نیاملاکھڑا شروع

لیجئے نیا ملاکھڑاشروع، ایک طرف تو وفاقی وزرائ، معاونین اور ترجمانوں کے لشکر پی ڈی ایم ٹوٹ گئی کی باتوں سے آسمان سر پر اُٹھائے ہوئے ہیں، دوسری طرف چند وزراء سیاسی تاریخ کے کچھ ماہ وسال اور اتحادوں بارے نامناسب باتیں کرنے میں مصروف ہیں۔ ہوابازی کے وزیر مخدوم سرورخان جن کی زبان دانی کی سزا قومی ایئر لائن پی آئی اے بھگت رہی ہے، گزشتہ روز تیسر ے فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کیخلاف بننے والے سیاسی اتحاد ایم آر ڈی کے بارے میں سستے جملے اُچھالتے رہے۔ اچھا یہ وہی غلام سرور خان ہیں جنہوں نے1988ء میں پیپلزپارٹی کی ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کی نشست جیتی تھی اور انہیں معلوم تو ہوگا ہی کہ پیپلزپارٹی ایم آر ڈی کا حصہ تھی۔ سابقہ حکومتوں کو کوسنے کے شوقین ہمارے اکثر وزرائے کرام انہی سابقہ حکومتوں میں بااختیار منصبوں پر فائز رہے ہوتے ہیں مثلاً فوادچوہدری، فردوس عاشق اعوان وغیرہ پیپلزپارٹی سے، خسروبختیار، نون لیگ سے، اعظم سواتی، جے یو آئی (ف) سے تحریک انصاف تک پہنچے اب ان کے بیانات دیکھ لیجئے۔ ارے صاحبو! آپ کا ضمیر نئی وزارتوں مشاورتوں میں کیوں بیدار ہوا، تب آپ کیوں سوئے رہے جب ملک دشمن چور لٹیرے اس ملک پر بر سر اقتدار تھے؟ مکررعرض کئے دیتا ہوں، جنرل ضیاء الحق دور کے غیرجماعتی بلدیاتی واسمبلیوں کے انتخابات سے تخلیق ہوئے سیاستدان کسی اصول، ضابطے، اقدار وروایات کے پابند نہیں، ناہی پارٹیاں بدلنے میں ضمیر پر بوجھ محسوس کرتے ہیں۔ ویسے مروجہ سیاست میں ضمیر نامی چیز اضافی چیز ہے، اس کا بوجھ کون اُٹھاتے پھرے، سو کوئی بھی نہیں اُٹھاتا، سبھی اپنے حال میں مست ہیں۔ معاف کیجئے گا بات دورنکل گئی۔ ہم پیپلزپارٹی کی وزیراعظم کیخلاف ممکنہ تحریک عدم اعتماد پر بات کر لیتے ہیں۔ اصولی طور پر یہ سیاسی عمل کا حصہ اور پارلیمانی روایات کے مطابق ہی ایک قدم ہے ۔ پیپلزپارٹی کے اس فیصلے کو پچھلے کئی دنوں سے کوسنے والے کیوں بھول جاتے ہیں، پارلیمانی سیاست میں سارے دائو آزمائے جاتے ہیں، سڑکوں اور گلیوں کے ذریعے حکومتوں کو رخصت کرنا آخری داؤ ہوتا ہے۔ یہ بجا ہے کہ پیپلزپارٹی کی اس تجویز پر پی ڈی ایم کے اندر مکالمہ ہونا چاہئے، پی پی پی چونکہ ایک اتحاد میں شامل ہے اس لئے اب وہ تجویز تو دے سکتی ہے فیصلہ نہیں کر سکتی۔ یہی پوزیشن دوسری اتحادی جماعتوں کی ہے، وہ بھی حکومت مخالف تحریک کو کامیاب بنوانے کیلئے اپنی تجاویز اتحاد کے فورم پر ہی پیش کریں گی، یہی اتحادی سیاست کا اصول ہے، لیکن اگر ایک جماعت کی تجویز پر دوسری جماعتوں کے مجاہدین اور کرائے کے تجزیہ نگاروں نے، ڈیل ہوگئی ڈیل ہوگئی سے آسمان سر پر اُٹھانا ہے تو پھر نوازشریف کی بیرون ملک روانگی میں اندرونی وبیرونی شخصیات کا حکومت پر دبائو اور حکومت کا محفوظ راستہ دینے کا فیصلہ کیا تھا؟ اس بات کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ چند وفاقی وزراء اور خود وزیراعظم کی جانب سے پی ڈی ایم کی تحریک کے آغاز سے دو دوست ممالک کو مورد الزام ٹھہراتے چلے آنے پر غور کرنا ہوگا، غور کرنے والے اصل کہانی اور حقیقت دونوں کو سمجھ لیں گے۔ہاں بس شور مچاتے اور اپنے لیڈر کو ولی دوسرے کو شیطان بنا کر پیش کرنا ہے تو لگے رہو منا بھائی والا معاملہ ہی ہے، خوشی سے لگے رہیں۔ وزیراعظم کیخلاف ممکنہ تحریک عدم اعتماد پر سینیٹ میں چیئرمین کیخلاف تحریک عدم اعتماد کے انجام کو یاد دلانے والے کیوں بھول جاتے ہیں کہ پیپلزپارٹی نے تو اپنے ایک رکن کیخلاف تادیبی کارروائی کا ڈول ڈالا تھا، وہ رکن پارٹی چھوڑ گئے، تحریک انصاف میں جمع ہوئے اور ان کے فرزند تحریک انصاف کے ٹکٹ پر خیبرپختونخوا سے سینیٹ کے رکن بن گئے۔ اب ٹھنڈے دل سے غور کیجئے کہ کیا نون لیگ نے اپنے پانچ اور جے یو آئی (ف) نے ایک رکن سینیٹ کیخلاف کوئی کارروائی کی؟۔
یہاں ایک سوال یہ ہے کہ اگر پارلیمانی طریقہ کار کے مطابق ان ہائوس تبدیلی کے ذریعے انتخابی عمل کی راہ ہموار ہوسکتی ہے تو اس میں برائی کیا ہے؟ دوسری اہم بات یہ ہے کہ پی ڈی ایم پیپلزپارٹی کے سامنے اپنی مجموعی پارلیمانی قوت (عددی تعداد) رکھ کر ہی یہ دریافت کر سکتی ہے کہ تحریک کیلئے مطلوبہ تعداد کیسے پوری ہوگی۔ ہر دو باتوں کا جواب بہرطور پیپلز پارٹی کو دینا ہے، مجھے یا ا پ کو یا پھر ان ''مجاہدین'' کو ہرگز نہیں، جو پچھلے چند دنوں سے دھول اُڑاتے پھرتے ہیں۔
ہم اگر اس خدشہ میں مبتلا ہیں اولاً یہ کہ یہ بھی کسی ڈیل کا نتیجہ ہے، ثانیاً یہ کہ پی پی پی کے پاس پی ڈی ایم کی عددی تعداد کے علاوہ بندوبست نہیں ہے تو پھر یہ وزراء مشیروں اور ترجمانوں کے لشکر تین چاردنوں سے آسمان سر پر کیوں اُٹھائے ہوئے ہیں۔ وہ وزراء جو پچھلے اڑھائی برسوں سے خود کو مرد میدان ومرد آہن بنا کر پیش کرتے رہے سبھی کی پریشان حالی ان کے چہروں اور غیرمحفوظ مستقبل کی کہانی زبان دانی سے عیاں ہے۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ سیاست میں سارے دروازے کھلے رکھے جاتے ہیں اور سارے داؤ ایک ایک کر کے آزمائے بھی، یہ سیاسی قیادت کی بصیرت کا امتحان ہوتا ہے کہ وہ فیصلے کرتے وقت نفع ونقصان کو مدنظر رکھے۔