یوم سیاہ یا یوم جمہور؟ بھارتی قوم اپنی شناخت کی تلاش میں مصروف

ویب ڈیسک(اسلام آباد): پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج بھارت کے یوم جمہوریہ کو “یوم سیاہ” کے طور پر منا رہے ہیں، یہ یوم سیاہ ہے یا یوم جمہور بھارتی قوم اپنی شناخت کی تلاش میں مصروف ہے۔

یوم جمہوریہ کے موقع پر بھارتی شہریوں نے سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا یہ نہرو اور گاندھی کا سیکولر ہندوستان ہے یا آر ایس ایس کا ہندو راشٹرا؟ کیا یہ شائننگ انڈیا ہے یا پھر ریپستان کہ جہاں غیر ملکی سیاح بھی محفوظ نہیں؟ کیا یہ جمہوریت ہے یا پھر مودی کی مطلق العنان سیاست؟ ۔

مودی نےلاکھوں مسلمان شہریوں کو بے دخل کرکےپناہ گزین بنا دیا، دہائیوں تک بھارت کی خدمت کرنے والے سائنسدان، شعرا اور فنکار شناخت کھو بیٹھے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہندوستان میں آزادی کےنعرے گونجنے لگے ہیں۔

بھارتی سکھ کسانوں کا احتجاج ہو یا جواہر لعل نہرو یونیورسٹی ہر طرف آزادی کےنعرے بلند ہونے لگے ہیں، برہمن سے آزادی، ہندوتوا راج سے آزادی، تعصب اور انتہا پسندی سے آزادی، معاشی و سماجی دہشت گردی سے آزادی، ذات پات سے آزادی، چھبیس جنوری کا سورج ایک ایسے ہندوستان پر طلوع ہوا جس کا شیرازہ بکھررہاہے، آج ہندوستان تقسیم ہو رہا ہے۔

خلفشار اور انتشار کا دوسرا نام مودی سرکار ہے، آج نام نہاد انکراڈیبل انڈیا دنیا میں ان ٹولرنٹ انڈیا کےنام سےجاناجاتاہے، بھارت کا 72واں یوم جمہوریہ بیشتر بھارتیوں کے لیے سیاہ دن ہے، جہاں ہندو توا کا چوپٹ راج ، اقلیتوں کی بدحالی اور قائد اعظم کی بصیرت کو صحیح ثابت کرتی نظر آتی ہے۔

مودی سرکار آئین سےجو کچھ کررہی ہے اس سے بھارتی تشویش میں مبتلا ہیں، بھارت کا آئین ایک سیکولر ریاست کی بات کرتا ہے مگر آج اقلیتوں پر زمین تنگ ہوچکی ہے، بھارت میں آئین بے وقعت اور اقلیتیں دوسرے درجےکے شہری بن کر رہ گئے ہیں۔

مودی کےآمرانہ ون پارٹی رول سے بھارت میں جمہوریت دم توڑ رہی ہے،ہندو اکثریت کی اجارہ داری کے ریلے میں نام نہاد سیکولر ازم خاشاک کی طرح بہہ گیا بھارت میں یوم جمہوریہ تقریبات دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔