پاک چین تعلقات، ایک اور گیم چینجر؟

اب یہ بات قریب قریب عیاں ہو چکی ہے کہ تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا اور آنے والے زمانوں کیلئے پاکستان اور چین اقتصادی اور دفاعی شراکت داری کی مشترکہ راہ کے راہی بن چکے ہیں اور اس راہ کا نام سی پیک ہے۔ ایک مدت تک دونوں کے تعلقات بے سمت تو نہیں بے نام راہوں پر جاری رہے اور2013 میں وہ مناسب اور موزوں وقت آن پہنچا جب اس شاہراہ کو سی پیک کا نام دیا گیا۔ دونوں ملکوں کو اس منزل تک پہنچنے سے روکنے کیلئے زمانہ رقیب بن بیٹھا مگر دونوں اس راہ پر چلنے کیلئے پُرعزم رہے کیونکہ دونوں کی بقا اور سلامتی کا اس سے گہرا تعلق بن کر رہ گیا تھا۔ اب بھی سی پیک کی بساط لپیٹنا بہت سی طاقتوں کی خواہش ہے اور وہ اس کیلئے بھاری سرمایہ کاری بھی کئے جا رہے ہیں مگر پاکستان اور چین قدم بہ قدم اس راہ پر آگے بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان نے امریکہ کی نئی انتظامیہ کو سی پیک سے فائدہ اُٹھانے اور چین کیساتھ ثالثی کرانے کی پیشکش بھی کی ہے۔ پاکستان ستر کی دہائی کے اوائل میں بھی امریکہ اور چین کے درمیان راوبط کے ٹوٹے ہوئے تار جوڑنے کی خاطر مصالحت کرا چکا ہے۔ ایسے میں پاک چین اقتصادی راہداری کے ایک اور قدم کے طور پر ایک ایسی شاہراہ کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا ہے جس سے پاک چین اقتصادی راہداری کی اولیں شاہراہ یعنی خنجراب روٹ کی نسبت فاصلہ350 کلومیٹر کم ہو کر رہ جاتا ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری خنجراب کے راستے گلگت بلتستان سے آگے بڑھتی ہے جبکہ 33فٹ چوڑی یعنی دو رویہ نئی شاہراہ چینی صوبے سنکیانگ کاشغر گلگت بلتستان میں داخل ہوگی اور بلتستان کے تین اضلاع شگر، سکردو اور استور سے مظفرآباد کے راستے آگے چلی جائے گی۔ اس حوالے سے وزارت مواصلات نے گلگت بلتستان کی متعلقہ انتظامیہ کو بلوپرنٹ تیار کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ وفاقی وزیر مواصلات مرادسعید نے اس منصوبے کو قابل عمل قرار دیا ہے۔ رواں سال کے آخر تک تمام فورمز سے منظوری کے بعد شاہراہ کی تعمیر کے منصوبے کا آغاز ہوگا۔ چین کا ایک وفد شگر اور سکردو کا دورہ کرکے مقامی لوگوں سے اس حوالے سے بات چیت بھی کر چکا ہے اور مقامی لوگوں نے اس وفد کو بتایا کہ یہ تاریخی تجارتی گزرگاہ ہے۔ یہ شاہراہ خنجراب روٹ کی نسبت زیادہ سیدھی، محفوظ اور موسموں کا مقابلہ کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ شاہراہ کا یہ نیا منصوبہ کئی حوالوں سے اہم ہے۔ اس کا پہلا فائدہ تو اقتصادی ہے کہ اس سے بلتستان کے وہ علاقے مستفید ہوں گے جو سی پیک سے ہٹ کر تھے۔ اسی طرح اس روٹ کا آزادکشمیر میں داخل ہونا کئی حوالوں سے اہم ہے۔ سی پیک کے اثرات سے گلگت بلتستان کے دوراُفتادہ اور آزادکشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سمیت کئی دوسرے علاقے بھی مستفید ہوں گے۔ بلتستان اور آزادکشمیر کے لوگوں میں یہ احساس موجود تھا کہ ابھی تک سی پیک کے اثرات ان تک پوری طرح نہیں پہنچ پائے کیونکہ سی پیک کا اصل روٹ بلتستان اور آزادکشمیر ریجن کو بائی پاس کرتے ہوئے گلگت سے خیبر پختونخوا میں داخل ہو کر آگے گزرتا ہے۔ اس نئے روٹ سے چین کا پاکستان سے فاصلہ مزید گھٹ جائے گا کیونکہ یہ شاہراہ چین سے بلتستان میں داخل ہو کر تین ضلعوں سے گزرتے ہوئے جب وادیٔ نیلم میں داخل ہوگی تو اس کی اقتصادی اور سیاحتی کیساتھ ساتھ سٹریٹجک اہمیت بڑھ جائے گی۔ وادی نیلم میں یہ شاہراہ تھوڑی آگے چل کر دریائے نیلم کے دائیں کنارے پر پہنچے گی جہاں کئی مقامات پر دریا کے بائیں کنارے پرکنٹرول لائن واقع ہے اور یوں یہ شاہراہ کنٹرول لائن کیساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کے دواضلاع بارہ مولہ اور کپواڑہ کیساتھ بلکہ کیرن اور ٹیٹوال جیسے قصبوں کے سامنے سے اور بھارتی فوجیوں کی عین ناک کے نیچے سے گزرے گی۔ صاف ظاہر ہے کہ بھارتی فوج اس شاہراہ پر ہونے والی سرگرمی کو حسرت ویاس کے سوا دیکھنے کے کچھ اور کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگی۔ بلتستان کا علاقہ لداخ سے متصل ہے جہاں اس وقت بھارت اور چین کی افواج کے درمیان زبردست معرکہ آرائی چل بھی رہی ہے اور آنے والے دنوں کیلئے مزید زورآزمائی کی تیاریاں بھی جاری ہیں اور اس طرح چین کا لداخ کیساتھ فاصلہ بلتستان کی جانب سے مزید کم ہو جائے گا۔ کنٹرول لائن کے جن علاقوں سے یہ روٹ گزرے گا وہ وہی علاقے ہیں جہاں پاکستان اور بھارت کے درمیان آئے روز کشیدگی جاری رہتی ہے اور دونوں طرف سے گولہ باری اور فائرنگ کا تبادلہ معمول کی بات ہے۔ چین اب بہ آسانی وادی نیلم سمیت اس پوری پٹی تک اپنے ٹینک لاسکتا ہے۔ اس طرح پاک چین اقتصادی راہداری کا یہ نیا منصوبہ کئی حوالوں سے گیم چینجر ہے جس میں آزادکشمیر کا دفاع بھی شامل ہے۔ کسی بھی نئی کشیدگی کی صورت میں گلوان وادی پر پنگانگ جھیل کی تاریخ دہرائی جاسکتی ہے۔ خطے کے دفاعی اور سٹریٹجک داؤ پیچ میں اس شاہراہ کی تعمیر ایک فیصلہ کن اہمیت کی حامل ہے۔ اب پاکستان سے بلند پہاڑوں پر قابض اور نسبتاً بہتر سٹریٹجک پوزیشنیں سنبھالے رکھنے والی بھارتی فوج کیلئے یہ ایک ایٹم بم ہے۔ بدلتا ہوا وقت اس کی قدر اہمیت کو واضح کرتا چلا جائے گا۔