بارے میں اسباق شامل ہیں ان کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے، اس لئے بیچارے کیا سمجھیں۔ بات بڑی حد تک درست ہے کہ بچوں کو ان کے مشاہدے کے مطابق مثالیں دی جائیں اور بتایاجائے لیکن تعلیم نہ جاننے کا نہیں جاننے اور سیکھنے کے عمل کا نام ہے۔ نئی چیزوں کے بارے میں سننا، جاننا اور ان کو سمجھنے وپرکھنے کی معلومات کانام ہے اس لئے کوشش ہونی چاہئے کہ ایسی درسی کتب پڑھائی جائیں جس میں گائوں کے بچے، شہر اور ٹیکنالوجی کے بارے میں سیکھیں اور شہری بچوں کو گائوں کے حالات کا علم ہو۔ ماہرین تعلیم اس سلسلے میں بہتر سمجھ سکتے ہیں اور بہتر مشورے کیساتھ نصاب کی تیاری وتشکیل اور نظرثانی کی ذمہ داری نبھا سکتے ہیں۔ ان کو سوچنا اور غور ضرور کرنا چاہئے کہ آخر یہ بھی ایک نقطہ نظر ہے اور بے جا نہیں بجا ہے۔
بدقسمتی سے دینی علوم اور عصری علوم دونوں ہی جب پرپرمی خوانی کے زمرے میں شمار ہوں، کردار وعمل کے برعکس ہوں، معاشرہ انحطاط کا شکار ہو اور بہتری کی بجائے تنزلی کی جانب رواں ہوں تو پھر اصلاح کیلئے کردار سازی کیلئے حاصل شدہ علم کے مطابق عمل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے محولہ دونوں علوم سے مستفید طبقات کا علم اور تعلیم جس سطح کی بھی ہو، آگاہی اور شعور دونوں ہی میں موجود ہونے کا یقین سے اگر نہیں کہا جا سکتا تو اس امر سے انکار بھی ممکن نہیں کہ جہالت طاری ہے اور جہالت ہی کے باعث معاشرہ برائیوں اور انحطاط کا شکار ہے۔ علم کے بقدر عمل ہر کسی پر فرض ہے، کسی زمانے میں علم کی بہت زیادہ اہمیت اس لئے تھی کہ علم وشعور ناپید تھا، اب تو علم بٹن کی ایک کلک کی بات ہے، اصل بات عمل کی ہے اور عمل کا معاملہ اُلٹ ہے۔ معلوم نہیں جب پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے، کا وقت آئے گا تو ہمارا کیا بنے گا۔ اس پر سوچیں اور ہم سب اپنا محاسبہ آپ کریں تو سبھی کٹہرے میں نظر آئیں گے۔ کاش کہ مہلت کے باقی دن ہم خود کو سدھارنے کی سعی کریں۔ قارئین rozanekhial@gmail.com
پر اپنی شکایات اور مسائل پر بھجوا سکتے ہیں۔