افغان امن مذاکرات اور پر تشدد کاروائیاں

گزشتہ اتوار کو کابل میں دوخواتین ججوں کا قتل ان پرتشدد کاروائیوں کی کڑی ہے جو افغان حکومت اور طالبان کے بیچ بظاہر جمود کے شکار امن مذاکرات کے بعد سے ملک بھر میں زرو پکڑتی جا رہی ہیں۔ اس منظم قتل و غارت کے سلسلے میں پچھلے کچھ ہفتوں کے دوران جان سے جانے والوں میں صحافی، سول سوسائٹی سے وابستہ افراد اور انسانی حقوق کے متحرک کارکن شامل ہیں۔ پرتشدد کاروائیوں کا یہ نیا سلسلہ کئی طرح کے خدشات کو جنم دے رہا ہے۔ کیا جنگ زدہ افغانستان میں امن کی واپسی کا خواب کبھی پورا ہو سکے گا؟ امریکی فوجی دستوں کے افغانستان سے نکلتے ساتھ ساتھ ان قتل کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔اس سب سے افغانستان کے اندرونی حالات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔ پچھلے ہفتے پینٹاگون کی طرف سے بھی یہ وضاحت دی گئی کہ انہوں نے افغانستان میں فوجی دستوں کی تعداد پچیس سو تک گھٹا دی ہے۔ یہ بیس سال سے جاری جنگ میں اب تک کی کم ترین سطح ہے۔ حالیہ ٹارکٹ کلنگز کے واقعات نے سنہ 1980کی قتل و غارت گری کی یاد تازہ کر دی ہے۔ مگر موجودہ حالات میں قتل ہونے والوں میں سے اکثریت ان لوگوں کی تھی جو وہاں جاری انسانی حقوق کی پامالی پر آئے روز بڑھتے تشدد کے واقعات کے خلاف توانا آواز اٹھا رہے تھے۔ خواتین کو بھی اس مرتبہ نشانہ بنا کر ایک خاص پیغام دیا جارہا ہے۔ دو خواتین ججوں کا قتل شاید دانشوروں کی نئی پود کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی ایک منظم کوشش ہے۔ مزید برآں افغان حکومتی اہلکاروں کو بھی بڑی تعداد میں نشانہ بنایا گیا ہے۔ اگرچہ ان کاروائیوں کی ذمہ داری اب تک کسی نے قبول نہیں کی مگر یہ خاصا واضح ہے کہ اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ طالبان کے انکار کے باوجود سب سے زیادہ شک انہی پر جاتا ہے۔ صدر اشرف غنی کے مطابق طالبان نے ملک میں خانہ جنگی اور انتشار انگیزی شروع کر رکھی ہے۔ افغانستان میں سرگرداں دولت اسلامیہ اور دیگرسرگرداں گروہ پہلے سے ہی امن مذاکرات کے خلاف تھے اور حالیہ پر تشدد کاروائیوں میں ان کا ہاتھ بھی ہو سکتا ہے۔ اور تو اور کچھ لوگوں کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ ان کاروائیوں میں افغان حکومت کے کارندے ہی شامل ہیں تاکہ مخالفین کے حوالے سے رائے عامہ خراب کی جا سکے۔ ٹارکٹ کلنگ کی یہ نئی لہر دوہا معاہدے کے بعد سے اور بھی شدید ہو گئی حالانکہ توقع کی جا رہی تھی کہ اس کے بعد افغانستان میں دیر پا امن کا قیام ممکن ہو سکے گا۔ مگر حقیقت یہ ہے تشدد کی حالیہ لہر نے شہریوں کو زیادہ متاثر کیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق فروری معاہدے کے بعد سے شہریوں کی ہلاکت میں 43فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ان ہلاکتوں اور کاروائیوں کے واحد ذمہ دار طالبان ہی نہیں بلکہ افغان سکیورٹی افواج کے اہلکار بھی اس میں برابر کے شریک ہیں۔ پر تشدد کاروائیوں میں اس اضافے سے افغانستان میں دیر پا امن کا خواب کھٹائی میں پڑتا نظر آرہاہے۔ خواتین ججوں کے قتل کا واقعہ بھی اسی وقت رونما ہوا ہے جب افغان حکومتی نمایندے اور طالبان کے بیچ بیس دن کے وقفے کے بعد دوہا کے مقام پر ایک مرتبہ پھر امن مذاکرات کا آغاز ہونے کو تھا۔ پچھلے مذاکراتی ادوار میں فریقین ایک اتفاق رائے پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے اور ان کی یہ باہمی رضامندی ملک بھر میں ایک دیر پا جنگ بندی کے قیام کیساتھ ساتھ مستحکم سیاسی مستقبل کیلئے لائحہ عمل تشکیل دینے میں کارگر ثابت ہوئی تھی۔ حالیہ مذاکراتی دور میں سینئر طالبان رہنماوں کی غیر موجودگی بھی ڈیڈلاک کو برقرار رکھنے کا سبب بنی ہے۔ اس دور میں شریک نہ ہونے والوں میں طالبان کے اہم رہنما ملا عبدلغنی برادر بھی تھے جو خبروں کے مطابق پاکستان میں قیام پذیر رہے ہیں۔واشنگٹن میں ہونے والی تبدیلی بھی افغان امن مذاکرات میں سست روی کا باعث بن رہی ہے۔ ابھی سب فریقین یہ دیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ نئی انتظامیہ افغان پالیسی کا کیا رخ اختیار کرتی ہے۔ اگرچہ نئی امریکی انتظامیہ کی افغانستان سے متعلق پالیسی میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں آنے والی مگر پھر بھی کچھ لوگوں کو یہ امید ہے کہ بائیڈن انتظامیہ فوجی دوستوں کو مکمل طور واپس بلانے کے فیصلے پر نظر ثانی کرے گی۔ ابھی یہ دیکھنا بھی باقی ہے کہ نئی انتظامیہ زلمے خلیل زاد کی جگہ کسے افغان امور کیلئے اپنا نیا نمائندہ نامزد کرتی ہے۔ گو کہ انہیں تبدیل کرنا اتنا آساںنہ ہوگا کہ وہ افغان نژاد ہونے کیساتھ ساتھ طالبان میں خاص اثرورسوخ کے بھی حامل ہیں۔ یہ انہی کی کاوشوں کا نتیجہ تھا کہ دوہا معاہدہ ممکن ہو سکا ۔ اگرچہ انکے صدرغنی کیساتھ تعلقات کچھ بہت اچھے نہیں البتہ وہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کیساتھ خاصے بہتر تعلقات رکھتے ہیں۔ افغان امور کی لیے نامزد ہونے والے نئے نمائندے کی سب سے اہم اور پہلی ذمہ داری یہی ہوگی کہ وہ امن مذاکرات میں حائل موجودہ ڈیڈ لاک کو ختم کرا کے طالبان کو ایک قابل قبول سیاسی حل کیلئے راضی کرے۔ مگر حالیہ پرتشدد کاروائیوں اور انتشار کی نئی لہر کیساتھ افغانستان میں امن کے امکانات خاصے معدوم محسوس ہوتے ہیں۔
( بشکریہ ڈان، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)