ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں

بھان متی نے جو کنبہ جوڑا تھا، اس میں دراڑیں پڑچکی ہیں، دھڑام سے گرنے اور بالآخر ''فاتحہ'' پڑھنے کے لمحات آپہنچے ہیں کیونکہ انہوں نے شاید البرٹ آئن سٹائن کے اس مقولے پر غور کرنے کی ضرورت ہی نہیں کہ جو کہہ گیا ہے کہ اس سے بڑی دیوانگی اور کیا ہوسکتی ہے کہ آپ ایک ہی کام بار بار کرتے ہیں مگر اس سے مختلف نتائج کی توقع رکھتے ہیں، اس قسم کی آراء کا گزشتہ چند دن سے مختلف تجربہ کار حکومتی حلقوں کے حوالے سے اظہار کرتے آرہے ہیں یعنی اقتدار کی غلام گردشوں میں اس بات پر بغلیں بجائی جارہی ہیں کہ پی ڈی ایم میں ٹوٹ پھوٹ کے آثار واضح ہوتے جارہے ہیں۔ خصوصاً ان ہاؤس تبدیلی پر عدم اتفاق سے اپوزیشن کے اندر اختلافات اُبھرکر سامنے آرہے ہیں اور اس ضمن میں لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال کے پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو کے بیانئے پر نمبر گیم والے تبصرے کو حکومتی نقطۂ نظر سے ''خوش آئند'' قرار دے کر چاروں جانب سے پروپیگنڈائی توپوں کے دہانے لفظی گولہ باری کر رہے ہیں مگر اس ''حکومتی'' بیانئے کو گزشتہ روز ایک اہم پیغام رسانی کے ذریعے رد کرنے کی دوسری جانب سے کامیاب حکمت عملی کا آغاز کرتے ہوئے جو اقدامات کئے گئے ہیں ان سے ایک اور کہانی سامنے آرہی ہے اور سابق صدر آصف علی زرداری خود فون پر میاں نوازشریف سے بات کر کے انہیں صورتحال کی ''نزاکت'' سے آگاہ کرتے ہوئے احسن اقبال کی بیان بازی پر اعتماد میں لیکر جو صلاح مشورے کئے، واقفان حال کے مطابق نہ صرف مریم نواز کے ذریعے بلکہ لیگ(ن) کے صدر شہبازشریف نے بھی انہیں محتاط ہو جانے کا پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ احسن اقبال چونکہ پارٹی کے سیکرٹری جنرل ہیں اس لئے ان کے بیان کو پارٹی پالیسی سمجھا جاسکتا ہے، یاد رہے کہ صورتحال پر جو تازہ بیان آصف زرداری کا آیا ہے اس میں انہوں نے کہا ہے کہ حکومت سے نجات کے تمام آپشن بدستور موجود ہیں، انہوں نے کہا ہے کہ حکمران کوئی بڑا بلنڈر کر سکتے ہیں، ان کو گھر بھیجنا بہت ضروری ہوچکا ہے، اناڑی حکمرانوں کی نااہلی سے ملک کسی حادثے کا شکار ہوسکتا ہے۔ آصف زرداری نے یہ بھی کہا ہے کہ حکومت ہر طرف سے وار کرے گی مگر پی ڈی ایم متحد ہے، آصف زرداری کے اس بیان سے یہی نتیجہ اخذکیا جاسکتا ہے کہ بڑے میاں صاحب کو آصف زرداری نے رام کر لیا ہے اور وہ ان کی حکمت عملی سے پوری طرح متفق ہیں، گویا بقول شاعر
کون کہتا ہے کہ ہم تم میں لڑائی ہوگی
یہ ہوائی کسی دشمن نے اُڑائی ہوگی
یعنی وہ جو بلاول کے بیان کے بعد وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے بلاول کو استعفے روکنے پر بالغ اور سمجھدار قرار دیا تھا، اس بیان سے بھی پی ڈی ایم کا کچھ نہیں بگڑا، دوسری جانب خود کو جمہوریت قرار دینے والے وزیراعظم کے بارے میں یہ خبر آئی ہے کہ انہوں نے سینیٹ انتخابات کیلئے ٹکٹوں کی تقسیم کیلئے پارلیمانی بورڈ تشکیل دینے کی بجائے خود ہی ٹکٹ دینے کا فیصلہ کر کے مبینہ طور پر پارٹی کے مخصوص افراد کو ٹکٹ دینے کا جو عندیہ دیا ہے اس پر پارٹی کے اندر تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے یعنی تجزیہ کاروں کے مطابق وزیراعظم سے یہ بات منسوب کی جارہی ہے کہ درخواستوں کی ضرورت ہی نہیں ہے، میں ہی ٹکٹوں کا فیصلہ کروں گا، اگرچہ اس حوالے سے پنجاب میں اپنے حلیفوں کو رام کرنے کیلئے انہوں نے چوہدری برادران کو سینیٹ انتخابات کے بعد ''وزارت اعلیٰ'' دینے کے علاوہ ان کے اُمیدوار کامل علی آغا کو بھی ٹکٹ دینے کی یقین دہانی تو کرا دی ہے مگر اچانک دوسری جانب چوہدری نثار علی خان نے انٹری مار دی ہے یعنی ان کو پنجاب میں ''اہم'' ذمہ داری کی خبریں آنے لگی ہیں اور بقول تجزیہ نگاروں کے چوہدری برادران بھی بخوبی جانتے ہیں کہ انہیں وزرات اعلیٰ کے حوالے سے صرف لالی پاپ پر ٹرخایا جارہا ہے کیونکہ وزیراعظم کسی بھی صورت میں عثمان بزدار کو ہٹا کر وزارت اعلیٰ کسی دوسری جماعت کے چند افراد پر مشتمل جماعت کو نہیں دے سکتا کہ ایسا کرنے سے عملی طور پر تحریک انصاف کی حکومت تو نہیں رہے گی جس کے بعد خود ان کیلئے مرکز میں بھی حالات ''تبدیل'' ہونے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، جبکہ خبریں یہ بھی ہیں کہ اگر ایک جانب پنجاب میں لیگ (ن) کے بعض افراد کیساتھ تحریک انصاف کے رابطے جاری ہیں تو دوسری جانب تحریک کے نہ صرف پنجاب اسمبلی کے کچھ ارکان لیگ (ن) کیساتھ رابطوں میں ہیں اور سینیٹ انتخابات میں ''جادوگری'' کے کمالات سامنے آسکتے ہیں بلکہ قومی اسمبلی میں بھی تحریک انصاف کی صفوں میں دراڑوں کے اطلاعات سے تحریک عدم اعتماد کو مہمیز مل سکتی ہے، سیاست میں کچھ بھی کبھی بھی ہوسکتا ہے کہ بقول شخصے سیاست کے پہلو میں دل نہیں ہوتا، یہ سب مفادات کی جنگ ہے اور جنگ میں میر جعفروں اور میر صادقوں کا کردار اہم ہوتا ہے۔ بقول ایوب صابر
دس بیس نہیں ایک ہی انسان بتا دو
ایسا کہ جو اندر سے بھی باہرکی طرح ہو